وہ ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا مگر خود عیسائی بن گیا۔ 1818ء میں پیدا ہونے والا یہ شخص دنیا سے گیا تو دنیا نے اسے کلیم بے تجلی اور مسیح بے صلیب قرار دیا۔ کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل ’’سرمایہ‘‘نے دنیا بھر کے معاشی فلسفے کو چیلنج کردیا۔ زندگی بھر بورژوازی طبقے کے خلاف جدوجہد کرنے والا مارکس خود پرولتاری طبقے میں ہی رہا۔ لیکن مارکس کی انتھک محنت نے ایک دنیا کے افکار کو متاثر کیا۔

1848ء میں اس نے ایک کمیونسٹ مینی فسٹو دیا۔ مارکس کو اپنی وفات کے بعد جتنی پذیرائی ملی، زندگی میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ دنیا میں بپا ہونے والے ہر انقلاب میں اس کا نام لیا گیا۔ سوویت یونین میں انقلاب آیا، لینن اور اسٹالن نے کمیونزم کی بنیادوں پر حکومت استوار کردی۔ ہر شخص کا خیال تھا کہ بہت جلد ہر طرف خیالی جنت نظر آئے گی۔ مگر صرف 74 سال میں یہ خیالی جنت تباہی، بربادی اور ویرانی کا شکار ہوگئی۔ سرمایہ داریت نے دنیا بھر پر جشن منایا۔

دوسری طرف کمیونزم کے متوالوں نے شور مچادیا کہ روس میں کارل مارکس کے نظریات پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ روس میں مارکسی کمیونزم کے بجائے اسٹالن کی خود ساختہ اشتراکیت ناکام ہوئی ہے۔ مارکس، اینگلز اور لینن کی تعلیمات کو تو نافذ ہی نہیں ہونے دیا گیا۔ یہی دعوی چین کے بارے میں بھی ہے۔ وہاں مارکسی نظریات کے بجائے سرمایہ داریت کی نئی شکل موجود ہے۔

اشتراکیوں کا خیال ہے کہ آج بھی دنیا کی کسی جگہ کارل مارکس کی تعلیمات مکمل طور پر نافذ کی جائیں تو وہ جگہ مثالی جنت بن ہی جائے گی۔ اس لیے کہ کارل مارکس کے نزدیک ذرائع پیداوار پر نجی ملکیت کا خاتمہ کرکے ہی ملک و قوم کو خوش حالی کے راستے پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے کے ہر شخص کو کام کرنا ہوگا۔ صنعت و حرفت کو تیزترین فروغ دیا جائے گا۔ معاشرے میں غریب اور امیر کے فرق کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔ کوئی برتر یا کم تر طبقہ نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے کام اور ضرورت کے مطابق اجرت فراہم کی جائے گی۔

مارکس اور اینگلزکا خیال تھا کہ کمیونزم پر عمل کے نتیجے میں دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ ہر شخص ایک مناسب وقت کام کررہا ہوگا۔ دن رات، صبح شام کاروبار میں سرنہیں کھپانا پڑے گا۔ تمام لوگوں کا معیار زندگی ایک ہو جائے گا۔ وسائل کا استعمال بہتر انداز میں ہوسکے گا۔ خوش حالی اور فارغ البالی کا ہرسو دور دورہ ہوگا۔ ہر شخص کو سرمایہ دستیاب ہو گا تو مقابلہ بازی باقی نہیں رہے گی۔ معاشرے سے چوری چکاری جیسے جرم ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائیں گے۔ وسائل کی کم یابی ختم ہوجائے گی اور ہر شخص کو ٹھیک ٹھیک حصہ مل جائے گا۔ اس طرح کارل مارکس کا نیا انسان یعنی specie being وجود میں آئے گا۔

جب سے سرمایہ دارانہ نظام کو مالی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، تب سے مارکس ازم کی آواز مزید شدت سے اٹھائی جارہی ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ آواز بے وقت کی راگنی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ مارکس ازم تمام لوگوں کو یکساں کام کی دعوت دیتا ہے مگر اس کا کوئی جواب نہیں دیتا کہ ایک مارکسی معاشرے کے ذہین، فطین اور اعلی دماغ اپنی تمام ترصلاحیتوں کو آخر کیسے بروئے کار لائیں گے؟ جب ہر شخص کو ایک متعین تنخواہ ملنی ہے تو لوگوں میں جذبہ، تحریک اور ترغیب کیسے پیدا ہوگی؟ مارکس ازم کی بنیاد بھی انسان کی بے لگام خواہشات کو پورا کرنا ہے۔ مارکس ازم قدم قدم پر مادیت پرستی کی ترغیب دیتا ہے۔ روحانیت، عبدیت اور عبادت سے اسے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس تہذیب میں عقل انسانی کو رہبر و رہنما مانا جاتا ہے، شریعت اور ہدایت کو یکسر خیر باد کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ ایسا نظام کتاب کی جلد سے باہر نکلنے کے قابل نہیں ہوتا۔