٭۔۔۔۔۔۔ دورِ جدید میں نِت نئے اجزائے ترکیبی کی دریافت اور جدید مشینوں سے مصنوعات کی تیاری نے ایسے مسائل پیدا کردیے ہیں، جن کا درست حل ایک مستند عالم دین ہی بتا سکتا ہے
٭۔۔۔۔۔۔ شرعی امور کے ماہر کے لیے '' شریعہ افیرئز ایکسپرٹ'' کے بجائے '' شریعہ ایکسپرٹ ''یا مفتی کی اصطلاح استعمال کی جائے


حلال اکریڈیٹیشن باڈی(Halaal accreditation body) کے زیربحث معیارات میں بھی جگہ جگہ حلال و حرام مصنوعات کی تحقیق کے سلسلے میں فنّی اور ٹیکنیکل مہارتوں (Technical expertise) کے ساتھ ساتھ علمی اور شرعی مہارت کی ضرورت و اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اکریڈیٹیشن باڈی کی حیثیت اس سلسلے میں سر ٹیفکیشن باڈی (Certification body) سے بھی زیادہ کلیدی اور مر کزی ہے، کیونکہ اکریڈیٹیشن باڈی نے ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون سی سر ٹیفکیشن باڈی (Certification body) فنی اور شرعی مہارتوں کے لحاظ سے سر ٹیفکیٹ دینے اور حلال و حرام کا فیصلہ کرنے کے کام کے لیے اہل (Competent) ہے اور کون سی نہیں؟ اس لیے بالفرض اگر فنی اور شرعی لحاظ سے نااہل کسی بھی ادارے کو سر ٹیفکیشن کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری اکریڈیٹیشن باڈی پر آئے گی، اس تناظر میں یہ واضح ہے کہ اکریڈیٹیشن باڈی اپنی اس حساس، قانونی اورشرعی ذمہ داری سے بہتر انداز میں اسی وقت عہدہ بر آہو سکتی ہے، جبکہ خود اس کو فنی اور شرعی دونوں طرح کی مہارتوں کے لوگ میّسر ہوں، اسی حقیقت کے پیشِ نظر حلال فاؤنڈیشن ایکریڈیٹیشن کے زیرِ بحث معیار سے متعلق درج ذیل تجاویز پیش کرتا ہے:
شرعی نگرانی کے نظم سے متعلق تجاویز


٭۔۔۔۔۔۔ دورِ جدید میں نِت نئے اجزائے ترکیبی کی دریافت اور جدید مشینوں سے مصنوعات کی تیاری نے ایسے مسائل پیدا کردیے ہیں، جن کا درست حل ایک مستند عالم دین ہی بتا سکتا ہے ٭۔۔۔۔۔۔ شرعی امور کے ماہر کے لیے '' شریعہ افیرئز ایکسپرٹ'' کے بجائے '' شریعہ ایکسپرٹ ''یا مفتی کی اصطلاح استعمال کی جائے

