اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ فتنوں کے اس دور میں محض اُس کے فضل وکرم سے مسلمانوں میں دین کی طرف رجوع کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ باطل قوتوں کے دن رات پروپیگنڈوں اور تمام تر کوششوں کے باوجود غیر مسلم اکثریتی ممالک میں رہنے والے مسلمان نہ صرف دین پر مضبوط ہو رہے ہیں ،بلکہ کفار میں بھی اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن گیا ہے۔

انہی دینی رحجانات کا نتیجہ ہے کہ غیر مسلم اکثریتی ممالک میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم مسلمانوں نے حلال خوراک(Halaal Food) کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی اس وقت ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر گئی ہے، اس آبادی پر مشتمل عالمی حلال مارکیٹ غیر متوقع طور پر بڑھ گئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت عالمی حلال مارکیٹ (World Halaal Market)کا اندازہ 3ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ مسلمان گاہک (Muslim Customer)کی حلال ترجیحات اور بڑھتی ہوئی عالمی حلال مارکیٹ کے پیش نظر کھانے پینے کی اشیا مہیا کرنے والے افراد اور اداروں(Food Proviedrs)نے بھی حلال خوراک فراہم کرنے کا پروگرام شروع کردیا ہے۔


٭…تحلیل و تحریم میں ذرا سی بے احتیاطی سے بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لعنت میں گرفتار ہو سکتا ہے ٭…حلال سرٹیفیکیشن والے حتمی فیصلے سے پہلے مستند مفتیان کرام کی طرف رجوع کریں ٭…کسی چیز کو شرعی دلیل سے ہٹ کر حلال یا حرام کہنا خدائی منصب پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے

