''لارڈ'' دراصل ان روغنیات/شحمیات (Fats) کا نام ہے جنہیں سائنس کی زبان میں Glycerides کہا جاتا ہے۔ یہ تیل کی طرح ہوتا ہے اوراسےFat Animal ، Shortening Animal ، Adeps ،Crude Lard اور Leaf Lard وغیرہ ناموں سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ان میں سے کچھ نام تو اس کے مختلف درجوں یا ماخوذات کو ظاہر کرتے ہیں اور کچھ اس کی

حقیقت کو چھپانے کی ایک کوشش ہیں۔ انڈسٹری میں ایک اصطلاح نباتاتی لارڈ(Vegetable Lard) کی بھی استعمال ہوتی ہے، اس سے کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ یہ فی الواقع ایک نباتاتی روغن (Vegetable Oil)

ہے جسے بعض خصوصیات میں لارڈ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے لارڈ کہا جا تا ہے۔  

ماخذ (Source)

 لارڈ زیادہ تر خنزیر سے حاصل کیا جا تا ہے ،اگرچہ گائے وغیرہ سے بھی اس کاحصول ممکن ہے۔یہ کسی بھی ایسے عضو سے حاصل کیا جا سکتا ہے جس میں شحمی ریشے(Fatty Tissues) کثیر مقدار میں جمع ہوں۔ ان شحمی ریشوں کو سادہ الفاظ میں چربی بھی کہہ سکتے ہیں، تاہم اس کی خاص اقسام مخصوص اعضاء کی چربی سے حاصل کی جاتی ہیں، چنانچہ اس کی سب سے بڑھیا قسم لیف لارڈ(Leaf Lard) کمر کے اندرونی حصے اور گردوں کے ارد گردموجود چربی سے تیار کی جاتی ہے۔ دوسرے درجے کا لارڈ'' فیٹ بیک ( Fatback )''نامی حصے سے حاصل کیا جاتا ہے جو دراصل خنزیر کی پیٹھ کی کھال اور پٹھے کے درمیان پائی جانے والی چربی (Subcutaneous Fat) ہے۔ سب سے آخری درجے کا لارڈ خنزیر کے نظام انہضام ، مثلاً: چھوٹی آنت کے ارد گرد پائی جانے والی Caul Fat نامی چربی سے حاصل کیا جا تا ہے۔ مارکیٹ میں ملنے والا لارڈ عام طور پرخنزیر کے تمام حصوں سے حاصل ہونے والی چربی کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض دیگر اجزا (Additives)بھی ملائے جا تے ہیں۔ تیاری(Production)

لارڈ تیار کرنے کے لیے اکثر وبیشتر چربی کو پگھلایا جا تا ہے، البتہ چربی کو پگھلائے بغیر بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے اوراسی لیے لارڈ کو خنزیر کی چربی بھی کہا جا تا ہے ۔ چربی کو پگھلا کر لارڈ تیار کرنے کے طریقے کو ''رینڈرنگ(Rendering)'' اور اس طریقے سے تیار شدہ لارڈ کو ''رینڈرڈ لارڈ (Rendeard Lard) ''کہا جاتا ہے۔ اسے تیار کرنے کے 2 طریقے ہیں: پہلے طریقے میں چربی کو پانی میںڈال کر ابالا جاتا ہے یا پھر اسے انتہائی تیز درجہ حرارت پر بھاپ دی جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں لارڈ پانی سے اوپر آجاتا ہے اور اسے بآسانی الگ کرلیا جاتا ہے۔ اس طریقے کو ''ویٹ رینڈرنگ (Wet Rendering)'' کہتے ہیں اور ''لارڈ'' سے عام طور پر اسی طریقے سے حاصل کردہ لارڈ مراد ہوتا ہے، دوسرے طریقے میں چربی کو پانی میں ملائے بغیرکسی برتن میں رکھ کر اسے انتہائی تیز حرارت پہنچائی جاتی ہے جس سے لارڈ الگ ہوجاتا ہے۔ اس طریقے کو''ڈرائی رینڈرنگ (Dry Rendering)''کہا جاتا ہے اوراس طریقے سے حاصل کردہ لارڈ کو''ڈرپنگ(Dripping)'' یا ''شمالس (Schmalz)'' بھی کہا جا تا ہے۔ لارڈکے ماخوذات:

