حلال آگاہی قدم بہ قدم
رینٹ کی حلت پر امام صاحب رحمہ اللہ کی قیاسی دلیل:
رینٹ کی حلت پر امام صاحب رحمہ اللہ کی قیاسی دلیل یہ ہے کہ دودھ ان حیوانی اجزا میں سے ہے جن میں حیات سرایت نہیں کرتی، لہذا جانور کی موت کی صور ت میں موت کا حکم بھی اس کے ساتھ متعلق نہ ہو گا، اس لیے یہ جزء میتہ نہ کہلائے گا۔ چنانچہ اس کی دلیل یہ بات ہے کہ زندہ حیوان کا دودھ بھی حلال ہے، حالانکہ اگر اس کا حکم دیگر اجزائے حیوانی کی طرح ہوتا تو جانور کو ذبح شرعی کے ساتھ ذبح کیے بغیر یہ حلال نہ ہوتا۔

کیونکہ زندہ جانور سے اس کا جو جزو علیحدہ کیا جائے وہ نص کی رو سے بحکم میتہ ہے۔(کما وردد فی حدیث:’’ما ابین من الحی فھو میت۔‘‘)،چنانچہ احکام القرآن میں امام جصاص رحمہ اللہ نے امام صاحب رحمہ اللہ کی یہ قیاسی دلیل تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ ( أحکام القرآن للجصاص: (1/147
جمہور کی قیاسی دلیل کا جواب:
جہاں تک اس مسئلہ میں حضرات جمہور کے اس قیاسی دلیل کا تعلق ہے کہ جب بچھڑا مر جاتا ہے تو میتہ (مردار)بننے کی وجہ سے اس کے سارے اعضا نجس ہو جاتے ہیں اور معدہ بھی ان اجزا میں سے ہے، لہذا معدے کی مجاورت ( پڑوس) کی وجہ سے اس میں موجود دودھ بھی نجس ہوجائے گا تو اس کا جواب امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ دودھ کی نجاست کے ساتھ یہ مجاورت باطن میں یا اپنے محل میں ہے، اور یہ قاعدہ ہے کہ باطنی مجاورت کا اعتبار نہیں ہوتا، یعنی جب تک نجاست اپنے محل میں ہو اس پر کوئی حکم نہیں لگتا۔ اس پر امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے کئی استشہادات پیش کیے گئے ہیں۔
پہلا استشہاد:


٭… جدیدتحقیق کے مطابق رینٹ تب حلال ہوگا جب حلال مذبوحہ جانور کے معدے سے لیا گیا ہو ٭…ہمارے مطابق امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک ہی راجح اور قرین قیاس ہے ٭

