ایڈم اسمتھ کو جدید معاشیات کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ آج دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں اسکاٹش ماہر معیشت کا فلسفہ پڑھایا جاتا ہے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ اس نے کہا تھا: ’’لوگوں کے درمیان دولت کی منصفانہ تقسیم ایک خفیہ اور نادیدہ ہاتھ سرانجام دیتا ہے جو مالک اور ملازم کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے اور ہر شخص کو اس کی اہلیت کے مطابق رزق مل جاتا ہے۔‘‘ (The Theory of Moral Sentiments)


سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے کے لیے پھیلایا گیا یہ نظریہ تباہی سے دوچار ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی غربت پر نظر رکھنے والا ادارہ ’’آکسفیم‘‘ کہتا ہے کہ اگلے سال تک ایک فیصد لوگوں کے پاس دنیا کے بقیہ 99 فیصد لوگوں سے بھی زیادہ دولت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا چلا جائے گا۔ صرف گزشتہ چھ سال میں ہر ایک امیر شخص کی دولت میں اوسطاً 27 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کہتے ہیں کہ ہر تین پاکستانیوں میں سے ایک صرف 50 روپے روزانہ یا اس سے بھی کم پر گزارا کررہا ہوتا ہے۔

امیر اور غریب میں تیزی سے بڑھتے اس فرق کی سب سے بڑی وجہ گلوبلائزیشن، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی تجارتی قوانین ہیں۔ گلوبلائزیشن نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا گول نہیں، چپٹی ہے۔ یعنی دنیا کے فاصلے بے معنی ہوگئے ہیں اور ہزاروں میل دور بیٹھا شخص بھی آپ کی جیب خالی کرکے اپنی تجوری بھر سکتا ہے۔ اٹھارویں صدی میں سارا یورپ صنعتی انقلاب سے نہال اور خوش حال ہورہا تھا۔ یورپ نے اپنی پیداوار بیچنے کے لیے دنیا بھر کو اپنی منڈی بنالیا۔ پہلے براہ راست دنیا کے تمام ممالک پر قبضہ جمایا اور اب فری مارکیٹ اور فری ٹریڈ کے نام پر۔

جس وقت یورپ میں صنعت، انڈسٹری اور کارپوریشن مستحکم ہورہی تھی، تب پاکستان سمیت تیسری دنیا کے تمام ممالک اپنے وجود کی جنگ لڑرہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیسری دنیا صنعت، انڈسٹری اور کارپوریشن کلچر کو فروغ نہ دے سکی۔ اکیسویں صدی میں آزاد تجارت کا نعرہ لگا کر ملکوں کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ان پر یورپ اور امریکا کے دروازے کھل جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ اور امریکا یہ چاہتے ہیں کہ کثیر آبادی پر مشتمل تیسری دنیا کے تمام ممالک میں ان کی کمپنیاں اپنے پنجے گاڑ لیں۔ اس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ دنیا کی اہم اور قابل ذکر تمام مصنوعات 10 بڑی کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ اس کا تفصیلی احوال آپ اسی شمارے کے اندرونی صفحات پر ملاحظہ فرمائیں گے۔ گزشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بڑھتی اجارہ داری پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اس حد تک بڑھی اجارہ داری کا نتیجہ ہے کہ حکومتیں ان پر مناسب ٹیکس عائد نہیں کرسکتیں۔ ملکوں سے بڑے بجٹ رکھنے والی یہ کمپنیاں کسی بھی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ میڈیا ایسی خبروں سے اٹا پڑا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے مفادات کی خاطر حکومتوں کو رشوت دی اور عوام کی جیبوں کو خالی کردیا۔ یہ کمپنیاں عوامی رفاہی خدمات پر بھی خرچ کرتی ہیں، لیکن حقیقی تناسب دیکھا جائے تو یہ کمپنیاں اپنے نفع کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ عوامی خدمات پر خرچ کرتی ہیں۔ اپنے پیسے کو ٹیکس سے بچانا اور غیر قانونی طور پر دنیا بھر میں موجود ’’ٹیکس ہیونز‘‘ میں منتقل کردینا بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا عام وطیرہ ہے۔ یہ کمپنیاں اپنی زائد پروڈکٹس کو سمندر میں ڈمپ تو کرسکتی ہیں مگر غریبوں میں مفت تقسیم ہرگز نہیں کرسکتیں۔

موجودہ استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت ہی ہر سال دو ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے نکل کر امیر ملکوں میں چلا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے غربت کو ختم کرنے کے لیے چند کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی۔ ایسے قوانین بنانا ہوں گے جن میں دولت سمٹ کر صرف چند جیبوں تک محدود نہ ہوجائے۔