قرب قیامت کے اس زمانے میں جبکہ ظاہری و باطنی فتنوں کی ایک یلغار ہے، مسلمان دانستہ یا نادانستہ طور پر حرام اشیا کے کھانے، پینے یا کسی بھی طرح کے استعمال میں مبتلا ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس حوالے سے شعور و آگہی عام کی جائے۔ اسی احساس ذمہ داری کے تحت مشکوک یا حرام اشیا یا ان میں شامل اجزا کی تٖفصیل پیش کرنے کا سلسلہ شروع

کیا گیا ہے۔ پڑھیے، خود بھی اجتناب کیجیے اور اپنے دیگر بھائیوں کو بھی بچنے کی تلقین کیجیے۔ کہیں الجھن درپیش ہو تو مستند مفتیان کرام اور معتبر اداروں سے رجوع فرمائیے۔ (ادارہ)
یہ بات تو واضح ہے کہ کھانے پینے، پہننے اور لگانے کی مختلف اشیا،مثلا:بیکری آئٹمز، کولڈڈرنکس، فاسٹ فوڈ، کاسمیٹکس وغیرہ) کے اجزائے ترکیبی(Food Additives ؍ Ingredients)مختلف مآ خذ (Sources ) سے حاصل کیے جاتے ہیں ۔ اگر یہ مآخذ نباتات(Plants )یامعدنیات( Minerals ) یا مصنوعی (Synthetic ) ذرائع سے ہوں تو ان کا فیصلہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے ،کیونکہ ظاہر ہے کہ معدنیات اور نباتات سب حلال ہیں سوائے ان کے جو زہریلے یا نشہ آور ہوں۔ لیکن اگر کسی مصنوع کا ذریعہ اور ماخذجانوریا ان کے اعضا و اجزا ہوں توایسی مصنوع کی حلت کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ایسی مصنوعات کے سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ان سے متعلق سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جانور کون سا ہے ؟آیا حلال ہے یا حرام؟پھراگر حلال بھی ہے توکیا اسے شرعی طریقے پر ذبح کیا گیا تھا یا نہیں؟ وغیرہ ۔
ایسے میں ظاہر ہے کہ ایسے اجزا ئے ترکیبی سے متعلق درست شرعی حکم ماہرین ِ شریعت ہی صادر کرسکتے ہیں۔ جس کے لیے انہیں متعلقہ سائنسی ماہرین سے بھی معاونت لینے کی ضرورت ہے ۔ تاہم اس ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے مشکوک اجزائے ترکیبی کی نشاندہی ہونی چاہیے ، تاکہ صانعین وصارفین ان کے حوالے سے علمائے کرام سے رابطہ کرکے ان سے رہنمائی لے سکیں۔ اسی سلسلے میں گذشتہ شمارے میں صانعین اور صارفین کی سہولت کے لیے ملک کے ایک مستند و معتبر ادارے ’’حلال فاوْنڈیشن ‘‘ کی طرف سے ایسے مشکوک اجزائے ترکیبی کی جو فہرست شائع کی گئی تھی،آج سے اس فہرست میں مذکورہ اجزاء کی تفصیلات قسط وار شائع کی جارہی ہیں ۔ قارئین سے التماس ہے کہ ان اجزاء کے حوالے سے گذشتہ شمارے میں درج ہدایات پر عمل کریں۔
-1جیلاٹین/جیلاٹن(Gelatine/Gelatin):
یہ ایک بے رنگ یا ہلکے پیلے رنگ کا بے بو،بے ذائقہ ،صا ف شفاف ، بھُر بھرا اور پانی میں حل پذیر پروٹین ہے، جو کولاجن (Collagen)سے حاصل کیا جا تا ہے ، جبکہ کولاجن حیوانات( بشمول مچھلی اور پرندوں )کی کھال، اتصالی ریشے(Connective Tissue) اور ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
استعمال:
