تعریف

یہ ایک کیمیائی مرکب ہے، جس کا کیمیائی فارمولاC4H6N4O3 ہے۔ اسے 5-ureidohydantoin، glyoxyldiureide اور udder cream وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ یہ درحقیقت گلائی اُکسیلِک ایسڈ(glyoxylic acid) میں پایا جانے والا ایک نائٹروجنی مادہ ہے، جس میں یوریا کے 2 مالیکیول پائے جاتے ہیں۔ اس کو الینٹوئن اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اکثر

دودھ پلانے والے جانوروں، رینگنے والے جانوروں اور پرندوں کے رحم میں جنین کے اردگرد بننے والے ایک تھیلی نما پرت الینٹوِس (Allantois)، جسے اردو میں غلافِ جنین کہا جا سکتا ہے، میں جمع ہوجا تا ہے۔ یہی allantois نامی پرت دودھ پلانے والے
جانوروں میںآنول (placenta) اور ناف (umbilicalcord) کے بنانے میںاہم کردار ادا کرتا ہے اوربچے کی پیدائش کے بعد فاسد نائٹروجنی مادے زیادہ تر اسی کے واسطے سے پیشاب کے راستے خارج ہوتے ہیں۔ الینٹوئن اکثردودھ پلانے والے جانوروں( بشمول گائے )اور ان جانوروں کے جنین کے پیشاب، غلافِ جنین کی رطوبتوں اور کمفری (comfrey)نامی پودے کے عرق میں موجود ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں یہ عموماً سفیدبے بو پاؤڈر کی شکل میں ملتا ہے۔
مآخذ vمختلف نباتات جیسے کمفری (comfrey)، بیئربیری (Bearberry)، گندم (wheat)، چقندر (Sugar beet) تمباکو کا بیج، بابونہ (Chamomile) اور شاہ بلوط (Horse Chestnut) وغیرہ۔ تاہم الینٹوِئن کے حصول کے لیے ان میںسے سب سے زیادہ استعمال کمفری نامی پودے کا کیا جاتا ہے۔ vگائے اور دیگر دودھ پلانے والے جانوروں کا پیشاب vیوریا (Urea) یا اس سے ماخوذ یورِک ایسڈ (Uric acid)۔ واضح رہے کہ اگرچہ یوریا دودھ پلانے والے جانوروں کے خون اورپسینے میں بھی پایا جاتا ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا ذریعہ ان جانوروں کا پیشاب ہے۔ vگھونگے (snail)کی رطوبتیں vمصنوعی (synthetic) ذرائع وغیرہ www.cosmeticsinfo.org کے مطابق کاسمیٹکس اور شخصی نگہداشت میں استعمال ہونے والا الینٹوئن زیادہ ترurea اور glyoxylic acid سے ماخوذ ہوتا ہے۔ البتہ کاسمیٹکس کے اجزا تیار کرنے والے ایک اور ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق آج کل یہ زیادہ تر مصنوعی ذرائع سے تیار کیا جاتا ہے۔ http://www.bulkactives.com/allantoin.htm استعمال الینٹوئن کا استعمال درج ذیل مصنوعات میں عام ہے: vعام استعمال کی کاسمیٹک مصنوعات(over-the-counter cosmetics)، مثلاً: لِپ سٹک، جلد کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں، بعض لوشن ، بالوں کی مصنوعات، مثلا: شیمپو اور میک اپ کی بعض مصنوعات وغیرہ۔ ان مصنوعات میں یہ active ingredient کے طور پر استعمال ہوتا ہے، کیونکہ اس سے keratosisنامی جلدی مرض سے افاقہ ہوتا ہے۔ نیز یہ اپنی مرطوبی (moisturizing) خصوصیات کے سبب جلد کی اوپری تہہ کے مردہ خلیوں کے جھڑنے کے عمل (desquamation)کو تیزکرکے اسے نرم و ملائم بناتا ہے۔ نئے خلیوں کی تیاری اور تکثیر میں مدد دیتا ہے، زخموں کے مندمل ہونے میں معاون ہے، خارش سے حفاظت کرتا ہے،جلد کوخشکی اور بڑھاپے کے اثرات سے بچاتا ہے۔ vمنہ اور دانتوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات، مثلاً: ٹوتھ پیسٹ، ماؤتھ واش وغیرہ vمتعدد جلدی امراض، مثلا: چنبل(Psoriasis)، امپِٹائیگو (Impetigo)، پھوڑے پھنسی (acne)، داد (Eczema) اور جلد کی پھٹن (laceration) کے علاج میں استعمال ہونے والی کریمیں وغیرہ v بعض دیگر امراض، مثلاً: رگڑ (Bruises)، جلنے کے نشانات (Burns)، زخم کے نشان (Scar)، شیر خوار بچوں کی رانوں اور ان کے آس پاس ہونے والی خارش (DiaperRash)، جلن یا سوزش (Inflammation)، کاربنکل(Carbuncle)، جوڑ کا اترجانا (JointDislocation)، ہڈیوں کاٹوٹنا (Fracture)، دھوپ کے سبب پیدا ہونے والی جلن (sunburn) اور موچ (Sprain) وغیرہ کے علاج میں استعمال ہونے والی کریمیں اور مرہم الینٹوئن دیگر اجزا میں الینٹوئن اور بعض دیگر اجزا کو ملاکر نئے اجزا و مرکبات بھی تیار کیے جاتے ہیں، تاکہ مطلوبہ خصوصیات حاصل کی جاسکیں۔ ذیل میںایسے ہی چند مرکبات اور اجزائے ترکیبی ذکر کیے جارہے ہیں جن میں الینٹوئن استعمال کیا جاتا ہے:

