٭۔۔۔۔۔۔''کولاجن'' جانوروں، بالخصوص ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کے گوشت اور اتصالی ریشوں (Connective Tissues) میں پائے جانے والے پروٹینز کے ایک گروپ کا نام ہے ٭۔۔۔۔۔۔ دنیا کا قدیم ترین گلو 8000 سال پہلے استعمال ہوتا تھا اوروہ بھی کولاجن سے بنا ہوا تھا۔ آج کل بلامبالغہ ہزاروں مصنوعات میں کولاجن یا اس کے ماخوذات استعمال ہورہے ہیں

 ٭۔۔۔۔۔۔ شرعی حکم یہ ہے کہ حلال ذرائع سے ماخوذ کولاجن کا استعمال جائز ہے اور حرام ذرائع انسانوں کے ماخوذات سے حاصل کردہ کولاجن کا استعمال نا جائز ہے 
''کولاجن'' جانوروں، بالخصوص ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کے گوشت اور اتصالی ریشوں (Connective Tissues) میں پائے جانے والے پروٹینز کے ایک گروپ کا نام ہے۔ پروٹین کے مختلف گروہوں میں اسے scleroprotein نام دیا گیا ہے۔ یہ اتصالی ریشوں کا اہم ترین جزو ہے اورممالیہ جانوروں کے جسم میں اس کی مقدار 25 سے 30فیصد ہوتی ہے جو کہ دیگرسب پروٹینز کی مقدار سے بڑھ کر ہے۔ جلد کا 75 فیصد تک اوراتصالی ریشوں (Connective Tissues) کا 80 فیصد تک کولاجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر اتصالی ریشوں میں سے یہ زیادہ تر پٹھوں (Tendons) اور ہڈیوں وغیرہ کو ان کی جگہ پرجوڑ کر رکھنے والے ریشوں (Ligaments)، کھال (Skin)، آنکھ کے ڈھیلے(Cornea)، کرکری/ نرم ہڈی (Cartilage)، عام ہڈیوں (Bones)، دانتوں، خون کی رگوں(Blood Vessels)، آنت (Gut) اور ریڑھ کی ہڈیوں کے مہروں (Intervertebral Disc) میں پایا جا تا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں سے حاصل ہونے والے کولاجن کو 28 مختلف قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔


کولاجن کو استعمال کرنے کا اصولی شرعی حکم یہ ہے کہ حلال ذرائع جیسے مچھلی ، پودوں اور حلال مذبوحہ جانوروں سے ماخوذ کولاجن کا استعمال جائز ہے، اور حرام ذرائع جیسے خنزیر ، دیگر حرام جانوروں یا غیر مذبوحہ حلال جانوروں اور انسانوں کے ماخوذات سے حاصل کردہ کولاجن کا استعمال نا جائز ہے۔

مآخذ(Sources)

کولاجن کسی بھی جانور سے حاصل کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کے اہم ترین مآخذ درج ذیل ہیں: ٭ خنزیر کی کھال اور ہڈیاں (ان سے حاصل ہونے والے کولاجن کو ''پورسائن کولاجن (Porcine Collagen)'' کہتے ہیں) ٭ گائے کی کھال اور ہڈیاں (ان سے حاصل ہونے والے کولاجن کو ''بوائن کولاجن (Bovine Collagen)'' کہتے ہیں) ٭ عطیہ کردہ مردہ انسانی جسم (Donor Cadaver)، انسانی آنول (Placenta)، ساقط شدہ بچے (AbortedFoetus) اور آپریشن وغیرہ میں ضائع ہونے والے انسانی جسم کے ٹکڑے [ان ذرائع سے حاصل شدہ کولاجن کو ''ہیومن کولاجن (Human Collagen)'' کہا جا تا ہے
٭ مچھلی کی کھال، کھپرا (scale) اور وہ اعضاء جو عام طور پرمچھلی کا گوشت وغیرہ تیار کرتے وقت پھینک دیے جاتے ہیں، انڈسٹری کی اصطلاح میں ان کو Waste Products کہتے ہیں ) ان ذرائع سے حاصل شدہ کولاجن کو ''میرین کولاجن (Marine Collagen)'' اور ''فش کولاجن (Fish Collagen)'' کا نام دیا جا تا ہے ) ٭ مرغی (اس سے حاصل شدہ کولاجن کو ''چکن کولاجن (Chicken Collagen)'' کہتے ہیں)