کھانے پینے کی متعدد اشیا ، دواؤں، کاسمیٹکس،کیپسول کے خول اور فوٹو گرافی وغیرہ میں جیلاٹین کا استعمال عام ہے اور اس کے کئی مقاصد ہیں۔حالیہ اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس کی کل سالانہ پیداوار تقریبا 3 لاکھ 50 ہزارمیٹرک ٹن ہے، جبکہ’’ Global Industry Analysts, Inc.‘‘…جو مارکیٹ ریسرچ کے حوالے سے ایک انتہائی معتبر اور عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے… کی رپورٹ کے مطابق2017ء تک یہ پیداوار بڑھ کر3 لاکھ 95 ہزار 8 سو40میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گی، کیونکہ ادویہ ،طا قت اور فٹنس کے لیے استعمال ہونے والی اشیا اور کاسمیٹکس کی صنعتوں میں اس کی طلب میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اگر سرِ دست ہم صرف کھانے پینے ہی کی اشیا کو لے لیں تو درج ذیل گوشوارے میں اس بات کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے کہ جیلاٹین کون کون سی اشیا میں کن کن مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہے:
شمار
عمل/مقصد (Function)مصنوعات (Products)1جیل فارمر (Gel Former)جیلڈ ڈیزرٹ(Gelled Dessert)،لنچ میٹ(Lunch Meat)،کنفیکشنری، پیٹ(Pate)،کنسومے (Consomm)،ایسپک(Aspic)،2وِپنگ ایجنٹ (Whipping Agent) مارش میلو(Marshmallow) ،نوُگٹ(Nougat)،مُوس(Mousse)،سوفلے(Souffl)،شِیفان(Chiffon)،پھینٹی ہوئی ملائی (Whipped Cream)،3پروٹیکٹوِ کو لائیڈ (Protective Colloid) کنفیکشنری، آئسنگ(Icing)، آئس کریم، فروزن ڈیزرٹ، کنفیکشن 4 بائنڈنگ ایجنٹ (Binding Agent) گوشت سے تیار شدہ رول(Meat Roll)، ڈبہ بند گوشت، کنفیکشنری ، پنیر، دودھ کی مصنوعات (Dairy Products) 5 کلیریفائنگ ایجنٹ (Clarifying Agent) پھلوں کا رس ، سرکہ 6 فِلم فارمر (Film Former) پھلوں کی کوٹنگ(Coating)،گوشت، کھانے پینے کی تیار اشیا (Deli Items) 7 تھِکنر (Thickener) سفوف پر مشتمل ڈرنک مِکس (Powdered Drink Mixes)، بُویان(Bouillon)، شوربہ(Gravy)، چٹنی(Sauce)، یخنی(Soup)، پڈنگ (Pudding)، جیلی، شربت دودھ کی مصنوعات(Dairy Products) 8 پروسیس ایڈ (Process Aid) رنگوں، ذائقوں، روغنیات اور وٹامن کی مائیکرو این کیپسولیشن (Micro Encapsulation) 9 ایملسیفائر (Emulsifier) ملائی والی یخنی (Cream Soup)، چٹنی(Sauce)، فلیورنگ (Flavoring)، مِیٹ پیسٹ(Meat Paste)، پھینٹی ہوئی ملائی (Whipped Cream)، کنفیکشنری،دودھ کی مصنوعات (Dairy Products) 10 سٹیبلائزر (Stabilizer) ملائی والا پنیر(Cream Cheese)، چاکلیٹ والا دودھ(Chocolate Milk)، دہی(Yicing)، کریم فلنگ(Cream Filling)، فروزن ڈیزرٹ 11 ایڈہیسِوایجنٹ (Adhesive Agent) کنفیکشن کے ساتھ نان پریل(Nonpareil )، ناریل(Coconut) اور دیگر اشیا کو چپکانا ، تہ دار کنفیکشن کی تہوں کو جوڑنا، پکی ہوئی اشیا (Baked Goods)کے ساتھ فراسٹنگ (Frosting) کو جوڑنا، گوشت کی مصنوعات کے ساتھ مصالحہ جات (Seasonings) کو جوڑنا۔ (ماخذ :GMIA-Gelatin-Manual صفحہ نمبر16) جیلاٹین کے مآخذ(Sources): جیلاٹین کے اس قدر استعمال کی وجہ اس کے متعدد طبی اور صنعتی فوائد ہیں جن کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا، لیکن مسلمانوں کے لیے پریشان کن اور انتہائی تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا حصول زیادہ تر حرام ذرائع سے ہوتا ہے جیسا کہ درج ذیل تفصیلات سے ظاہر ہے: جیلاٹین کی کل عالمی پیداوار کا44 فیصد خنزیر کی کھال سے حاصل کیا جاتا ہے،27 فیصد خنزیر اور گائے کی ہڈیوں سے،28 فیصد


) اگر مسلمان صانعین(Manufacturers) خود اس کی پیداوار شروع کردیں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا، لیکن اگر اس طرح طلب کو پورا کرنا فی الحال ممکن نہ ہو تو موجودہ صانعین کو بھی اس پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری دنیا کے لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر صارفین موثر آواز اٹھائیں تو صانعین ان کی طلب(Demand)کو پورا کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں،کوئی بھی بڑی کمپنی اپنی مارکیٹ کو کھونا نہیں چاہتی۔