1 (بحوالہ: پیش لفظ اور شق نمبر4.3.2) ہماری پہلی تجویز یہ ہے کہ اکریڈیٹیشن باڈی کو اپنی مرکزی انتظامیہ میں فنی مہارت کے حامل لوگوں کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر شرعی علوم کے ایک ایسے ماہرکاتقرربھی کر نا چاہیے، جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں حلال اکریڈیٹیشن باڈی کی پالیسیوں، شرائط اور سرگرمیوں پر مشورہ دینا بھی ہو اورمعیارات کی تیاری کے فنّی اور علمی کا م میں بھی وہ شریک ہو۔ اکریڈیٹیشن باڈی کی انتظامیہ میں مستندعالم دین کا تقرر اس بنا پر بھی ضروری ہے کہ اس طرح ان اکریڈیٹیشن باڈیوں کو قانونی حلقوں کے علاوہ دینی حلقوں اور عامۃ المسلمین کا اعتماد بھی حاصل ہوجائے گا۔ جن بین الاقوامی معیارات کی تیاری میں مستند اہل علم کی مناسب نمائندگی نہیں رہی، ان میں کئی ایسی مثالیں موجودہیں جن میں کہیں غیر ضروری سختی اور کہیں بے جا نرمی سے کام لیا گیا ہے۔
2 (بحوالہ : نوٹ ،شق نمبر 4.3.3) مذکورہ بالا شرعی ماہر کے بارہ میںیہ بھی تجویز ہے کہ اس کا تقرر مستقل بنیادوں پر ہو، عارضی بنیادوں (Ad hoc basis) پر نہ ہو۔ کیونکہ اکریڈیٹیشن کے علاوہ، پہلے سے اکریڈیٹیٹڈ باڈیوں (Accreditated bodies) کی آڈٹ اور جانچ پڑتال کے کام میں بھی اکریڈیٹیشن باڈی کو شرعی ماہر کی ضرورت رہے گی ۔
3 (بحوالہ: ضمیمہ A ٹیبل اے ون (A1) یہ بھی تجویز ہے کہ شرعی امور کے ماہر کے لیے '' شریعہ افیرئز ایکسپرٹ'' (Shariah affairs expert) کے بجائے '' شریعہ ایکسپرٹ ''Shariah expert) ( یا مفتی کی اصطلاح استعمال کی جائے اور اس کی ممکنہ ذمہ داریوں میں ٹیم ارکان کی قیادت کرنے اور ان کی باہمی سر گرمیوں میں تعاون کرنے کو بھی شامل کیا جائے۔
سر ٹیفکیشن باڈی کی شرائط سے متعلق
1 اس بابت (بحوالہ : شق نمبر 7.7.4) تجویز ہے کہ اکریڈیٹیشن باڈی کی طرف سے سرٹیفکیشن باڈی کے آڈٹ (Audit) کے تذکرے میں اس بات کا بھی واضح ذکر کیا جائے کہ اکریڈیٹیشن باڈی، سر ٹیفکیشن باڈی کی شرعی نگرانی کے نظم کا بھی جائزہ لے گا۔
2 نیز (بحوالہ : شق نمبر7.2.1(a)) یہ تجویز ہے کہ سر ٹیفکیشن باڈی کے شریعہ ماہر کی مہارت کا یہ کم از کم معیار بھی اکریڈیٹیشن باڈی کی طرف سے طے ہو نا چاہیے کہ وہ ایک مستندعالم دین اور مفتی ہو، کیونکہ دورِ جدید میں نِت نئے اجزائے ترکیبی کی دریافت اور جدید مشینوں سے مصنوعات کی تیاری نے بہت سے ایسے مسائل پیدا کردیے ہیں، جن کا درست حل ایک مستند عالم دین اور مفتی ہی بتا سکتا ہے، مثلاً :
(الف) انقلابِ ماہیت (Change of state) کسے کہتے ہیں اور اس کی حدود و قیود اور شرائط کیا ہیں؟ (ب) '' القلیل مغتفر'' کا ضابطہ کیا ہے اور جدید مصنوعات میں اس کی تطبیق کہاں کہاں ہو سکتی ہے؟ (ج) اشیاء میں اباحت اصل ہے یا حرمت اور اس قاعدہ سے کون کون سی چیزیں مستثنی ہیں؟وغیرہ اس جیسے سوالوں کا درست جواب ایک مستند عالم اور مفتی ہی دے سکتا ہے۔
3 اکریڈیٹیشن کے لیے پہلے سے سر ٹیفکیشن کے تجربے کی شرط نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ بظاہر سر ٹیفکیشن باڈی کو اکریڈیٹیشن سے پہلے سر ٹیفکیشن کی قانونی اجازت ہی نہ ہو گی۔
عام پالیسیوں سے متعلق
1 (بحوالہ: شق نمبر7.9.1 اور 7.9.5) یہ تجویز ہے کہ اکریڈیٹیشن کا فیصلہ بجائے ایک فرد کی رائے پر کرنے کے ایک بورڈ (Board) کو کرنا چاہیے اور اکریڈیٹیشن سر ٹیفکیٹ پر بشمول شریعہ ایڈ وائزر (Shariah advisor) کم از کم 3 افراد کے دستخط ہونے چاہییں۔
2 (بحوالہ : شق نمبر 7.11.4(a) اور شق نمبر 7.11.4(b))یہ تجویز ہے کہ جانچ کاری یعنی آڈٹ کے وقفوں کو کم کرنا چاہیے ، چنانچہ اکیلی اور محلّی جانچ کاری (Site audit) کا وقفہ ایک سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، مکرر جانچ کاری (Re-assessment) کا وقفہ بھی تین سال سے زیادہ نہ ہونا چاہیے، نیز اکریڈیٹیشن کے وقت سے پہلی جانچ کاری کا وقفہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہونا چاہیے۔