فوڈ پروسسنگ پلانٹ

پاکستان اپنی وسیع صلاحیتوں کے ساتھ ایک زرعی ملک ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں اناج کی فصلوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح جانوروں کی مصنوعات مثلاً گوشت، دودھ، پولٹری، انڈے اور مچھلی وغیرہ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے نفع بخش پیداوار کو استعمال کر نے کے لیے زراعت پر مبنی صنعتوں کو شروع کر نے کے لیے بہت زور دیا ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مختلف بینکوں نے صنعتوں کی ترقی کے لیے قرض دیے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ بھی دستیاب ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مذبح خانوں کا آڈٹ کیسے ہوتا ہے؟

اس مضمون میں مذبح خانوں کے آڈٹ کے طریق کار پر روشنی ڈالی جائے گی کہ اس میں کن امور کو دیکھا جاتا ہے؟ کیا جانور یا پرندہ حلال ہے؟ مذبح خانہ خواہ پولٹری کا ہو یا جانوروں کا ،آڈٹ میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جانور یا پرندے جو اس مذبح میں ذبح کیے جاتے ہیں اور جن کا گوشت مسلمانوں کی مارکیٹ میں فراہم کیاجاتا ہے وہ حلال ہوں مثلا مرغی اور گائے وغیرہ ۔ اگر کوئی حرام جانور یا پرندہ اس مذبح میں نظر آجاتاہے تو اسے نوٹ کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شرعی طریقے سے جانور کو ذبح کرنے کے فوائد

اسلامی طریقہ ذبح پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں جانور پر ظلم کیا جاتا ہے، اس لیے یہ ایک بے رحمانہ طریقہ ہے۔ لیکن سائنسی تحقیق اس کے خلاف ہے۔ چنانچہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی University" Hanover " کے پروفیسر Schultz اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر Hazem نے عملی تجربے سے ثابت کیا کہ اسلامی طریقہ ذبح انتہائی رحمدلانہ اور سب سے اچھا ہے، کیونکہ اس میں جانور کو کم سے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ’’کیپٹِوبولٹ اسٹننگ‘‘ (Captive Bolt Stunning (سے جانور کو بہت زیادہ اذیت پہنچتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال آڈٹ کیسے کریں؟ جنرل حلال آڈٹ کا تعارف اور طریق کار

حلال آڈٹ ’’حلال سرٹیفیکیشن‘‘ کے عملی مراحل میں ’’ حلال آڈٹ‘‘ کی حیثیت بہت اہم ہے۔حلال آڈٹ کسے کہتے ہیں؟ اس کا طریق کار کیا ہوتاہے اور اس میں کن چیزوں کو دیکھا جاتا ہے ؟زیر نظر مضمون میں انہی امور سے متعلق کچھ گزارشات پیش خدمت ہیں۔ حلال آڈٹ میں کسی کمپنی کے مکمل سپلائی چین (Supply Chain) میں نظام حلال (Halaal System) کی تطبیق اور اس کے نتائج کے حوالے سے ایک منظم جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ حلال سے متعلقہ تمام اصول و ضوابط پر عمل ہورہا ہے یا نہیں ؟اور تیا ر کی جانے والی مصنوعات یقینی طور پر حلال ہیںیا نہیں؟

مزید پڑھیے۔۔۔

چند اشکالات و خدشات کا طالب علمانہ جائزہ

سوال: بعض حضرات کو حلال سرٹیفکیشن کے حوالے سے یہ اشکال ہے کہ فوڈ سائنس کی ترقی کی وجہ سے آج کل کھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی مصنوعات میں سیکڑوں اجزائے ترکیبی پائے جاتے ہیں، جن کے مختلف سائنسی اور کیمیائی نام و فارمولے ہوتے ہیں، جبکہ علما کی اکثریت ان چیزوں سے نابلد ہے لہٰذا یہ کام علما کے بس کا روگ نہیں۔ اس وجہ سے علما و مفتیانِ کرام حضرات کو اس میدان میں ’’پنگا ‘‘نہیں لینا چاہیے، بلکہ روایتی انداز میں اپنے مدرسہ و مسجد میں تدریس و افتاء کا کام انجام دیا کریں اور وہیں سے حلال و حرام کے فتوی بھی دیے جائیں، اسی میں خیر ہے ورنہ ان کی رہی سہی عزت بھی ختم ہو جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہودیت میں ذبح کی شرائط و ضوابط

عمل ذبح:  کوشر جانور کی تعیین کے بعد شرط یہ ہے کہ اسے صحیح طریقے یعنی یہود کے طریقہ ذبح (جسے شخیتا (Shechita) کہا جاتا ہے) کے ذریعے مارا جائے اور اس عمل کو درست طور پر انجام دینے کے لیے لازم ہے کہ ایک تیز دھار ہموار چھری کے ذریعے حلقوم، مری اور ودجان کو کاٹا جائے، لیکن سر تن سے جدا نہ کیا جائے، نیز اس کے فوراً بعد جانور، پرندہ بے ہوش ہو جا ئے اور مر جائے۔

جانور کا گوشت کھانے سے قبل اس کو مارنا ایک عالمگیر شرط ہے، جو یہود اور غیر یہود سب پر عائد ہوتی ہے اور یہ ان سات احکام میں سے ہے جو یہودیت کے مطابق سب انسانوں پر عائد ہوتے ہیں البتہ، خاص ’’شخیتا‘‘ (Shechita) طریقے سے مارنا صرف یہودیوں پر لازم ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