پچھلے مضمون میں ہم نے کولاجن سے جیلاٹن بنانے کے طریق کار کے مختلف مراحل ذکر کیے تھے، اب ان مراحل کے نتیجے میں کولاجن میں واقع ہو نے والی تبدیلیوں کا ذکر کرکے اس سلسلے میں ماہرین کیمیا کی آراء ذکر کریں گے، تاکہ ان آراء کی روشنی میں اس بات کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو کہ آیا جیلاٹن میںشرعی طور پر انقلاب ماہیت ہوتا ہے

یا نہیں؟جیلاٹن بنانے کے دوران کولاجن میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں:جیلاٹن کی تیاری کے عمل سے متعلق مذکورہ بالاتفصیلات کی روشنی میں اتنی بات تو واضح ہے کہ حرارت کے ذریعے کولاجن میں ایک طرح کی کیمیائی تبدیلی ہوتی ہے۔ البتہ اس کیمیائی تبدیلی کی وجہ سے کولاجن میں اور کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اس کی تفصیلات بعض ماہرین نے اس طرح ذکر کی ہیں کہ کولاجن کو جیلاٹن میں تبدیل کرنے کے دوران اس میں درج ذیل 4 قسم کی تبدیلیاں ہوتی ہیں:

1 طبعی تبدیلی (Physical Change)

2 کیمیائی تبدیلی (Chemical Change)

3 اوصاف کی تبدیلی(Properties Change)

4 ساخت کی تبدیلی(Structurel Change)

ان 4 قسم کی تبدیلیوں کو یہ حضرات درج ذیل طور پر بیان کرتے ہیں:
کیمیائی تبدیلی: جیلاٹن کی تیاری کے دوران کولاجن میں کیمیائی تبدیلی اس طرح ہوتی ہے کہ حرارت کی وجہ سے آرجِنِین(Arginine)، اورنتھِین (Ornithine) میں بدل جاتا ہے۔ جس سے جیلاٹن کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔
طبعی تبدیلی: طبعی تبدیلی کی وضاحت یہ حضرات اس طرح فرماتے ہیں کہ کولاجن اور جیلاٹن کی خصوصیا ت میں یہ فرق ہوتا ہے کہ کولاجن بنیادی طور پر سخت ہوتا ہے اور کھنچتا نہیں ہے، مگرجب مذکورہ کیمیائی تبدیلی کے سبب یہ جیلاٹن میں تبدیل ہوتا ہے تویہ سخت نہیں رہتا جہلی بن سکتا ہے


) جیلاٹن کی تیاری کے عمل سے متعلق مذکورہ بالاتفصیلات کی روشنی میں اتنی بات تو واضح ہے کہ حرارت کے ذریعے سے کولاجن میں ایک طرح کی تبدیلی ہوتی ہے۔ البتہ یہ تبدیلی انقلاب ماہیت کا باعث بھی بنتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں ماہرین کیمیا کی آراء دونوں طرح کی ہیں۔ بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ بالا تبدیلیوں کی وجہ سے جیلاٹن میں انقلاب ماہیت ہوجاتاہے۔

اوصاف کی تبدیلی: اس تبدیلی کا اثبات یہ حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ امینو ایسڈز (جواس معنی میں کولاجن کا امتیازی وصف ہیں کہ یہی اس میں سختی اور مضبوطی پیدا کرتے ہیں)، وہ ان حضرات کے بقول ڈی نیچریشن کے عمل میںختم ہوجاتے ہیں ساخت کی تبدیلی: اس کے بارے میں یہ حضرات کہتے ہیں کہ امریکی حکومت کا ایک کارخانہ جو فیڈرل فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی نگرانی میں ہے، جیلاٹن کو ’’گوشت کی غذائی مصنوع‘‘ نہیں سمجھتا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جیلاٹن کی تیاری کے دوران کیمیائی تبدیلیاں اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ جیلاٹن کی حتمی پیداوار میں اصل مواد کی ساخت اور شناخت مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ ادارہ اس کو گوشت کا مصنوع تسلیم نہیں کرتا۔

