پچاس لاکھ کی لاٹری کیا نکلی، شب و روز ہی بدل گئے۔ پیسہ جیب میں آیا تو عمربھر کے ارمان پورے کرنا شروع کردیے۔ اللے تللے شروع ہوگئے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ بڑے شہر منتقل ہوجائو، وہاں کاروبار شروع کردو۔ لاہور میں جاکر قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا۔ حرام کا پیسہ جیب میں آتے ہی عقل و خرد رخصت ہوجاتی ہے۔ جو قدم اٹھایا، غلط اٹھایا۔ جس کاروبار میں ہاتھ ڈالا، نقصان کرڈالا۔ حرام کی نحوست نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا تھا۔ دولت بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکلتی گئی۔

کچھ ہی دنوں میں وہی چھوٹی سی دوکان اور دن بھر محنت و مزدوری۔ سہانے دن ہوا ہوگئے اور دولت پر لگا کر اڑ گئی۔ وہ اٹھتے بیٹھتے بھلے دنوں کو یاد کرتا اور ٹسوے بہاتا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام نے انہیں دودھ پلایا۔ پھر اس نے بتا یا کہ دراصل دور جاہلیت میں ایک شخص کو پیش گوئی کی تھی۔ میری کہانت پوری ہوئی اور وہ شخص آج مجھے ملا۔ اس نے میری کہانت کے حساب میں یہ دودھ مجھے دیا تھا۔ یہ سننا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بے چین ہوگئے۔ فوراً اپنے حلق میں انگلی ڈال کر قے کردی۔ (موعظۃ المتقین من احیاء علوم الدین) دودھ پیتے وقت تو معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں سے آیا ہے۔ بعد میں اس دودھ کو پیٹ سے نکالنا ہرگز ضروری نہیں تھا، مگر یہ حضرت صدیق اکبر کا تقوی تھا کہ مشکوک دودھ کو اپنے جسم کا حصہ نہیں بننے دیا۔

ایک بار بیت المال میں مشک کی خوشبو آئی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے اسے تولا جانے لگا۔ ظاہر ہے جب مشک تلے گی تو اس کی خوشبو تو پھیلے گی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فورا اپنے ناک کو پکڑ لیا کہ کہیں خوشبو نہ سونگھ لوں۔ کسی نے پوچھا: ’’حضرت آپ نے ایسا کیوں کیا؟ خوشبو تو خود بخود پھیلتی ہے، آپ نے لگائی تو ہرگز نہیں تھی؟‘‘ آپ نے سن کر فرمایا: ’’خوشبو کو تو سونگھا ہی جاتا ہے۔ تلتے وقت بھی اس کی خوشبو ہی مجھ تک پہنچ رہی تھی۔‘‘ دوسرا واقعہ بھی سنیے۔ جس رات آپ کا انتقال ہوا۔ اس رات طبیعت بہت خراب تھی۔ کمرے میں ایک چراغ جل رہا تھا۔ حالت بگڑتی دیکھ کر آپ نے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا: ’’چراغ بجھا دو، اب چراغ کے تیل پر میرے ورثا کا حق ہے۔ ‘‘

شاید آپ حیران ہوں کہ اس قدر احتیاط کس لیے؟ یہ لوگ امت کے لیے رول ماڈل تھے۔ وہ اگر حرام مال کے لیے ذرہ برابر گنجائش چھوڑ جاتے تو دنیا انہیں دلیل بنالیتی۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ مرتے دم بھی حرام تو دور کی بات کسی مشکوک چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار تشریف لے جارہے تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بچے تھے اور آپ کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھالی۔ جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی، آپ نے فرمایا: ’’منہ سے نکال کر پھینک دو، پھینک دو۔‘‘ (موعظۃ المتقین من احیاء علوم الدین)

آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں یا کہیں ملازم ہیں، ہر انسان کو لمحہ بہ لمحہ دوسروں سے رابطے کی ضرورت رہتی ہے۔ سیکڑوں لوگوں سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں سوچیں۔ کیا آپ نے دوسروں کے تمام حق ادا کردیے؟ کیا آپ نے زندگی بھر حرام کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیا؟ کیا آپ نے دفتری اور ذاتی چیزوں کو جداجدا رکھا؟ اکیسویں صدی میں چور کو چالاک، ڈاکو کو بہادر اور رشوت خور کو سمجھ دار کہا جاتا ہے۔ اگر معاملہ اتنا ہی آسان ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے کے منہ سے کھجور نہ نکلواتے۔ اگر حلال و حرام کا مسئلہ نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے حلق میں انگلی ڈال کر دودھ نہ نکالتے۔ اگر یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہوتا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز اس قدر احتیاط اور ورع کا اہتمام نہ کرتے۔