گزشتہ سے پیوستہ مضمون میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ جیلاٹن جو ایک کثیر الاستعمال جزو ترکیبی ہے،آج کل اس کی کل پیداوار کا 44% خنزیر کی کھال سے 57 %گائے کی ہڈیوں اور کھال سے حاصل کیا جاتاہے۔نیز دنیابھر میں اس کی کل پیداوار کا 78%امریکا اور یورپ پیدا کرتے ہیں۔ایسے میں یہ بات ظاہر ہے کہ درآمد شدہ جیلاٹن کے حرام ہونے

کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،تاہم اس تقدیر پر اس کے حلال ہونے کابھی ایک امکان ہوتاہے کہ اس کی ماہیت بدل جائے،اس لیے شرعی حوالے سے جیلاٹن سے متعلق ایک اہم اور قابل غور مسئلہ انقلاب ماہیت کا ہے ۔چونکہ خنزیر کی کھال وغیرہ سے جیلاٹن بنانے کے لئے ایسی کیمیائی کاروائی کی جاتی ہے ،جسے کیمیائی ماہر ین ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں،اس لیے یہاں ہم خنزیر کی کھال وغیرہ حرام ذرائع سے کیمیائی کاروائی کرکے بنائے گئے جیلاٹن میں استحالہ ہو نے نہ ہونے سے متعلق شرعی حوالے سے بحث شروع کرنے سے پہلے جیلاٹن بنانے کا طریق کاراور اس سے متعلق ماہر ین کی آراء کا ذکر کرتے ہیں ،تاکہ ماہرین کی آراء کی روشنی میں فقہی حوالے سے جیلاٹن کے حکم پر آسانی سے غور کیاجاسکے۔
جیلاٹن کا ماخذاور تعریف:
جیلاٹن کا ماخذ کولاجن نامی ایک سٹر کچرل پروٹین ہے،جو زیادہ تر جانوروں کی کھال اور ہڈیوں میں پایا جاتاہے ،چنانچہ یہ تمام جانوروں کی کھال کی کل اندرونی جلد کے90 سے 95 فیصد حصے پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ جانوروں کی کھال کے درمیانی حصے میں موجود اس کثیف پرت میں ہوتاہے جو چربی ، پٹھوں ، رگوں اور گوشت وغیرہ سے خالی ہوتا ہے۔ کولاجن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انتہائی سخت ہونے کی وجہ سے قابل تحلیل نہیں ہوتا،لیکن جب اس کو ایک خاص درجے تک گرم کیا جاتاہے تو یہی کولاجن،جیلاٹن میں تبدیل ہوکر قابل تحلیل بن جاتاہے۔توگویا جیلاٹن گرم پانی کے ذریعہ قابل تحلیل بنائے گئے خام کو لاجن کے سوا کچھ بھی نہیں۔ چنانچہ انسا ئیکلوپیڈیا آف فوڈ سائنس اینڈ ٹکنالوجی صفحہ نمبر (1287)پر جیلاٹن کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے:
Gelatin is a hydrolysis product obtained by hot water extraction and does not exist in nature.
(The Encyclopedia of Food Science and Technology (1992) Volume 2, pg 1287.)
’’ جیلاٹن ہائیڈرالسس( یعنی گرم پانی کے ذریعے آبی تحلیل کے عمل )سے حاصل ہونے والا ایک مصنوع ہے ،اس کا کوئی قدرتی وجود نہیں ہوتا۔ ‘‘
جیلاٹن بنانے کاطریق کار:
کلوجن(Collagen) سے جیلاٹن کی تیاری کا طریق کار یہ ہے کہ کسی بھی جانور کی کھال سے جیلاٹن بنانے کے عمل کے دو بنیادی مراحل ہیں:
1 کھال کی صفائی ۔
2 کولاجن کو گر م پانی میں ڈال کر اس کی آبی تحلیل ۔
ذیل میںہم ماہر ین کے حوالوں کی روشنی میں ان مراحل کا ذکرمستقل عنوان کے تحت کرتے ہیں ۔
1 کھال کی صفائی:
کولاجن سے جیلاٹن بنانے کے لئے پہلے مرحلے میں کھال کی صفائی کی جاتی ہے ، اس مقصد کے لئے یا تو تیزاب (Acid) استعمال ہو تاہے ، اور یا پھر الکلائی (Alkali)کا استعمال کیاجاتاہے۔تیزاب یا الکلائی کے استعمال کے نتیجہ میں کھال سے بال ، گوشت ، پٹھے ، رگیں ، پسینے کے غدود ، البیومن اور دیگر پروٹین ،ہٹ جاتے ہیں،اورکھال کی صرف اندرونی تہہ (کو ریئم لیئر) باقی رہ جاتی ہے ۔جو تیزاب اس مقصد کے لئے استعمال ہوتاہے چونکہ وہ انتہائی ہلکا تیزابی محلول (تقریبا ایک سے 5 فیصد) ہوتاہے ،اس لئے تیز اب یا الکلی سے تعامل کے بعد بھی کولاجن اپنی اصل کے اعتبار سے کولاجن ہی رہتاہے۔چنانچہ ندوہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمدانصار حسین ندوی صاحب جوایک کیمسٹ ہیں اورانہوں نے لیدر پر سپیشلائزیشن بھی کی ہوئی ہے وہ جیلاٹن سے متعلق اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں:
Collagen which is present in the skin remains collagen itself in its essence even after the treatment with acid or alkali.
’’کھال کے اند رجوکولاجن موجودہوتاہے وہ الکلی سے تعامل کے بعد بھی اپنی اصل کے اعتبار سے کولاجن ہی رہتاہے‘‘
2 آبی تحلیل:
دوسرامرحلہ ہائیڈرالسس (Hydrolysis)یعنی آبی تحلیل کا ہے۔یہی عمل ہے جس کے نتیجہ میں کولاجن سے جیلاٹن حاصل ہوتاہے۔ اس عمل کاطریق کار کیا ہوتاہے ؟ نیز اس کے نتیجہ میں کھال میں کیا تبدیلی ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے کولاجن ،جیلاٹن میں تبدیل ہوجاتا ہے ؟ اس کی وضاحت ماہر ین اس طرح کرتے ہیں کہ اس مرحلے میں کولاجن سے جیلاٹن حاصل کرنے کے لیے جانورکی صاف شدہ کھال کی اندرونی پرت (کورئیم لیئر)کو گرم پانی میں ڈال کر ابالا جاتا ہے ۔گرم پانی میں ابلنے کی وجہ سے جب کولاجن65 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوتا ہے تو اس کے مالیکیولز ٹوٹ کر چھوٹے مالیکیولز میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ پانی میں ابالنے کے اس عمل کو کمسٹری کی اصطلاح میں ہائیڈرالسس یعنی آبی تحلیل اور مالکیولز ٹوٹنے کی صورت میں آنے والی تبدیلی کوڈی نیچریشن((Denaturationیعنی ساخت کی تبدیلی کہا جاتا ہے ۔چنانچہ انسائیکلوپیڈیا آف فوڈسائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ہائیڈ رالسس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے :
Hydrolys is a Chemical reaction in which molecules of substance are split into smaller molecules by reaction with water.
(The Encyclopedia of Science and Technology (Oxford) Volume 2, pg 186.)