جیلاٹن میں انقلاب ماہیت سے متعلق ماہرین کیمیا کی آرا:
جیلاٹن کی تیاری کے عمل سے متعلق مذکورہ بالاتفصیلات کی روشنی میں اتنی بات تو واضح ہے کہ حرارت کے ذریعے سے کولاجن میں ایک طرح کی تبدیلی ہوتی ہے۔ البتہ یہ تبدیلی انقلاب ماہیت کا باعث بھی بنتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں ماہرین کیمیا کی آراء دونوں طرح کی ہیں۔ بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ بالا تبدیلیوں کی وجہ سے جیلاٹن میں انقلاب ماہیت ہوجاتاہے۔ ان ماہرین کے دلائل وہی تبدیلیاں ہیں جن کا اوپر ذکر ہوگیا۔ مگر اکثر ماہرین کی رائے یہ ہے کہ کولاجن سے جیلاٹن بنانے کے دوران جو کیمیائی تبدیلی ہوتی ہے، اس کی وجہ سے جیلاٹن میںانقلاب ماہیت کا قول نہیں کیاجاسکتا۔ ذیل میں ہم ان ماہرین کے دلائل بھی تفصیل سے ذکر کرکے ان کی طرف سے ان ماہرین کے دلائل کا جواب بھی ذکر کرتے ہیںجو جیلاٹن میں انقلاب ماہیت کے قائل ہیں۔

جیلاٹن میں انقلاب ماہیت کے نافی ماہرین کے دلائل:
جیلاٹن میں انقلاب ماہیت کے نافی ماہرین اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے جودلائل بیان کرتے ہیں، ان کا خلاصہ درج ذیل 3 باتیں ہیں:
1 کولاجن کے تمام طبعی خواص جیلاٹن میں برقرار رہتے ہیں۔
2 کولاجن میں ہونے والی کیمیائی تبدیلی کی وجہ سے اس کے کیمیائی خواص میں بھی کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آتی۔ صرف صورت اور ڈھانچے میں تبدیلی آتی ہے۔
3 کولاجن کی صورت اور بناوٹ میں آنے والی تبدیلی بھی اتنی معمولی ہوتی ہے کہ اس کے باوجود سائنسدانوں کے بقول کولاجن اور جیلاٹن کی، کمپوزیشن اور ساخت میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان ماہر حضرات کے بقول کولاجن سے جیلاٹن بنانے کے دوران کولاجن کی صورت میں معمولی قسم کی ایک تبدیلی ضرور ہوتی ہے، مگر صورت اور بناوٹ کے علاوہ کولاجن کی دیگرتمام خصوصیات جیلاٹن میں برقرار رہتی ہیں۔ طبعی خصوصیات بھی اور کیمیائی خصوصیات بھی۔ اس لیے جیلاٹن میں انقلاب ماہیت کا قول نہیں کیاجاسکتا۔ ذیل میں ان تینوں امور کی تفصیل ملاحظہ ہو:
1 کولاجن کے تمام طبعی خواص جیلاٹن میں برقرار رہتے ہیں۔
زیادہ تر ماہرحضرات کے بقول جیلاٹن میں کولاجن کی طبعی خصوصیات برقرار رہتی ہیں، ڈاکٹر انصاری صاحب (جنہوں نے لیدر پر پی ایچ ڈی کی ہے) کا بھی یہی موقف ہے، چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں (اس موضوع پر اپنے مقالے میں) درج ذیل 4

امورکاذکر کیا ہے:
٭ جیلاٹن کی (طبعی) خصوصیات کا انحصار اس جانور پر ہوتا ہے جس سے یہ تیارکی جاتی ہے ۔
٭ جیلاٹن میں تبدیل ہوجانے کے بعد کولاجن کے ذائقے، رنگ اور بو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
٭ جیلاٹن نمی میں بہت تیزی سے گل سڑکرخراب ہوجاتی ہے اور یہی معاملہ کولاجن کا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح خشک گوشت نمی کی موجودگی میں گل سڑ جاتا ہے۔
٭ جن لوگوں کو کچھ خاص جانوروں سے الرجی ہوتی ہے، انہیں ان خاص جانوروں سے حاصل کردہ جیلاٹن سے بھی اسی طرح الرجی ہوتی ہے جس طرح ان کے پکے ہوئے گوشت سے۔
2 جیلاٹن بنانے کے عمل میں کولاجن کے کیمیائی خواص میں بھی کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آتی۔
کولاجن میں ہونے والی کیمیائی تبدیلی کے بارے میں ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ سے کولاجن کے خواص میں جو تبدیلی آتی ہے وہ اتنی معمولی ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے کولاجن کے عین کی تبدیلی کا دعوی نہیں کیاجاسکتاہے۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر سائنس دان درج ذیل 2 باتیں ذکرکرتے ہیں:
پہلی بات یہ کہ کلوجن (Collagen) 18ایسے اجزا سے مرکب ہوتا ہے، جن کو سائنس کی اصطلاح میں (Amino Acids)کا جاتا ہے۔ جب کلوجن تیزاب، الکلائی اور گرم پانی کی کارروائیوں سے گزر کر جیلاٹن بنتا ہے تو مذکورہ18 اجزا میں کوئی قابل ذکر کیمیائی تغیر واقع نہیں ہوتا، چنانچہ جیلاٹن میں ان کا یہی تناسب برقرار رہتاہے، جیساکہ ڈاکٹرانصاری صاحب اس موضوع پر اپنے مقالے میں لکھتے ہیں:
’’کولاجن اور جیلاٹن کے امینوایسڈز کا تناسب تقریباً برابر ہوتا ہے۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ ’’ہائیڈراکسی پرولائن‘‘ اور ’’ہائیڈ را کسی لائی سین‘‘ نامی کچھ اجزا ایسے ہیں جن کو کولاجن کا امتیازی وصف سمجھا جاتاہے، جب کولاجن سے جیلاٹن بنتا ہے توسائنسدانوں کے بقول یہ اجزا بھی اس میں تقریبًا بعینہ برقرار رہتے ہیں، چنانچہ

