آج دنیا کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے۔ دنیا بھر میں اس مذہب کو ماننے والوں کی تعداد دو ارب سے بھی زیادہ ہے۔ پہلی صدی عیسوی سے شروع ہونے والا مذہب آج اکیسویں صدی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس مذہب میں بھی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ آج یہ مذہب ’’رومن کیتھولک، مشرقی آرتھوڈکس اور پروٹسٹنٹ‘‘ نامی تین الگ الگ فرقوں میں بٹ چکا ہے۔ دنیا پر اقتصادی طور پر قابض اکثر بڑے ممالک کا ریاستی مذہب عیسائیت ہی ہے۔ دنیا کے 197 ممالک میں سے 126 ملکوں میں عیسائی آبادی کی اکثریت ہے۔ آج دنیا کے متعدد بڑے کاروباری ادارے عیسائیوں کی ملکیت ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک بھی بہت سے عیسائی ہیں۔

دنیا بھر میں پھیلے بینکوں کے مالکان بھی عیسائی ہیں۔ ہر طرف پھیلے ہوئے سود میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسے افراد کی اکثریت کا تعلق بھی عیسائیت سے ہے۔ مگر کتنی عجیب بات ہے کہ سود عیسائی تعلیمات کی روشنی میں بھی حرام ہی ہے۔ (انجیل متی، 34:6) آپ یہودیت کو دیکھیں۔ عالمگیریت آشنا دنیا میں اقتصادی بادشاہت کی کرسی پر یہودی ہی براجماں ہیں۔

یہودیوں کی تعداد گننے پر آئیں تو صرف 0.2 فیصد ہے مگر دنیا بھر کی معیشت پر ان کا قبضہ ہے۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ ڈیڑھ کروڑ یہودیوں نے دنیائے اسلام کی مخالفت اور پرزور مزاحمت کے باوجود اپنا الگ ملک بنا رکھا ہے۔ دنیا کا 90 فیصد میڈیا انہی کے قبضے میں ہے۔ دنیا کی 111 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سے 99 کے مالک یہودی ہیں۔ وال اسٹریٹ کو دنیا کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس پر بھی یہودیوں کا ہی کنٹرول ہے۔

لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہودیت میں بھی سود حرام ہے۔ عہد نامہ قدیم کی کتاب ’’احبار‘‘ میں لکھا ہے: ’’اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہو جائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تو اسے سنبھالنا۔ وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔ تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔ تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔ (احبار: 36:25)

آپ ہندو ازم کی مثال لیں۔ دنیا میں اس مذہب کو ماننے والوں کی تعداد 13.8 فیصد ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے ملک انڈیا میں ہندووں کی اکثریت ہے۔ نیپال اور موریشس جیسے ممالک میں انہی کی حکومت ہے۔ کم و بیش دنیا کے 20 ملکوں میں موجود اس مذہب کے ماننے والوں کو بھی اپنی اقتصادی دانائی پر بہت مان ہے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح ہندوؤں کے مذہب میں بھی سود حرام ہے۔ مغل شہزادے ’’داراشکوہ‘‘ اور معروف ہندو پنڈت کے درمیان ہونے والے مکالمے سے واضح ہے۔ (اسرار معرفت)

آپ نے دیکھا کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں سود حرام ہے مگر یہ تمام مذاہب دنیا بھر کی تجارت پر قبضہ پانے کے باوجود بھی سود ختم نہیں کر سکے۔ دنیا بھر کے عیسائیوں کا مرکز ’’ویٹی کن سٹی‘‘ یورپ کی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے مگر پوپ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی سود کا متبادل نظام نہیں پیش کر سکا۔ دنیا کا ہر یہودی جانتا ہے کہ دوسرے یہودی سے سود نہیں لینا مگر ظلم ستم اور دھونس دھاندلی سے دنیا کی پہلی مذہبی ریاست حاصل کرنے والے یہودی بھی اپنی اس ریاست سے سود نہیں ختم نہیں کر سکے۔ مگر قربان جائیے! اسلام کے فرزندوں پر جنہوں نے دنیا بھر کے طعنے سہے مگر پھر بھی سود کا متبادل نظام دنیا کو فراہم کر دیا۔ ایسا متبادل پیش کیا ہے کہ خود عیسائی پوپ، یہودی بینکار اور ہندو بنیا بھی اسلامی بینکوں میں کھاتا کھلوا رہا ہے۔ ویٹی کن سٹی کے ترجمان روزنامہ اخبار میں پوپ کا بیان شائع ہوتا ہے کہ غیر سودی بینکاری کا نظام عیسائیت کے لیے قابل تقلید ہے۔ برطانیہ میں پانچ مکمل اسلامی بینک کام کر رہے ہیں۔ برطانوی سرمایہ کاروں کی کوشش ہے کہ اسلامی بینکاری کا مرکز دبئی کے بجائے لندن بن جائے۔ وال اسٹریٹ جنرل لکھتا ہے کہ یورپ میں غیر مسلموں کی بڑی تعداد اسلامی بینکاری کو ترجیح دیتی ہے۔ اس بے مثال کارنامے پر مسلم فقہائ، علماء اور دانشور بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