جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے۔ اسلام کے معاشی نظام نے دنیا بھر کے نظاموں کو چیلنج کردیا ہے۔ پہلے ویٹی کن سٹی اور پوپ نے اعلان کیا تھا کہ اسلامی بینکاری خطرات سے محفوظ ہے۔ پوپ نے عیسائیوں کو ترغیب دی کہ دنیا بھر کے بینکوں کو اپنے گاہکوں کے ساتھ ویسا ہی تعلق رکھنا چاہیے جیسا کہ اسلامی بینک رکھتے ہیں۔ ویٹی کن کا یہ مشورہ بھی تھا کہ آئندہ اولمپکس گیمز میں اسلامی صکوک کے طریقہ کار کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی وزیر خزانہ کرسٹینا لوگارڈ نے اعلان کیا تھا کہ ہم پیرس کو اسلامی بینکاری کا مرکز بنا کر دم لیں گے۔

شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں یورپ کی دولت نکل کر اسلامی ملکوں کے بینکوں میں نہ چلی جائے۔ اب آئی ایم ایف نے بھی اسلامی بینکاری پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے سودی بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ نفع و نقصان پر مبنی اسلامی معیشت کو ضرور آزمائیں۔

آئی ایم ایف، عیسائیوں کا پوپ اور یورپی ممالک بلاوجہ اسلامی بینکاری کی تعریف نہیں کر رہے۔ دنیا بھر کے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں اسلامی بینکاری کسی بھی مالی بحران کا سامنا کرنے کی استطاعت ہے۔ 2008 ء کے معاشی بحران نے صرف امریکا میں 54 لاکھ افراد کو بے روزگار کیا تھا۔ اس بحران میں اگر کوئی مالیاتی ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا رہا تو وہ اسلامی مالیاتی ادارے تھے۔ ارنسٹ اینڈ ینگ (Ernst & young) دنیا بھر میں مستند آڈیٹنگ فرم سمجھی جاتی ہے۔ یہ ادارہ کہتا ہے کہ 2008 ء سے لے کر 2012 ء تک جب پوری دنیا اقتصادی بدحالی اور مالیاتی تباہی کا شکار تھی، اس وقت بھی اسلامی بینکوں کے اثاثوں میں 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اسی لیے آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ جس وقت سودی بینکاری نظام ڈوب رہا تھا اسی وقت اسلامی بینکوں میں اکاونٹس کھولنے والوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی ویب سائٹ پر جو سروے دیا ہے، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان پر شراکت کی وجہ سے اسلامی بینک تباہی سے کافی حد تک محفوظ رہے، لہذا آئی ایم ایف سودی اداروں کو بھی مشورہ دیتا ہے کہ ایسے کھاتے اپنے بینکوں میں بھی شروع کریں۔

عالمی مالیاتی بحران کا جائزہ لیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ نفع اور نقصان میں شراکت نہ ہونا تھی۔ امریکا اور یورپ کی تمام تر معیشت قرضوں کی بنیاد پر کھڑی تھی۔ ہر ہر شہری قرضے میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسا ہوا تھا۔ بینک دھڑا دھڑ قرض دیتے اور کسی نہ کسی ادارے سے قرض کی انشورنس کروالیتے۔ سارا نظام قرض اور سود کی بنیاد پر استوار تھا۔ کسی بھی جگہ نفع نقصان میں شراکت کے اصول پر عمل نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف کریڈٹ کارڈ جاری کیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی خاندان کے پاس 14 کریڈٹ کارڈ تھے۔ سرمایہ داریت کا طوطی بول رہا تھا۔ مارکیٹ میں دھوکہ دہی شروع ہوئی۔ ریاست خاموش رہی۔ قرضوں کا لین دین بڑھتا چلا گیا۔ اندازہ لگائیں کہ پوری دنیا کی مجموعی پیداوار 57 ٹریلین ڈالر ہے مگر بحران کے وقت واجب الادا قرضے (Swaps) کی مقدار 656 ٹریلین ڈالر تک پہنچی ہوئی تھی۔

دوسری طرف اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ قرض کو کم سے کم رکھا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت فرمائی تھی: ’’گناہ کم کرو، موت آسان ہو جائے گی۔ قرض کم سے کم لو تو زندگی خوشگوار ہو جائے گی۔‘‘ (التوبۃ، ابن ابی دنیا، رقم: 19) ایک دوسری حدیث شریف میں ارشاد ہے: ’’قرض زمین پر اللہ کی نشانی ہے۔ جب اللہ تعالی کسی شخص کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو قرض میں پھنسا دیتا ہے۔‘‘ (مستدرک علی الصحیحین، رقم: 2557) دوسرے لفظوں میں اللہ تعالی نے سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کو ظاہر کرنا تھا، اس لیے دنیا بھر کے سودی نظام کو ڈوبتا ہوا دکھا دیا۔ ان حالات میں اسلامی بینکوں کو چاہیے کہ اپنے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں، رسک مینجمنٹ پر توجہ دیں، نفع اور نقصان پر مبنی معاہدوں کو فروغ دیں اور ایک عام آدمی تک اسلامی معاشی نظام کے فوائد منتقل کرنے کی کوشش کریں۔