٭ الجائی ( اس سے حاصل شدہ کولاجن کو بھی Marine Collagen کہا جاتا ہے) اور دیگر پودے کولاجن کے عام ذرائع تو یہی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے ہیں، البتہ بیکٹیریا، کچھوے ا ور جیلی فش سے بھی جیلاٹن کے حصول کے تجربات ہوچکے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ان ذرائع سے ماخوذ کولاجن بھی عام دستیاب ہو۔ استعمال
کولاجن کا استعمال کسی نہ کسی شکل میں ہزاروںسالوں سے جاری ہے ۔ چنانچہ4000 سال پہلے مصری لوگ کولاجن پر مشتمل لئی Collagen Adhesive) ( استعمال کرتے تھے۔ امریکا میں 1500 سال پہلے کولاجن کے استعمال کا ذکر ملتا ہے، جبکہ Carbon Dating طریقے کے مطابق یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کا قدیم ترین گلو 8000 سال پہلے استعمال ہوتا تھا اوروہ بھی کولاجن سے بنا ہوا تھا۔ آج کل بلامبالغہ ہزاروں مصنوعات میں کولاجن یا اس کے ماخوذات استعمال ہورہے ہیں۔ ذیل میں مختلف مصنوعات کی ان اقسام کا ذکر کیا جارہا ہے، جن میں کولاجن بکثرت استعمال ہوتا ہے:
1 اس کا سب سے زیادہ استعمال جیلاٹن کی تیاری میں ہوتا ہے اور اسی لیے جیلاٹن کو ''ہائیڈرولائزڈ کولاجن'' بھی کہا جا تا ہے۔ جیلاٹن کھانے پینے کی متعدد اشیائ، کاسمیٹکس مصنوعات اور دواؤں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وقت اس کی سالانہ عالمی پیداوار تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اس کی 44 فیصد پیداوار خنزیر کی کھال، 27 فیصد خنزیر اور گائے کی ہڈیوں، 28 فیصد گائے کی کھال اور صرف ایک فیصد مچھلی اور دیگر ذرائع سے ماخوذ کولاجن سے حاصل کی جاتی ہے۔ (نوٹ: جیلاٹن کے بارے میں تفصیلی مضامین شمارہ نمبر 5، 7 اور 8 میں شائع ہو چکے ہیں)
2اس پر مشتمل بعض مشروبات بھی تیار کیے جا تے ہیں جن کو ''کولاجن ڈرنکس(Collagen Drinks) کہا جاتا ہے۔ نیز جسم کو طاقت پہنچانے والی کچھ اشیائ، مثلاً: سپلیمنٹ (Supplements) میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔ ایک مشہورسپلیمنٹ TOKI ہے جو خنزیر کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔
3 کاسمیٹک سرجری میںاس کا استعمال عام ہے۔ چنانچہ مشہور برانڈز Zyderm,Zyplastاور Artecoll گائے کے کولاجن پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ Autologenؑ اور Allodermؑ نامی''سکن فلرز (Skin Fillers)'' انسانی کولاجن سے تیار کیے جاتے ہیں۔
4 جوڑوں کے ورم (Osteoarthritis)، کیلشیم کی کمی کے سبب پیدا ہونے والے ہڈیوں کے ایک مرض Osteoporosis اور جل جانے والی جلد کے علاج یعنی (Burns Surgery) میں استعمال ہونے والی ادویہ نیز جلد کی نگہداشت یا علاج کے لیے استعمال ہونے والے بعض ٹیکے بھی کولاجن پرمشتمل ہوتے ہیں۔ دل کے مصنوعی والو خنزیر کے کولاجن سے بھی بنائے جاتے ہیں۔
5 کاسمیٹکس اور شخصی نگہداشت کی مصنوعات جیسے کریم، لوشن، شیمپو، ہیئر کنڈیشنر، بعض صابنوں، بالوں کے رنگوں اور میک اپ کے سامان میں بھی کولاجن استعمال کیا جاتا ہے۔
فوائد
کولاجن کے متعدد فوائد ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
٭ یہ جلد کو مضبوط اور لچکداربنا تا ہے اور جھریوں کو کنٹرول کرتا ہے ۔اس کا کردار اتنا اہم ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو جسم کے اعضا آپس میں جڑے نہیں رہ سکتے ۔اسی لیے ا
