مشکوک اجزائے ترکیبی میں سے ایک ایڈرینالِن (Adrenalin)بھی ہے۔ اس کی اہم فنی معلومات وشرعی حکم کے حوالے سے’’حلال فاؤنڈیشن‘‘ کی اب تک کی تحقیق کا خلاصہ درج ذیل ہے:1 -تعریف اور عمل:یہ ایک ہارمون ہے جو قدرتی طور پر گردے کے قریب واقع ’’ایڈرینل گلینڈز‘‘ (adrenal glands) نامی غدود سے نکلتا ہے۔ یہ

خوف، دباؤ، غصے اور جوش کے وقت خون کی گردش، دل کی دھڑکن اور نبض کی رفتار میں اضافہ کردیتا ہے۔ نیز یہ کاربوہائیڈریٹ کے جزوِبدن بننے کی رفتار کو بڑھاتا ہے، جسم کو مزید توانائی فراہم کرتا ہے اور پٹھوں کو مستعدی پر ابھارتا ہے، تاکہ جسم یا تو خوف، دباؤ وغیرہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے یا پھر اس کیفیت سے راہ ِفرار اختیار کرسکے۔ اسے ’’ایپی نیفرِن‘‘(epinephrine) بھی کہتے ہیں۔ اس کا کیمیائی نام amino hydroxyphenylpropionic acid (امینو ہائیڈراکسی فینائل پرو پیانک ایسڈ) اور فارمولا C 9 H 13 NO 3 ہے۔تجارتی پیداوار:تجارتی پیمانے پر یہ خنزیر، گائے اور بھیڑ وغیرہ کے (adrenal glands) نامی غدودسے حاصل کیا جا تا ہے۔ نیز یہ مصنوعی طور پر بھی تیار کیا جاتا ہے۔

استعمال:
اس کا استعمال دوا کے طور پر ہوتا ہے۔ جن امراض کے علاج میں یہ استعمال ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
٭دل کی دھڑکن بند ہو جا نا(cardiac arrest)
اینا فلیکسس(anaphylaxis): یہ ایک قسم کی الرجی ہے جو جسم میں خارجی پروٹین یا دوا وغیرہ کے داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
برانکو سپازم(bronchospasm): اس بیماری میں پھیپھڑوں کے پٹھے سکڑنے کی وجہ سے سانس کی نالی تنگ ہونے لگتی ہے۔ یہ دمہ کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ہائپو گلیسیمیا(hypoglycemia): خون میں شکر کی کمی
خناق (croup)
خون کا بہت زیادہ بہنا، گلے اور ہونٹوں کی سوجن وغیرہ۔


) اگر مریض کی جان جانے کا ڈر ہو یا اس کا کوئی عضو بے کار ہونے کا ڈر ہو اور اس وقت اس کا کوئی متبادل دستیاب نہ ہوسکے یا متبادل تو موجود ہو لیکن ماہر دیانتدار ڈاکٹر یہی دوا تجویز کردے تو ایسی صورت حا ل میں جانور سے ماخوذ ایڈرینالِن کوبقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

فوائد:
ایڈرینالِن کے اہم ترین طبی فوائددرج ذیل ہیں:
٭دل کی گھٹتی دھڑکن کو بحال کرکے اس کو تیز کرنا۔
٭خون کی بند نالیوں کوکھولنا اور جب ان سے غیر ضروری طور پر خون بہہ رہا ہو تو ان کو بند کرنا۔
٭سانس کی نالی کو کھولنا۔
٭جگر میں گلائیکوجن کو گلوکوز میں تبدیل کرکے شکر کی مقدار کو بڑھانا اور انسو لین کے اخراج کو روکنا وغیرہ۔
الغرض! یہ ایسی ہنگامی صورت حال یاشدید بیماری کے دوران جس میں جان جانے کا اندیشہ ہو(Life-threatening emergencies) بہت مفید ثابت ہوتا ہے اور اسی لیے اس کو’’معالج کا دوست‘‘ (doctor's friend)کہا جاتا ہے۔

شرعی حیثیت:
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، ایڈرینالِن کے مآخذ(Sources) مختلف ہیں، لہذا ہر ماخذ کے اعتبار سے شرعی حکم بھی مختلف ہوگا۔ چنانچہ:
1 - اگر یہ مصنوعی طورپر(Synthetically) تیار کیا گیا ہو تو یہ حلال اور پاک ہے۔
-2 اگریہ کسی جانور سے ماخوذ ہو اور ماہیت بدل چکی ہو تو بھی یہ حلال اور پاک ہے۔
-3 اگر یہ کسی جانور سے ماخوذ ہو اور ماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو تو اس کا استعمال درست نہیں، کیونکہ اگریہ خنزیر سے ماخوذ ہو تو اس کا تو ہر ہر جزو ، عضو حرام اور ناپاک ہے، اور اگر یہ گائے یا بھیڑ وغیرہ حلال جانور سے ماخوذ ہو تو بھی اس کا استعمال اس لیے نا جائز ہے کہ یہ جزو ترکیبی جانور کے غدود سے حاصل کیا جا تا ہے اور غدود حلال اور شرعی طور پر ذبح شدہ جانور کے بھی مکروہ ِ تحریمی ہیں۔

مجبوری کی حالت میں حکم:
اگر مریض کی جان جانے کا ڈر ہو یا اس کا کوئی عضو بے کار ہونے کا ڈر ہو اور اس وقت اس کا کوئی متبادل دستیاب نہ ہوسکے یا متبادل تو موجود ہو لیکن ماہر دیانتدار ڈاکٹر یہی دوا تجویز کردے تو ایسی صورت حا ل میں جانور سے ماخوذ ایڈرینالِن کوبقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

مسئلے کے حل کے لیے تجاویز:
-1 مصنوعی ذرائع سے حاصل شدہ ایڈرینالِن کا استعمال کیا جا ئے اور اس کو فروغ دیا جائے۔
-2 دیگرایسے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں جو ایڈرینالن جیسے فوائد کے حامل ہوں۔ اس سلسلے میں مسلمان ماہرین کی خدمات نہ صرف عام مسلمانوں کی طبی ضرورت کو پورا کریں گی بلکہ ان ماہرین کے لیے صدقہ جاریہ ہوںگی۔