اما م صاحب کے مسلک پر ایک استشہاد امام ابو بکر جصاص رحمہ اللہ نے اس سے پیش فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ گوشت کو رگوں سمیت بغیر دھوئے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ رگوں کی اندرونی جانب کی خون کے ساتھ مجاورت ہوتی ہے تو باوجود اس مجاورت اور پڑوس کے رگوں کی اندر سے تطہیر کو مسلمانوں کاضروری نہ سمجھنا اس بات کی دلیل ہے کہ خلقتاً مجاورت کی وجہ سے نجاست کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ اورامام قرطبی رحمہ اللہ نے امام صاحب کی طرف سے اس استدلال کا ذکر کیا ہے۔
دوسرا استشہاد:
امام جصاص نے امام صاحب کے موقف پرایک اور استشہاد اس سے بھی پیش فرمایا ہے کہ قرآن پاک میں مطلق دودھ کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ ’’نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرث ودم لبنا خالصا صائغا للشاربین‘‘ یعنی جانور کا دودھ جو خالص اور پینے والوں کے لیے مزیدار ہوتا ہے وہ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ باطن میں ہر دودھ کی گوبر وخون کے ساتھ مجاورت ہوتی ہے، مگر ظاہر ہے کہ اس مجاور ت کی وجہ سے دودھ پر نجاست کا حکم نہیں لگتا۔
تیسرا استشہاد:
امام صاحب کے مسلک پر تیسر استشہاد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں بچے کو اپنے کندھے پر اٹھا لے تو اس کی نماز جائز ہوتی ہے اور بچے کے پیٹ میں جو نجاست ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ باطنی نجاست کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ چنانچہ امام احمد کی جو روایت اس مسئلے میں امام صاحب کے موافق ہے اس کی توجیہ کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’ولأنّ الأنفحۃ لا تموت بموت البہیمۃ، وملاقاۃ الوعاء النجس فی الباطن لا ینجس، کما قال تعالی:(نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَناً خَالِصاً سَائِغاً لِلشَّارِبِینَ) ...ولہذا: یجوز حمل الصبی الصغیر فی الصلاۃ، مع ما فی بطنہ.‘‘
راجح قول:
یوں تو پنیر کے مسئلے سے متعلق روایات دونوں طرح کی ہیں، بالخصوص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے آثار اس سلسلے میں بہت متعارض ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ کے بقول امام احمد رحمہ اللہ سے اس مسئلے میں مختلف روایات کی وجہ یہی ہے:
وسبب اختلاف الروایۃ عن الإمام أحمد رحمہ اللہ، اختلاف الآثار عن الصحابۃ رضوان اللہ علیہم، ومن بعدہم من التابعین.انظر: مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ 21/102، وما بعدہا۔
تاہم امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک روایت ودرایت دونوں لحاظ سے انتہائی مضبوط ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اگرچہ حلت کی روایات پر استنادی لحاظ سے یہ بحث کی گئی ہے کہ ان تمام روایات کا دارومدار جابر جعفی پر ہے اور جابر جعفی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، چنانچہ مجمع الزوائد میں علامہ ھیثمی رحمہ اللہ ان روایات میں سے ایک کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’وفیہ جابر الجعفی وقد ضعفہ الجمہور وقد وثق، وبقیۃ رجال أحمد رجال الصحیح .۔۔۔۔وعن الحسن بن علی أنہ سئل عن الجبن فقال ضع السکین وسم وکل.رواہ الطبرانی ورجالہ رجال الصحیح.مجمع الزوائد للہیثمی۔ (11/ 73)‘‘
مگر اس کے باوجود امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جو فقہ کے ساتھ ساتھ فن حدیث کے بھی امام ہیں، ان سے جب پنیر کا حکم دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں مگر اس سلسلے میں صحیح تر روایت وہ ہے جس میں یہ آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ کر پنیر کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس میں مردار ڈالا جاتا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ’’سّمو ا انتم وکلو‘‘ یعنی تم اس پر اللہ کا نام لے کر اس کو استعمال کرو۔
جہاں تک درایت کا تعلق ہے تو درایت کے لحاظ سے بھی امام صاحب کا پیش کردہ قیاس انتہائی قوی ہے، چنانچہ اس پر سب حضرات کا اتفاق ہے کہ جانور کے وہ اعضا جو ’’مما لا تحلہ الحیاۃ‘‘ ہیں، وہ پاک ہیں، جیسے: جانور کے بال، ہڈیاں وغیرہ۔ اور زندہ جانور کے دودھ کو حلال کہنے کی اس کے سوا کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی کہ دودھ میں چونکہ حیات سرایت نہیں کرتی اسی لیے یہ’’ماابین من الحی‘‘ کا مصداق نہیں بنتا۔
باقی جہاں تک علامہ قرطبی رحمہ اللہ کی پیش کردہ اس تاویل کا تعلق ہے کہ پنیر میں جو انفخہ استعمال ہوتا تھااس کی مقدار بہت قلیل ہوتی تھی اور قلیل مقدار نجاست معاف ہے، تو یہ ایک ایسی بات ہے جس پر علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے کوئی دلیل پیش نہیں فرمائی۔ اس لیے ہمارے خیال میں امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک ہی راجح اور قرین قیاس ہے۔
ایک اہم وضاحت:
اگرچہ ’’اُنفخہ‘‘ پنیر کے مسئلے میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے، مگر جدید تحقیق کے مطابق اس وقت ’’رینٹ‘‘ کے نام سے جو مصنوع بنایا جا رہا ہے ماہرین کے بقول اس کو بنانے کے لیے بچھڑے کے معدے سے دودھ نہیں نکالا جاتا، بلکہ پورے معدے کو دودھ سمیت کرش کر دیا جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق موجودہ رینٹ اس وقت تک حلال نہ ہوگا جب تک وہ حلال مذبوحہ جانور کے معدے سے نہ لیا گیا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