لارڈ سے اور بھی مختلف اجزا تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو صرف لارڈ سے اخذ(Derive) کیے جاتے ہیں اور کچھ لارڈ اور دیگر اجزا کو ملا کر تیار کیے جاتے ہیں۔ ایسے چند اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں: کیپرِک ایسڈ(Capric Acid)، لینا لن(Lanolin)،گلیسرین (Glycerin)، شارٹننگ (Shortening)، کریکلنگز(Cracklings)، سٹیئرِن(Stearin)،او لئین(Olein)، پالمیٹن(Palmitin)، پولی گلِسرول ایسٹرز آف لارڈ(Polyglycerol Esters of Lard)، لارڈ گلسرائیڈز (Lard Glycerides)اور ہائیڈروجینیٹِڈ لارڈ (Hydrogenated Lard)وغیرہ. (بحوالہ:

     Whar is Lard ?   and    Cosmetics Info

استعمال: اﷲ بچائے


اﷲ بچائے۔۔۔۔۔۔ خنزیر خوروں کے نزدیک لارڈ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خنزیر کا گوشت۔ یہی وجہ ہے اس کا استعمال کئی صدیوں سے جاری ہے۔ 19 ویں صدی میں شمالی امریکا اور متعدد یورپی ممالک میں اسے مکھن جتنی مقبولیت حاصل تھی اور اسے مکھن ہی کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں بھی اس کی اس مقبولیت میں کمی نہ آئی

 خنزیر خور وں کے نزدیک لارڈ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خنزیر کا گوشت۔ یہی وجہ ہے اس کا استعمال کئی صدیوں سے جاری ہے۔ 19 ویں صدی میں شمالی امریکا اور متعدد یورپی ممالک میں اسے مکھن جتنی مقبولیت حاصل تھی اور اسے مکھن ہی کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں بھی اس کی اس مقبولیت میں کمی نہ آئی اور طویل عرصے تک لوگ اسے نباتات سے حاصل ہونے والے روغنیات(Vegetable Oils) پر ترجیح دیتے رہے، کیونکہ یہ ان روغنیات کے مقابلے میں سستا پڑتا تھا۔ البتہ جب صنعتی انقلاب کی بدولت نباتاتی روغنیات سستے ہوئے اور یہ بھی دعوی کیا گیا کہ یہ روغنیات لارڈ کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہیں، نیزگائے کی چربی (Beef Tallow) بھی استعمال ہونے لگی توخنزیر سے ماخوذلارڈکے استعمال میں قدرے کمی آگئی۔ آج بھی اس کی طلب میں اتار چڑھاؤ تو آتا رہتا ہے لیکن اس کے استعمال میں کوئی بہت زیادہ نمایاں کمی نہیں آئی۔ چنانچہ 2006ء میں برطانیہ کو لارڈ کے ''بحران'' کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسی سال ہنگری اور پولینڈ میں اس کے ماخذ( یعنی خنزیر کی چربی) کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔ نیز اقوام متحدہ کے ادارے FAO کی طرف سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق لارڈ کی کل عالمی پیداوار 2009 ء میں 55 لاکھ 85 ہزار 34 ٹن، 2010ء میں 56 لاکھ9 ہزار 8 سو 15ٹن اور 2011ء میں 57 لاکھ 54 ہزار 7 سو 94 ٹن رہی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہرسال اس کی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ 2011ء میں خنزیر کے گوشت کی کل پیداوار 10کروڑ 86 لاکھ 42 ہزار 62 میٹرک ٹن رہی اور چین 5 کروڑ 16 لاکھ63 ہزار 5 سو 74 میٹرک ٹن سالانہ پیداوار کے ساتھ سرفہرست رہا۔ ان اعداد وشمار سے صاف ظاہر ہے کہ ایک تو لارڈ اب بھی بہت بڑی مقدار میں استعمال ہورہا ہے، دوسرے اس کی پیداوار ہرسال بتدریج بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک تو اس کی افا دیت کو ثابت کرنے کے لیے بھی دنیا میںبہت سے ادارے کام کررہے ہیں، دوسرے دیگر روغنیات کے مقابلے میں یہ سستا پڑتا ہے ۔ لارڈ پر مشتمل مصنوعات درج ذیل میں مصنوعات میں لارڈیا اس سے ماخوذ اجزا استعمال ہوتے ہیں:1 کھانا پکانے کے متعدد طریقوں Cuisines اور ڈشوں بالخصوص برطانیہ، وسطی یورپ، چین اور میکسیکو کے متعدد کھانوں میں اس کا استعمال پکانے کے تیل(Cooking Fat) اور روٹی وغیرہ پر لگانے کے لیے Spread کے طور پر کیا جاتا ہے، نیز گندھے ہوئے آٹے میں بھی ملایا جا تا ہے ۔ 2 مصنوعی مکھن(Margarine)، بیکری اور بسکٹ کی بعض اقسام میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ 3 کاسمیٹکس اور شخصی حفاظت اور نگہداشت کے لیے تیار مصنوعات(Personal CareProducts) جیسے صابن، ٹوتھ پیسٹ ،لپ سٹک،آئی لائنر( Eyeliner )، لپ گلاس (Lip Gloss)وغیرہ میں اس کا ستعمال عام ہے۔ ان مصنوعات میں یہ مختلف اجزائے ترکیبی کو باہم جوڑ کر رکھنے کے لیے بطور ''ایملشن سٹیبلائزر(Emulsion Stabilizer)'' اور جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے بطور''سکن کنڈیشننگ ایجنٹ ( Conditioning Agent Skin)ـ'' اور''سرفکٹینٹ(Surfactant)''استعمال کیا جاتا ہے ۔ 4 دواؤں، بالخصوص مرہم(Ointment)، بالوں کی نگہداشت اور بڑھوتری کے لیے استعمال ہونے والی خوشبودار مرہم (Pomade) اور گوشت میں لگنے والے ٹیکوں(i.m injections)کی بعض اقسام میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ 5 بعض خشک غذاؤں کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے کاٹن کے دھاگوں میں بھی لارڈ استعمال ہوتا ہے۔