سے جسم کو جوڑ کر رکھنے والا گلو بھی کہا جا تا ہے۔اس کی کمی جلد، ہڈیوں اور جوڑوں کے متعدد امراض کا سبب بنتی ہے۔نیز جیسے جیسے انسان پربڑھاپے کے آثار بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے کولاجن کی مقدار بھی کم ہوتی جاتی ہے۔
٭ خون کی رگوں کو مضبوط کرتا ہے نیز جن ریشوں میں یہ پایا جا تا ہے ان کی نشوونما ، مضبوطی اور ان کو جوڑ کر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
٭ وزن کو کم کرتا ہے۔
٭ نظام انہضام کو اچھا کر کے پٹھوں کو مضبوط اور دوران ِ خون کوبہتربنا کر بلڈ پریشر کے مسائل کو حل کرتا ہے۔
٭ ہڈیوں، جوڑوں، دماغ اور بینائی کو طاقت فراہم کرتا ہے۔
کولاجن کی کمی دور کرنے کے قدرتی ذرائع
اس بات پر طبی ماہرین متفق نظر آتے ہیں کہ اخذ کردہ کولاجن کے فوائدعارضی ہوتے ہیں، تاہم مستقل اور زیادہ نتیجہ خیز فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی طریقے سے جسم کے اندر موجود کولاجن کی کمی دور کی جائے اور اس کا ذریعہ کھانے پینے کی قدرتی اشیا ہیں جن میں ایسے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں جو کولاجن کے بننے میں مدد دیتے ہیں۔
ذیل میں مختصر طور ان مشہو اشیا کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس سلسلے میں بہت مفید ہیں:
٭ سویا اور اس پر مشتمل مصنوعات ، زیتون ،پالک،کھیرا،گوبھی ، چقندر، ٹماٹر، گاجرنیز گہرے سبز اور سرخ رنگ والی دیگر سبزیاں اور پھل
٭ بادام، کاجو، اخروٹ ،لوبھیا،مونگ پھلی اور اس طرح کے دیگر مغز۔
٭ ترش پھل جیسے مالٹا ، سٹرا بیری، لیموں وغیرہ۔
٭ دودھ، گوشت، مچھلی اور انڈے
شرعی حکم
کولاجن کو استعمال کرنے کا اصولی شرعی حکم یہ ہے کہ حلال ذرائع جیسے مچھلی ، پودوں اور حلال مذبوحہ جانوروں سے ماخوذ کولاجن کا استعمال جائز ہے، اور حرام ذرائع جیسے خنزیر ، دیگر حرام جانوروں یا غیر مذبوحہ حلال جانوروں اور انسانوں کے ماخوذات سے حاصل کردہ کولاجن کا استعمال نا جائز ہے۔ اس اصول کی روشنی میں: ٭ جن مصنوعات میں کولاجن استعمال ہوا ہو اگر ان کے بارے میں کسی مستند ذریعے (مثلا: مستند حلال سرٹیفکیشن باڈی کے حلال لوگو) سے معلوم ہوجائے کہ ان میںاستعمال کیا گیاکولاجن حلال اور پاک ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے تو ان مصنوعات کو بلاجھجک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٭ جس مصنوع کے بارے میں ایسے کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہ ہوسکے، وہ اگر غیر مسلم ملک میں تیار شدہ ہواور اس کا تعلق داخلی استعمال سے ہوتو ایسی مصنوع کے ساتھ حرام اور ناپاک مصنوع والا معاملہ کیا جائے گا، کیونکہ ہمارے علم کے مطابق غیر مسلم ممالک میں ابھی تک کولاجن اکثروبیشتر حرام اور ناپاک ذرائع ہی سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ ٭ خارجی استعمال کی اشیا جیسے صابن، شیمپو اور لوشن وغیرہ میں کولاجن کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے خواہ ایسی اشیا مسلمانوں کی تیارکردہ ہوںیا غیر مسلموں کی، وجہ یہ ہے کہ ان اشیا میں اکثر انقلابِ ماہیت ہوجاتا ہے، لیکن اگر تقوی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی مشکوک اشیاء کے خارجی استعمال سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ بہتر ہے۔تاہم اگر یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ ان میںڈالا گیا کولاجن ناپاک ہے تویہ مصنوعات بھی ناپاک ہوں گی ۔