٭۔۔۔۔۔۔ مسلمان مینوفیکچررز کو چاہیے کہ وہ یقینی حلال ذرائع سے ماخوذ فیٹی ایسڈز ہی استعمال کریں تاکہ ان کے مسلمان صارفین اطمینان کے ساتھ ان کی مصنوعات استعمال کرسکیں
بائیو کیمسٹری کی زبان میں فیٹی ایسڈ ایک ''کارباکسل ایسڈ'' (Carboxylic Acid) ہے۔

پھر فیٹی ایسڈز کی ایک قسم کو ''اسینشل فیٹی ایسڈز'' کہتے ہیں۔ یہ وہ فیٹی ایسڈز ہیں جن کو انسانی جسم خود نہیں بنا سکتا بلکہ انہیں غذا وغیرہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ دوسری قسم کو ''نان اسینشل فیٹی ایسڈز'' کہا جا تا ہے۔ ان کو انسانی جسم خود بنا لیتا ہے۔ چند مشہور فیٹی ایسڈ یہ ہیں: پالمیٹولیئِک ایسڈ (Palmitoleic Acid)، اولیک ایسڈ (Oleic Acid)، لنولیک ایسڈ (Linoleic Acid)، ایراکڈانک ایسڈ (Arachidonic Acid)، کیپرک ایسڈ (Capric Acid)، لارِک ایسڈ (Lauric Acid)، پالمیٹِک ایسڈ (Palmitic Acid)، سٹیئرِک ایسڈ (Stearic Acid) اور میرِسٹِک ایسڈ(Myristic Acid)وغیرہ۔


٭۔۔۔۔۔۔ مسلمان مینوفیکچررز کو چاہیے کہ وہ یقینی حلال ذرائع سے ماخوذ فیٹی ایسڈز ہی استعمال کریں تاکہ ان کے مسلمان صارفین اطمینان کے ساتھ ان کی مصنوعات استعمال کرسکیں

 

مآخذ(Sources)
1 مختلف جانوروں، مثلاً: گائے، بھیڑ اور خنزیر وغیرہ کی چربی
2مچھلی
3 مختلف پودوں کا تیل و روغن ماخوذات(Derivatives)
فیٹی ایسڈ ز کبھی تو اپنی اصلی حالت میں استعمال کیے جاتے ہیں اور کبھی ان سے دیگر اجزائے ترکیبی اخذ کرکے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:E470a ، E470b، E473، E475 اور E477 وغیرہ۔ استعمال
فیٹی ایسڈز اور ان کے ماخوذات متعدد مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں: ٭ کھانے پینے کی بعض مصنوعات جیسے ٹافیاں، چاکلیٹ، چیونگم، مائیونیز، مٹھاس پیدا کرنے والے مصنوعی اجزا، سافٹ ڈرنکس، غذائی مقویات (Dietary Supplements) اور مارجرین (Margarine)، ڈیزرٹ، وغیرہ ٭ بعض دوائیں ٭ کاسمیٹکس جیسے لوشن، شیمپو، صابن، بدبو زائل کرنے والی اشیا (Deodorants) اور شیونگ کریم وغیرہ

شرعی رائے

1 فیٹی ایسڈز کا اصولی شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ پودوںیاحلال اور شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانوروں کی چربی سے ماخوذ ہوں تویہ بلا شبہ حلال اور پاک ہیں۔ اگر یہ حرام یا حلال لیکن غیر شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانوروں کی چربی سے ماخوذ ہوں تو حرام اور ناپاک ہیں۔ البتہ اگر تبدیلِ ماہیت ثابت ہوجائے تو ان کو بھی حلال اور پاک قرار دیا جائے گا، لیکن چونکہ اس کا ثابت کرنا انتہائی مشکل اور مختلف فیہ ہے، اس لیے ایسے ذرائع سے ماخوذ فیٹی ایسڈز کے استعمال سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔
2 اگرمتعین طور پر یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کسی مصنوع (پروڈکٹ) میں استعمال کردہ فیٹی ایسڈز حلال ذرائع سے لیے گئے ہیں یا حرام سے تو ایسی صورت حال میں ظنِ غالب کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے، چنانچہ اگر ظن ِ غالب یہ ہو کہ ان کا ماخذ حلال ہے تو ان کو حلال اور پاک سمجھا جائے گا اور ان کو حرام یا نا پاک قرار دینے کے لیے یقینی دلیل کی ضرورت ہوگی۔ اگر ظن ِ غالب یہ ہو کہ ان کا ماخذ حرام ہے تو انہیں حرام اور نا پاک سمجھا جائے گا اور انہیں حلال یا پاک قرار دینے کے لیے ٹھوس دلیل کی ضرورت ہوگی۔ ہماری اب تک کی معلومات کی روشنی میں اجزائے ترکیبی کے حوالے سے ایک قابل ِ اعتماد ویب سائٹwww.food-info.net کے مطابق آج کل فیٹی ایسڈز اکثر وبیشتر پودوں کے تیل سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس پر ظنِ غالب کا مذکورہ قاعدہ لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص تقوی کی بنیاد پر ایسے مشتبہ فیٹی ایسڈز کے استعمال سے اجتناب کرے تو یہ ایک پسندیدہ عمل ہے۔
یہاں ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ظن ِ غالب کا مذکورہ قاعدہ صارفین (Consumers) کے لیے یقینا سہولت کا باعث ہے ، لیکن مسلمان صانعین (مینوفیکچررز) کو چاہیے کہ وہ یقینی حلال ذرائع سے ماخوذ فیٹی ایسڈز ہی استعمال کریں تاکہ ان کے مسلمان صارفین اطمینان کے ساتھ ان کی مصنوعات استعمال کرسکیں۔
نوٹ: اس مضمون میںتمام فیٹی ایسڈز پر عمومی بات کی گئی ہے۔ لیکن چونکہ ان میں سے بعض بہت اہم اور کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اس لیے ان پر الگ سے تفصیلی گفتگو کی بھی ضرورت ہے ۔ کچھ (جیسے سٹیئرک ایسڈ) پرپہلے ہی گفتگو ہو چکی ہے اور کچھ پر ہم آئندہ شماروں میں وقتاً فوقتاً اپنی معروضات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ تعالی۔