گائے کی ہڈیوں سے اور صرف ایک فیصد مچھلی اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جیلاٹین کی کل عالمی پیداوار کا39 فیصد مغربی یورپ،2 فیصد مشرقی یورپ،20 فیصد شمالی امریکا اور17 فیصد لاطینی امریکا تیار کرتے ہیں۔ باقی تمام ممالک کاحصہ22 فیصد ہے۔ گائے سے ماخوذجیلاٹین بھی چونکہ زیادہ تر غیر مسلم ممالک میں تیار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بھی یقینی طور پر حلال نہیں ہوتا کیونکہ اس کے یقینی حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ گائے کو ذبح بھی شرعی طریقے کے مطابق کیا گیا ہو ،جبکہ غیر مسلم ممالک میں اکثر وبیشتر ایسا نہیں ہوتا ۔ مذکورہ بالاحقائق کے پیش ِ نظر ماہرین کی رائے میں اس وقت جیلاٹن کی کل عالمی پیداوار میں یقینی حلال جیلاٹن (جو مچھلی سے اور شرعی طریقے پر ذبح شدہ گائے سے ماخوذہوتا ہے)کاحصہ صرف 2فیصد کے لگ بھگ ہے۔ مسئلے کا حل: مذکورہ بالا تفصیلات پڑھنے کے بعد بہت سے قارئین کرام کے ذہن میں یقینا ًیہ سوال گردش کررہا ہوگا کہ جیلاٹن کے مسئلے کا حل کیاہے؟ اس حوالے سے چند گزارشات درج ذیل ہیں: -1 سب سے بہترین حل تو یہ ہے کہ’’حلال جیلاٹین ‘‘کا انتظام کیا جائے یعنی اس با ت کو یقینی بنایا جائے کہ اس کا ماخذ یا تو شرعی طریقے پر ذبح شدہ حلال جانور ہویا پھر مچھلی۔

اگر مسلمان صانعین(Manufacturers) خود اس کی پیداوار شروع کردیں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا، لیکن اگر اس طرح طلب کو پورا کرنا فی الحال ممکن نہ ہو تو موجودہ صانعین کو بھی اس پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری دنیا کے لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر صارفین موثر آواز اٹھائیں تو صانعین ان کی طلب(Demand)کو پورا کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں،کوئی بھی بڑی کمپنی اپنی مارکیٹ کو کھونا نہیں چاہتی۔ -2 دوسرا حل یہ ہے کہ جب تک ’’حلال جیلاٹین‘‘کا مناسب انتظام نہیں ہوجاتا،اس وقت تک اس کے متبادل اجزائے ترکیبی استعمال کیے جائیں ، جو ماہرین کے مطابق اس کے مقاصد کو بڑی حد تک پورا کرسکتے ہیں۔ چند ایک متبادل اجزا درج ذیل ہیں: پیکٹن (E-440)، کیراجین(E-407)، ایگر ایگر(E-406)،(E-415)وغیرہ۔ یہاں یہ وضاحت بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اگرحرام ذرائع سے ماخوذ جیلاٹین کی ماہیت بدل جائے تو شرعاً اس کو حلال قرار دیا جائے گا، لیکن آیا اس میں ماہیت بدلتی بھی ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے ہماری اب تک کی جستجو کے مطابق کوئی بھی سائنسدان اس کی ماہیت بدلنے کا قائل نہیں۔ علمائے کرام کے درمیان بھی اس حوالے سے اختلاف ہے، لہذا یہ مشکوک ہی ہے۔اس اختلاف کے پیش ِ نظراحتیاط اسی میں ہے کہ حرام ذرائع سے ماخوذجیلاٹین استعمال نہ کیا جائے۔ (جیلاٹن کی اہمیت،حلال جیلاٹین تیار کرنے کی صورتوں ، اس حوالے سے مشکلات ، ان مشکلات کا ممکنہ حل اور حلال جیلاٹین کے کاروباری فوائد پرہم آیندہ کسی مضمون میں تفصیل سے اپنی گزارشات پیش کریں گے، ان شاء اللہ۔)