کمپنیاں ہر سال ملازمین کے لیے انعامات کا اعلان کرتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں ہر مہینے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کبھی ملازمین کی تنخواہ بڑھا دی جاتی ہے، کبھی انہیں پارٹی دی جاتی ہے، کچھ جگہوں پر اضافی چھٹیاں ملتی ہیں اور کسی جگہ مراعات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب چیزیں ضروری ہیں۔ مگر مالی انعام کے ساتھ ساتھ ملازمین کو فکری اور ذہنی ترغیب دینا بھی کم اہم نہیں۔ اگرچہ کچھ کمپنیاں مزدوروں کا استحصال کرتی ہیں مگر ہر کمپنی کو اپنے ملازمین سے بد محنتی کا شکوہ بھی رہتا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں اسلام کس طرح محنت، جدوجہد اور مشقت کی ترغیب دیتا ہے۔


ہر مسلمان کی خیر خواہی


کمپنی، ادارے اور دفتر کا ہر ملازم اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ کوئی ملازم محنت سے کام نہیں کرے گا تو قیامت کے دن جواب دہ ہو گا۔ کوئی منیجر اچھی طرح مینجمنٹ نہیں کرے گا تو پکڑا جائے گا

ہر مسلمان جانتا ہے کہ حلال روزی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرنا بھی دین کا حکم ہے اور بلاشبہ ثواب کا کام ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ مجھے ہر وقت اللہ تعالی دیکھ رہا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی کام کر رہا ہوں، قیامت کے دن ان سب کا جواب دینا ہے۔ دنیا میں جو نیک کام کیا اس کا بھی بدلہ ملنا ہے اور برے کام کا انجام بھی بھگتنا ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہر مسلمان بھائی کو اچھے کام کا مشورہ دینا چاہیے اور برے کام سے منع بھی کرنا چاہیے۔ گویا اللہ تعالی اپنے ہر ہر بندے کی نگرانی کر رہا ہے اور ہر مسلمان بھی اپنے بھائی کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے بھائیوں کی خیر خواہی کا خیال رکھے۔

دنیا اور آخرت میں کامیابی
ہم ہر نماز میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہماری دنیا بھی اچھی کردے اور آخرت بھی۔ یہ دعا اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو سکھائی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلمان کو اپنی دنیا بھی اچھی بنانی چاہیے اور آخرت بھی۔ مسلمان دنیا کے معاملے میں بھی پیچھے نہیں رہ سکتا اور آخرت کے معاملے میں بھی اسے بہرحال یہیں پر رہ کر کمائی کرنی ہے۔ اسلام میں دین اور دنیا کی تقسیم ہے ہی نہیں۔ اللہ کی رضا کے لیے کیا جانے والا ہر کام دین بن جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اتنی محنت، مشقت اور عمدگی سے کام کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی خوش ہو جائے۔ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ آپ دنیا کا کوئی بھی کام کرتے تو اسے بہترین انداز میں کرتے۔ مسلمانوں کو بھی ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی کو بہت پسند ہے کہ جب تم کوئی کام کرو تو اسے بہترین انداز میں سرانجام دو۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے: ’’اللہ تعالی ہنرمند اور ماہر مسلمان سے محبت کرتا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا: ’’سب سے بہتر کام وہ مزدور کرتا ہے جو اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سر انجام دے۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، رقم: 8207)

ہر شخص کی ذمہ داری
کمپنی میں آپ نے خود کام کرنا ہوتا ہے یا اپنے ماتحتوں سے بروقت کام کروانا ہوتا ہے۔ اگر آپ دوسروں سے کام لے رہے ہیں تو امانت داری، برابری، انصاف اور دیانت داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ یہ ذمہ داری صرف کمپنی کی طرف سے ہی نہیں ہے، بلکہ قیامت کے دن اللہ کے حضور بھی صفائی پیش کرنا ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: ’’ہر شخص اپنے ماتحتوں کی طرف سے جواب دہ ہے۔ سربراہِ مملکت نگران ہے اور اپنے عوام کی طرف سے جواب دِہ ہے۔ آدمی اپنے اہل خانہ کا نگران ہے اور ان کی طرف سے جواب دہ ہے۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور جواب دہ ہے۔ آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس پر جواب دہ ہے۔ ہر نگران اپنے ماتحتوں کی طرف سے جواب دہ ہے۔‘‘

(بخاری شریف، رقم: 857) ایک دوسری حدیث میں واضح طور پر فرمایا گیا: ’’جو شخص بھی اپنے ماتحتوں پر نگران بنا اور اس نے ماتحتوں کو دھوکہ دیا تو اللہ تعالی اس شخص پر جنت حرام کر دے گا۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، رقم: 3686) اس لیے کمپنی، ادارے اور دفتر کا ہر ملازم اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ کوئی ملازم محنت سے کام نہیں کرے گا تو قیامت کے دن جواب دہ ہو گا۔ کوئی منیجر اچھی طرح مینجمنٹ نہیں کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ اگر کو ئی مالک اپنے ملازمین پر ظلم کرے گا اور ان سے انصاف نہیں برتے گا تو وہ بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ کوئی معاشرہ تبھی درست ہو سکتا ہے جب ہر ہر فرد اپنے کام کو بہترین انداز میں سر انجام دے رہا ہو۔ آئیے! عہد کریں کہ خود بھی محنت سے کام کریں گے اور دوسروں کو محنت سے کام کرنے کی تلقین کریں گے۔