ایک تاجر دوست بتا رہے تھے کہ ہمارے شہر میں انڈوں کے کارباور پر ایک خاندان قابض ہے۔ اس خاندان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی شخص انڈوں کا کام شروع نہیں کرسکتا ہے۔ کوئی بھی شخص آکر انڈے کا کاروبار شروع کرتا ہے تو یہ خاندان فوراً اپنے انڈوں کی قیمتیں اس حد تک گرادیتا ہے کہ نیا کاروبار ضرور ٹھپ ہوجاتا ہے۔


پیسے کی دوڑ میں یہ کام اب عالمی سطح پر بھی ہورہا ہے۔ دنیا پر چند کمپنیوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ یہ کمپنیاں جب چاہیں کسی ملک کو تباہی سے دوچار کردیں۔ یہ کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ پوری دنیا کو مفت خوراک دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں۔ مگر بالادستی اور اجارہ داری کی ہوس میں یہ اپنا کھانا کھلے سمندر میں ڈمپ تو کردیتی ہیں، کسی قحط زدہ، تباہ حال اور بدحال ملک کو نہیں دیتیں۔ یہ کمپنیاں دنیا کے قوانین تبدیل کروادیتی ہیں۔ یہ کمپنیاں چھوٹی کمپنیوں کو دنوں میں دیوالیہ کردیتی ہیں۔ کوئی چھوٹی کمپنی حیرت انگیز ترقی کررہی ہوتو اسے منہ مانگے داموں خرید لیتی ہیں۔ چند سال پہلے ہی پاکستان میں آئس کریم بنانے والی ایک مقامی کمپنی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہی تھی۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کروڑوں کے اشتہارات دے کر بھی اسے بند نہ کرسکیں۔ بالاخر مالکان کو منہ مانگے دام دے کر پوری کمپنی خرید لی گئی۔

آپ کیپٹل ازم کے حامی کسی بھی شخص سے ملیں وہ یہ دعوی کرتا نظر آئے گا کہ دنیا میں مکمل مقابلہ ہے۔ کسی بھی کمپنی پر حکومت کا دبائو نہیں ہونا چاہیے، ورنہ مارکیٹ فطری انداز سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ اور یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی مارکیٹ میں ایسا ماحول پیدا کرتا ہے کہ ایک یا چند کمپنیوں کی اجارہ داری پیدا نہ ہوسکے اور تمام کمپنیاں برابر کی سطح پر مقابلہ کریں۔ کہنے کو یہ باتیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر حقیقت کا اس سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی معیشت پر چند کمپنیاں قابض ہیں۔ یہی کمپنیاں مارکیٹ کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے ریٹ دیکھ کر ہی باقی کمپنیاں اپنے نرخ متعین کرتی ہیں۔ یہ جب چاہیں چھوٹی کمپنیوں کو خرید لیں، جب چاہیں مارکیٹ میں بحران پیدا کردیں، جب چاہیں دنیا کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کریں۔

آپ ایک ایک سیکٹر کو دیکھیں اور فیصلہ کرتے جائیں۔ اس وقت پاکستان میں ادویات فراہم کرنے والی پانچ کمپنیوں کی اجارہ داری ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ کمپنیاں یہاں کی لوکل نہیں۔ یہ کمپنیاں مقامی کمپنیوں کو آگے نہیں آنے دیتیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے لے کر دوکانداروں تک، ہر شخص کو اپنے شکنجے میں کسا ہوا ہے۔ انہی کمپنیوں کی وجہ سے گزشتہ پانچ سال میں ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

دنیا بھر کے نوے فیصد میڈیا پر صرف چھ کمپنیاں قابض ہیں۔ یہ کمپنیاں جسے چاہیں ملک کا صدر بنادیں، جسے چاہیں تخت بدر کردیں۔ جس ملک میں چاہیں فساد بپا کردیں، جہاں چاہیں عوام کو حکومت سے لڑادیں۔ یہ کمپنیاں چاہیں تو کسی بھی خبر کا گلا گھونٹ دیں اور جس افواہ کو چاہیں دنیا کی سب سے بڑی حقیقت بنادیں۔

آپ موبائل کمپنیوں کو دیکھ لیں۔ عالمی سطح پر سام سنگ اور آئی فون نے اجارہ داری قائم کررکھی ہے۔ یہ کمپنیاں اتنا نفع کما چکی ہیں کہ کوئی نئی کمپنی ان کے سامنے دم بھی نہیں مار سکتی۔ ان کی اشتہاری مہم ہی چھوٹی کمپنیوں کے تمام تر سرمائے سے زیادہ ہوتی ہے۔

فوربس میگزین سے کون واقف نہیں۔ اس میگزین نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ دنیا کی تقریباً تمام مصنوعات پر 147 کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ مگر ان 147 کمپنیوں کو صرف چار کمپنیاں چلا رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا پر اصل حکمرانی ان چار کمپنیوں کی ہے۔ یہ کمپنیاں کسی بھی لمحے دنیا کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرسکتی ہیں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک دن میں طاقت ور نہیں بنیں۔ انہوں نے سالہا سال محنت کی ہے۔ اپنے نظام کو بہتر کیا ہے۔ آپ بھی ایک تاجر ہیں۔ ملک و ملت کو سرخرو کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنی بنائیں۔ اس پہلو پر سوچیں تو سہی۔