یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ روزمرہ استعمال کی اشیا میں حرام، ناپاک اور مشکوک اجزاء استعمال کیے جارہے ہیں۔مفتیان کرام اور علمائے دین حلال و حرام کی اہمیت پر ایک عرصہ سے گفتگو کر رہے ہیں، مگر دینی واسلامی احکام سے غفلت ودوری ، قانونی گرفت کی کمزوری اور سرٹیفیکیشن کا باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اپنی

مصنوعات کی تیاری میں حلال ذرائع سے حاصل شدہ اجزاء کے استعمال کا اہتمام کرتے ہیں ۔ عوام کی اکثریت بھی حلال مصنوعات کا مطالبہ نہیں کر رہی اور غیر مسلم ممالک سے آنے والی مشکوک مصنوعات کا بے دھڑک استعمال کر رہی ہے ۔ ان حالات میں علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حلال و حرام کی اہمیت کے بارے میں بتائیں ، اگر چہ علماء کے لیے بھی ایسی کسی متعین مصنوع کے بارہ میں حلال یا حرام ہونے کا حتمی حکم لگانا اس بناء پر بڑا مشکل کام ہے کہ اس وقت تک پچاس کے لگ بھگ جتنے مشکوک اجزاء ترکیبی سامنے آئے ہیں ، ان کو حلال و حرام دونوں ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے، مگر تجارتی کمپنیاں اپنی لاگت میں کمی کے لیے عمومی طور پر حرام ذرائع سے حاصل ہونے والے اجزاء کو ہی استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے جس مصنوع پر ایسے مشکوک اجزاء کا نام درج ہو اگر چہ اس کو حرام نہیں قرار دیا جاسکتا ، تاہم ایسی مصنوعات کے مشکوک ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان سے بچنے کا اہتمام کریں ، تاکہ غیر شعوری طور پر حرام اشیاء کے استعمال میں پڑ کر ان کے وبال اور مضر اثرات میں مبتلاء ہونے سے بچا جاسکے ۔
اسی مقصد کے لیے حلال آگہی اور تصدیقات کے مستند ادارے حلال فاؤنڈیشن کی طرف سے ہفت روزہ ’’شریعہ اینڈ بزنس‘‘ کے قارئین کو مشکوک مصنوعات کے حوالے سے آگہی فراہم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ، اس سلسلے کی ابتدائی قسط میں اب تک سامنے آنے والے مشکوک اجزاء ترکیبی کی فہرست دی جارہی ہے ، آئندہ اقساط میں ان شاء اللہ ان اجزاء سے متعلق قارئین کو تفصیلی آگاہی فراہم کی جائیگی ، قارئین سے التماس ہے کہ مصنوعات پر لکھے اجزاء ترکیبی کوپڑھیں اور جن مصنوعات میں مندرجہ ذیل مشکوک اجزاء استعمال کیے گئے ہوں ان کے استعمال سے اجتناب برتیں۔