ڈاکٹرانصاری صاحب لکھتے ہیں:
’’ایسے امینو ایسڈزجو کولاجن کا امتیازی وصف ہیں (یعنی ہائیڈراکسی پرولائن اور ہائیڈ را کسی لائی سین)وہ جیلاٹن میں بھی تقریبا اتنی ہی مقدار میں پائے جاتے ہیں(جتنے کولاجن میں )۔‘‘
اس بات کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جو (Amino Acids)سب سے زیادہ مقدار میں کولاجن میں پایا جاتا ہے وہ (Glycine) سے مرکب ہے۔ اس کی مقدار کلوجن میں (26.57)مستقل حصوں (residues) پر مشتمل ہے، جبکہ جیلاٹن میں یہ(27.60)حصوں (residues) پر مشتمل ہوتاہے، یہ فرق فیصد کے اعتبار سے صرف ((3.7% بنتاہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ(96.3%) کے حساب سے (Glycine)کی مقدار میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ایسے ہی باقی17 اجزا میں بھی بہت کم مقدار میں تغیر واقع ہوتا ہے۔
ان دو باتو ں کی وجہ سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کولاجن اور جیلاٹن کے اجزا بالکل یکساں ہیں، لہذا کیمیائی طور پر یہ دونوں تقریباً ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے سائنسدانوں کی مزید واضح تصریحات ملاحظہ ہوں:
٭ انسائیکلوپیڈیا آف فوڈ اینڈ کلر ایڈیٹوز(1997) (Burdock) جلد ایک صفحہ1165 پر ہے:
Chemically Collagen and gealatin are virually identical
’’کلوجن اور جیلاٹن کیمیائی اعتبار سے عملی طور پر ایک جیسے ہیں۔‘‘

٭ چمڑے کی دباغت کی انڈسٹری سے متعلق ایک کتاب کے صفحہ 65 پر ہے:
In particular when exposed to temperatures around above 65c Collagen protein in the dermis is denatured into gelatin. Chemically the two materials are indistinguishable ۔Hides and Skin for the tanning industry (1995) leach pg65۔
’’خاص طور پر جب کلوجن (جو ایک کھال کاپروٹین ہے) کو65 ڈگری تک گرم کیا جاتا ہے تو وہ ڈینچر (یعنی اس کے ڈھانچے میں تغیر واقع) ہوکر جیلاٹن بن جاتا ہے، کیمیائی اعتبار سے دونوں مادے ناقابل امتیاز ہیں۔‘‘
٭ انسائیکلوپیڈیا آف فارماسوٹیکل ٹیکنالوجی(J.Swarbrick,2007) کی جلد 3 صفحہ 1883 پر ہے:
The amino acid content of acid processed gelatin is virtual identical to that of collagen.
’’تیزاب سے تیار شدہ جیلاٹن کے (Amino Acid) اور کلوجن کے (Amino acid)عملی طور پر ایک جیسے ہیں۔‘‘
٭ ایڈوانسز ان فوڈ ریسرچ (Mrack and Stewart,1957)نامی کتاب کی جلد 3صفحہ 1883پر ہے:
The amino acid composition of collagen is essentially the same as that of gelatin.
’’کلو جن کی (Amino Acid)کی ترکیب اساسی طور پر جیلاٹن کے ساتھ یکساں ہیں۔‘‘
لہذا یہ کہنا کہ یہاں کلوجن کا عین تبدیل ہو کر ایک نیا مادہ بنا ہے واضح طور سے درست نہیں۔
(جاری ہے)