عراق پر ایٹمی ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا گیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے عراق میں تبدیلی کا راگ الاپنا شروع کیا، امریکا نے پنجے جھاڑے اور اقوام متحدہ نے کارروائی کی منظوری دیدی۔ اتحادی اکٹھے ہوئے اور عراق پر چڑھ دوڑے۔ امریکی صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ قوم کو اربوں ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔ پارلیمنٹ نے اجازت دے دی۔ مگر اسی امریکی کانگریس کے سامنے صحت، تعلیم اور عوامی بہبود کا بجٹ آیا تو اس میں کٹوتی کر دی۔ کہا گیا خزانہ ان شعبوں پر سرمایہ کاری برداشت نہیں کر سکتا۔


کیا دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ زیادہ سے زیادہ ایٹمی اسلحہ بنانا ہے؟ کیا دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ گھنے اور لمبے بال ہیں؟ کیا دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کھانا ہضم کرنا اور ڈکاروں پر قابو پانا ہے؟ کیا پاکستان کے ہر ہر شہری کو ایسے موبائل کی ضرورت ہے جس پر ناچتی، تھرکتی اور حیا کی دھجیاں اڑاتی حسینائیں نظر آئیں؟ کیا خط غربت سے نیچے زندگی گزارتی دنیا کی آدھی آبادی کو لان کے نت نئے پرنٹ کی ضرورت ہے؟ دنیا کا ہر شخص کہے گا کہ ہرگز نہیں۔

لیکن یہ دنیا کی تلخ ترین حقیقت ہے کہ آج سب سے زیادہ پیسہ دفاع پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ امریکا سے لے کر پاکستان تک ہر ملک کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ اسلحہ اور فوج پر خرچ ہو رہا ہے۔ دنیا میں اتنا اسلحہ بنایا جا چکا ہے کہ پوری دنیا کو دس مرتبہ تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے باوجود ہر ملک اسلحہ کی دوڑ میں آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکا نے جتنا پیسہ بیلسٹک میزائل بنانے پر لگایا اس رقم سے اگر غربت کا خاتمہ کیا جاتا تو پانچ کروڑ خاندانوں کی کفالت کی جا سکتی تھی، ڈیڑھ لاکھ نئے اسکول تعمیر کیے جا سکتے تھے اور ساڑھے تین لاکھ ہیلتھ سینٹر تعمیر کیے جا سکتے تھے۔ آج دنیا میں اربوں انسانوں کو صاف پانی میسر نہیں، صحت اور صفائی کی سہولیات دستیاب نہیں، اقوام متحدہ کا دعوی ہے کہ صرف ایک ایٹمی آبدوز کی تیاری پر اٹھنے والا خرچ اگر پانی، صحت اور صفائی پر خرچ کیا جائے تو ایک ارب انسانوں کو صاف پانی، مفت طبی امداد اور صاف ستھرا ماحول مل سکتا ہے۔

دوسری طرف عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والی کمپنیاں اربوں روپے تشہیر کی آگ میں جھونک رہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ سال تقریبا 600 ارب ڈالر تشہیر پر خرچ کیے گئے۔ آپ اسی سے اندازہ لگائیں کہ پاکستان نے گزشتہ 68 سال میں مجموعی طور پر 65 ارب ڈالر قرض لیا۔ اس کا مطلب ہوا کہ پاکستان کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ رقم ہر سال صرف گاہکوں کا دل لبھانے پر استعمال کی جا رہی ہے۔ تشہیر پر خرچ کی جانے والی یہ رقم صحت، تعلیم یا غربت پر خرچ کی جاتی تو شاید دنیا سے غربت ختم ہو جاتی، ہر شخص کے لیے تعلیم مفت ہو جاتی اور علاج آسان ہو جاتا۔

تشہیر کی دوڑ میں پاکستانی کمپنیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ 2012 ء میں پاکستانی کمپنیوں نے تشہیر پر 30 ارب ڈالر روپے خرچ کر دیے۔ یہی رقم تعلیم کے فروغ پر خرچ ہو سکتی تھی، صاف پانی کی فراہمی اور تعمیر و ترقی پر خرچ ہو سکتی تھی۔ تشہیر پر خرچ کی جانے والی اس رقم سے چند میڈیا مالکان عیاشی کرتے ہیں، نئے فارم ہاؤس بناتے ہیں اور دنیا کی سیر پر نکل جاتے ہیں۔ جس لمحے یہ چند امیر گل چھڑے اڑا رہے ہوتے ہیں، اس وقت پاکستان کی ایک تہائی آبادی لقمے لقمے کو ترس رہی ہوتی ہے، بھوک سے ستائی مائیں خودکشی کرتی ہیں اور تنگدست باپ پنکھے سے جھول جاتا ہے۔ اگر کسی ملک کے تاجر یہ فیصلہ کر لیں کہ ایک سال تک ہر کمپنی اشتہارات چلانے کے بجائے تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرے گی۔ ٹی وی، ریڈیو اور بل بورڈز پر تشہیر کے بجائے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اسکول کی کتابوں اور بستوں پر کمپنی کا لوگو پرنٹ ہو گا، ہسپتالوں میں بورڈ نصب ہوں گے اور سڑک کے کنارے تعمیری کمپنی کے پینا فلیکس نصب ہوں گے۔ ان منصوبوں پر خرچ کرنے سے جہاں کمپنی کی تشہیر ہو گی وہیں ملک اور قوم میں خوش حالی بھی آئے گی۔