شروع شروع میں کمپنیاں اپنی طرف سے اپنی مصنوعات پر لفظ حلال لکھا کرتی تھیں چونکہ ان اداروں میں اکثرغیر مسلموں کی ملکیت ہیں، اس لیے شرعا ً اس خود ساختہ دعوے (Self claim) کا اعتبار نہیںکیا جاسکتا ،مگر اب یہ امر خوش آئندہے کہ دنیا میں حلال سرٹیفیکیشن کے ادارے وجود میں آنا شروع ہوگئے ہیںاور رفتہ رفتہ معاشی فوائد کے پیش نظر حکومتی سطح پر بھی اس میدان میں دلچسپی دیکھنے کو مل رہی ہے، چنانچہ اس وقت مختلف ممالک میں حکومت کی نگرانی میں حلال سرٹیفیکیشن کا کام اسی دلچسپی کا ایک مظہر ہے۔
حلال سرٹیفیکیشن کا کام جن معیارات (Standards)کی بنیاد پر ہوتا ہے وہ معیارات صرف حلال وحرام کے بنیادی شرعی لوازمات وشرائط (Menimum Criteria)پر مشتمل نہیں، بلکہ ان میں ایسی چیزیں بھی شامل کی گئی ہیں جو شریعت میں پسندیدہ توہیں،تاہم ان کے نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چیز حرام نہیں ہوتی۔ ان اضافی معیارات میں خوراک کی صفائی وحفاظت (FoodSafty & Hygiene)معیار کی حفاظت(Quality Control) اور CSRوغیرہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ حلال و حرام ایک خالص شرعی مسئلہ ہے۔ قرآن وسنت میں اس حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں۔ ایک طرف اگر حلال کھانے کی ترغیب اور حرام سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے تو دوسری طرف اس بارے میں بھی اسلام کی تعلیمات کافی سخت اور غیر لچکدار ہیں کہ حلال وحرام کے مسئلے میں عقل کو کوئی دخل نہیں،بلکہ شریعت نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ حلال اورجن کو حرام کیا ہے وہ حرام ہیں۔ اوریہ بات شرعاً سخت ممنوع اور باعثِ لعنت ہے کہ کسی شرعی دلیل کے بغیر حلال چیز کو حرام یا کسی حرام چیز کو حلال قرار دیا جائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حلال وحرام یا تحلیل وتحریم کا مسئلہ ایک دو دھاری تلوار ہے جس میں ذراسی بے احتیاطی سے بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لعنت میں گرفتار ہوسکتا ہے۔
اس وجہ سے اس بات کی اشدضرورت ہے کہ قرآن وسنت کی رو سے اس مسئلے کی حساسیت کو دیکھتے ہو ئے احتیاط سے کام لیاجائے۔ اس حوالے سے مختلف سرکاری وغیر سرکاری حضرات سے میٹنگزو پروگرامز کے موقع پرایسی باتیں سننے میں آتی ہیں جو بعض اوقات لاعلمی کی وجہ سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہہ رہے ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ بسااوقات کسی حلال چیز کی صفائی مروجہ معیار کی نہ ہونے کی وجہ سے اس کو حرام کہنے پرزورہورہا ہوتا ہے تو بعض دفعہ سننے میں آتا ہے کہ خالص شرعی حرام چیز کو محض ظاہری صفائی ستھرائی کی وجہ سے جائز کہا جارہا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی ضرورت ہے کہ آیات واحادیث کا مختصر تذکرہ کردیا جائے جو اس بارے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں:
ذیل میں قرآن مجید کی چند آیات اور چند احادیث مبارکہ کا ترجمہ نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کہو کہ آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندو ں کے لیے پیدا کیا ہے،اور(اسی طرح )پاکیزہ رزق کی چیزوں کو؟ کہو کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کو یہ نعمتیں جو دنیا میں ملی ہوئی ہیں ، قیامت کے دن خالص انہی کے لیے ہوں گی ۔ ‘‘( الأعراف:32) ایک جگہ اس بات کو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا کہا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی طرف سے بغیر دلیل کے کسی چیز کو حلال یا حرام کہتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں جھوٹی باتیں بناتی ہیں، ان کے بارے میں یہ مت کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھوگے۔ یقین جانوکہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ فلاح نہیں پاتے۔‘‘ (النحل:116 )
اس کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور الزام تراشی میں ہر وہ آدمی شامل ہے جو کوئی ایسی بدعت شروع کرے جس کے بارے میں اس کے پاس شرعی دلیل نہ ہو۔ یا محض اپنی رائے اور خواہش کی وجہ سے اس چیز کو حلال کہے جس کو اللہ نے حرام کیا ہے یا ایسی چیز کو حرام کہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر :609/4)
ایک آیت کریمہ میں ارشادہے۔’’حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں، جنہوں نے اپنی اولاد کو کسی علمی وجہ کے بغیر محض حماقت سے قتل کیا ہے اور اللہ نے جو رزق ان کو دیا تھا اسے اللہ پر بہتان باندھ کر حرام کر لیاہے، وہ بری طرح گمراہ ہو گئے ہیں اور کبھی ہدایت پر آئے ہی نہیں۔‘‘ (الأنعام140) ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتااور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ،اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ ‘‘ (المائدۃ:87، 88)
احادیث مبارکہ میں بھی اس مسئلے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ایک حدیث شریف میںاس پرلعنت کے الفاظ آئے ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے : ’’اللہ تعالی یہودیوں پر لعنت کریں(کیونکہ)ان پر چربی حرام کر دی گئی تھی توانھوں نے (یہ حیلہ کیا کہ)چربی کو پگھلایا پھر بیچنے لگے (کہ اب تو حلال ہے۔) (صحیح بخاری) ایک حدیث شریف میں آتا ہے:’’ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کیا ہے وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام کیا ہے وہ حرام ہے اور جس چیز سے سکوت فرمایا ہے وہ معاف ہے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دی ہوئی عافیت کو قبول کرو۔‘‘ (غایہ المرام :للالبانی)
ایک طویل حدیث میں آتاہے کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے نصرانیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کہ ’’یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ کے بجائے اپنے احبار (یہودی علمائ) اور راہبوں (یہودی درویشوں) کو خدا بنا لیا ہے اور ابن مر یم کو بھی، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے۔ ‘‘ (التوبہ:31) یہ سن کر عدی بن حاتم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انہوں نے ان مذہبی پیشواؤںوعلما کی عبادت تو نہیںکی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جی ہاں، لیکن انہوں نے یہ کیا کہ ان علما نے ان پر حلال کو حرام کیا اور ان کے لیے حرام کو حلال کیا، تو ان یہودیوں اور عیسائیوں نے ان کا اتباع کیا، پس یہی تو ان کی عبادت ہوئی۔‘‘ (الترمذی) گویا کہ کسی چیز کو شرعی دلیل سے ہٹ کر حلال یا حرام کہنا خدائی منصب پر قبضہ کرناہے۔
ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ آپ لوگ وہ کام نہ کرو جو یہودی کیا کرتے تھے کہ چھوٹے چھوٹے حیلوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے لگو۔‘‘ (تہذیب سنن ابی داؤد)
علامہ سیوطیؒ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ بعض اوقات بندہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے کرنے کا حکم دیاہے اور اس سے منع کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں ’’کذبت‘‘۔ یعنی تم نے جھوٹ بولا۔ اور بعض اوقات بندہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز حرام کی ہے اور یہ چیز حلال کی ہے تو اللہ عز وجل فرماتے ہیں ’’کذبت‘‘۔ تم نے جھوٹ بولا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی:204/9)
ان آیات واحادیث کو نقل کرنے کاہر گز مقصد یہ نہیں کہ حلال سرٹیفیکیشن کا جوا ہم کام شروع ہوا ہے، اس کی حوصلہ شکنی کی جائے، بلکہ محض اس طرف توجہ دلاناہے کہ حلال وحرام ایک نازک دینی مسئلہ ہے۔ اس میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے اورجیسا کہ آیات واحادیث سے معلوم ہوا کہ کسی حلال چیز کو اپنی رائے وخواہش یا کم علمی کی وجہ سے حرام کہنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان تراشی ہے اس طرح کسی حرام کو حلال کہنا بھی اللہ کی لعنت کا سبب ہے۔
لہذا یہ بات ضروری ہے کہ حلال سرٹیفیکیشن کرنے والے ادارے ، اس کے لیے معیارات بنانے والے سرکاری محکمے ا س بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس معاملے میں حتمی فیصلے سے پہلے مستند مفتیان کرام کی طرف رجوع کر یں اور جب ان کی طرف سے کوئی فیصلہ ہوجائے ، اس کو نافذ کیا جائے ، ورنہ شدید خطرہ ہے کہ شرعی علوم سے نا بلد لوگ افراط وتفریط کا شکار ہو کر،امت کو گمراہی میں ڈال دیں اور اس طرح اپنی دنیا بھی برباد کردیں اور آخرت بھی تباہ کربیٹھیں۔نعوذ باللہ من ذالک۔
کسی چیز کو شرعی دلیل سے ہٹ کر حلال یا حرام کہنا خدائی منصب پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔کسی حلال چیز کو اپنی رائے وخواہش یا کم علمی کی وجہ سے حرام کہنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان تراشی ہے اس طرح کسی حرام کو حلال کہنا بھی اللہ کی لعنت کا سبب ہے۔

{fcomment lang=en_GB}[module-214]