،AllantoinBiot،Allanotin salt of vitamin C،Allantoin salt of vitamin B7.
AllantoinGalacturonic Acid،AllantoinGlycyrrhetinic Acid،AllantoinPanthenol،Aluminiumsalts. AluminiumchlorhydroxyAllantoinate،AluminiumdihydroxyAllantoinate.
AluminiumchlorhydroxyAllantoinate propylene glycol،AllantoinN Acetyl Dl Methionine etc. الینٹوئن کے ماخوذات
الینٹوئن سے کچھ اجزا اخذ بھی کیے جاتے ہیں،مثلاً: Alcloxa, Aldioxa۔ یہ دونوںکاسمیٹکس اور دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں۔ نقصان
اجزائے ترکیبی کے حوالے سے معروف امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے اسے محفوظ قرار دیتے ہوئے کھلے عا م فر وخت ہونے والی کاسمیٹک مصنوعات میںاس کی 0.5 تا2فیصد مقدار بطور ایکٹوانگریڈینٹ (Active ingredient) استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ شرعی حکم
vنباتات سے ماخوذ الینٹوئن اصلاً پاک اور حلال ہے ۔ جب تک اس کواخذ کرنے میں یا بعد ازاںکسی مرحلے پر، کسی حرام یا ناپاک چیز کی آمیزش یقینی طور پر ثابت نہ ہوجائے، اس کو پاک اور حلال ہی قرار دیا جائے گا۔
vیوانی ذرائع سے ماخوذ الینٹوئن اصلاً ناپاک اور حرام ہے اور جب تک اس کے حلال یا پاک ہونے کی کوئی شرعی دلیل، مثلاً: تبدیلِ ماہیت(Change of State)، یقینی طور پرنہ پائی جائے اس کو ناپاک اور حرام ہی قرار دیا جائے گا۔
vمصنوعی(Synthetic) ذرائع سے تیار شدہ اجزا کا حکم ان ذرائع کو دیکھ کر لگایا جائے گا۔ چنانچہ اگر یہ مصنوعی ذرائع حلال اور پاک ہوں تو ان سے تیار شدہ اجزا بھی حلال اور پاک ہوںگے ۔ اگریہ مصنوعی ذرائع حرام اور ناپاک ہوں توان سے تیار شدہ اجزا بھی اصلاً ناپاک اور حرام قرار پائیں گے۔ جب تک ان کے حلال یا پاک ہونے کی کوئی شرعی دلیل، مثلاً: تبدیلِ ماہیت، یقینی طور پر نہ پائی جائے انہیں ناپاک اور حرام ہی قرار دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بہت سے حضرات اور ادارے مصنوعی ذرائع سے تیار شدہ اجزا کو مطلقاً حلال اور پاک قرار دے دیتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ طریقہ شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ بطور ماخذ استعمال ہونے والے اجزا بھی تو حیوانات، نباتات اور جمادات میں سے ہی ہوں گے۔