متبادل 1

لارڈ کا سب سے بہترین متبادل نباتاتی تیل اور روغنیات ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں بہت بڑی مقدار میں تیار اور استعمال ہورہے ہیں۔ چنانچہ

Oilworld 2012 کی رپورٹ کے مطابق2011ء میں نباتاتی روغنیات کی کل عالمی کھپت تقریبا 13کروڑ 50 لاکھ ٹن رہی۔ چند مشہور نباتاتی روغنیات کے نام یہ ہیں: روغنِ سورج مکھی (Sunflower oil)، روغن ِ زیتون(Olive oil) ، روغنِ مکئی(Corn oil)، روغنِ پام(Palm oil)، روغنِ ناریل (Coconut oil)، روغنِ بنولہ(Cottonseed oil) اورروغنِ بادا(Almond oil) وغیرہ۔

 2 شرعی طریقے سے ذبح شدہ حلال جانور، مثلا: گائے، بھینس ،بکری، بھیڑ اوردنبے وغیرہ کی چربی بھی خنزیر سے ماخوذ لارڈ کا اچھا متبادل ہے۔ شرعی حکم خنزیر کی چربی سے تیار شدہ لارڈ اس کے دیگر اجزا اور اعضا کی طرح حرام اور ناپاک ہے، لہذا کسی بھی قسم کی مصنوعات میں اس کا یا اس کے ماخوذات کا استعمال جائز نہیں۔ ہاں! اگر تبدیل ماہیت ثابت ہوجائے تو حکم بھی بدل جائے گا، لیکن چونکہ اس کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ لارڈ، اس کے ماخوذات اور ان پر مشتمل مصنوعات سے مکمل طور پر اجتناب برتا جائے۔ نیز لارڈ چونکہ زیادہ تر خنزیر کی چربی سے تیار کیا جاتا ہے اور اگر کسی حلال جانور کی چربی سے تیار ہوتا بھی ہے تو غیر مسلم ممالک میںاس کو شرعی طریقے سے ذبح کرنے کا عموماً اہتمام نہیں ہوتا، اس لیے جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو لارڈ کو خنزیر سے ماخوذ اور حرام و نا پاک ہی سمجھا جائے ۔البتہ خارجی استعمال کی مصنوعات جیسے صابن، شیمپو وغیرہ میں اکثر وبیشتر انقلابِ ماہیت ہوجاتا ہے۔ اس لیے ا یسی مصنوعات کو استعمال کرنا حرام نہیں، اگرچہ ان کے استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