) کولاجن سے جیلاٹن بنانے کے لئے پہلے مرحلے میں کھال کی صفائی کی جاتی ہے ، اس مقصد کے لئے یا تو تیزاب (Acid) استعمال ہو تاہے ، اور یا پھر الکلائی (Alkali)کا استعمال کیاجاتاہے۔تیزاب یا الکلائی کے استعمال کے نتیجہ میں کھال سے بال ، گوشت ، پٹھے ، رگیں ، پسینے کے غدود ، البیومن اور دیگر پروٹین ،ہٹ جاتے ہیں،اورکھال کی صرف اندرونی تہہ (کو ریئم لیئر) باقی رہ جاتی ہے ۔


’’ہائیڈرالسس ایک کیمیائی عمل ہے جس میں پانی کے ساتھ تعامل کے ذریعہ سے کسی مادے کے ذروں(مالیکیولز)کو توڑ کر چھوٹا کیا جاتا ہے۔‘‘
اور ڈینیچریشن کی تعریف بائیو کمسٹری کی ایک کتاب میں اس طرح سے کی گئی ہے:
The Complete loss of organized structure in a protein is called denaturation and occurs for example during the cooking of an egg.
pg110.)(Concepts in Biochemistry. Rodney Bowyer(2004)

 

’’کسی پروٹین کے مرکزی ڈھانچے میں مکمل تبدیلی واقع ہونا ڈینچریشن کہلاتا ہے اور یہ مثال کی طور پر انڈاپکانے میں واقع ہے۔‘‘

زیادہ تر ماہرین کے بقول کلوجن کی ساخت میں ڈینچریشن کی صورت میں واقع ہونے والی یہی بنیادی تبدیلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کولاجن جیلاٹن میں تبدیل ہوتاہے۔چنانچہ جیلاٹین سے متعلق ایک ہینڈ بک کا درج ذیل حوالہ ملاحظہ ہو:

 

In the manufacture of gelatin the structure is broken down
to such an extent that warm water soluble collagen i.e Gelatin is formed.
(Gealtin Handbook: Theory and industrial practice (2007), Shrieber and Fareiz pg48)
’’ جیلاٹن بنانے کے دوران مرکب ساخت اتنی ٹوٹ جاتی ہے کہ اس سے گرم قابل تحلیل کلوجن، یعنی جیلاٹن تیار ہوجاتی ہے ۔‘‘
جیلاٹن کی تیاری کے عمل سے متعلق مذکورہ بالاتفصیلات کی روشنی میں اتنی بات تو واضح ہے کہ حرارت کے ذریعے سے کولاجن میں ایک طرح کی کیمیائی تبدیلی ہوتی ہے۔ البتہ اس کیمیائی تبدیلی کی وجہ سے کولاجن میں اور کیا تبدیلیاں آتی ہیں ؟اس کی تفصیلات ان شاء اللہ آئندہ شمارے میں ذکر کی جائیں گی۔