جیسے دوکان کا شٹرگرتا ہے، اس طرح اس کے دماغ پر اندھیرے کی دبیز چادر پھیلتی گئی۔ یکایک ہسپتال کا فرش اٹھتا محسوس ہوا اور ہر سو مکمل تاریکی پھیل گئی۔ پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑدیاتھا۔ پندرہ دن موت اور زندگی کے درمیان دنگل ہوتا رہا۔ وہ کومے میں رہا۔ اس کا وزن 40پونڈ تک کم ہوگیا۔ مگر پھر وہ موت کے منہ سے نکل آیا۔ ہوش آیا تو اگلے دوہفتے زبان نے بولنے سے معذرت کرلی۔ ابھی اس نے زندگی کی صرف 20بہاریں دیکھی تھیں۔ زبان خاموش ہوئی مگر دماغ بہت تیز ہوگیا۔ زندگی کے 20سال اس کے دماغ کی اسکرین پر نمودار ہونے لگے۔ دمہ اس کا پیدائشی ساتھی تھا۔ ڈاکٹروں

سے اس کی روزانہ ملاقات ہوتی۔ مرض اور بیماری اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ وہ تنومند اور صحت مند تھا۔ مگر کھیلنا، کودنااور دوڑنا اس کی زندگی سے نکل گیا۔ وہ اپنے دوستوں کو کھیلتا دیکھ سکتا تھا مگر خود یہ سب نہیں کرسکتا تھا۔ پھر دکھوں اور غموں نے اس کا گھر دیکھ لیا۔ دس سال کی عمر تک پہنچا تو والدین میں طلاق ہوگئی۔ دماغی بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ تنہائی،بیماری اور محرومی نے نڈھال کردیا۔ وہ برے دوستوں میں گھر گیا۔ اس نے ادویات اور منشیات سے دوستی کرلی۔ روزانہ 30سگریٹ پیتا اور دمے کے مرض کو بڑھاتا چلا جاتا۔
اسکول چھوٹا اور آوارگی نے گرفت میں لے لیا۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔ شاخ سے ٹوٹے آوارہ پتے کی طرح جو کسی بھی لمحے فنا ہوجائے۔ وہ خود کشی کے راستے پر چل نکلا۔ کبھی نوکری کی اور پھر چھوڑ دی۔ زندگی وبال دوش بن گئی۔ صحت گرتی چلی گئی اور موت قریب سے قریب تر ہوگئی۔ مگر موت اور ''برینٹ'' کے درمیان ڈاکٹر آگئے۔ وہ موت کے منہ سے نکل آیا۔ بستر پر پڑا وہ سوچتا رہا کہ زندگی میں اس نے کیا کھویا کیا پایا؟ ادویات ، منشیات، تنہائی اور بیماری۔ اس نے بری عادتیں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنی زندگی خود جینے کا فیصلہ کیا۔ برینٹ صحت یاب ہو ااور ہسپتال سے فارغ ہوگیا۔ اس نے زندگی کا ہدف متعین کیا۔ روزانہ کا ٹائم ٹیبل متعین کیا۔ پہلے ایک فٹنس پروگرام میں داخلہ لیا۔ ایک ٹی شرٹ جیت لی۔ تین سال بعد وہ خود جسمانی کرتب سکھانے لگا۔ حوصلہ اور اعتماد بڑھتا گیا۔ پانچ سال بعد اس نے نیشنل چیمپئن شپ میں حصہ لیا۔ تعلیم پھر سے شروع کردی۔ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ تعلیم مکمل ہوئی تو اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر'' ٹائی فون سپورٹس ویئر لمیٹڈ''کے نام سے کمپنی بنائی۔ وہ اسپورٹس کا سامان بناتا اور اسے بیچ دیتا۔ شروع میں چار ملازم رکھے۔ اس نے ہدف بنا یا کہ مجھے ملٹی نیشنل کمپنی بنانی ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور عمدہ معیار نے اس کے راستے کی ہر رکاوٹ دور کردی۔ صرف پندرہ سال میں یہ ننھا منا سا ادارہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی بن گیا۔
ایک ایک ڈالر کی خاطر ترسنے والا برینٹ آج کروڑ پتی بن چکا ہے۔ اس کی کمپنی ملٹی ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ برینٹ ووری (Brent Vouri) دنیا کے بڑے بڑے اداروں کو اسپورٹس کا سامان پہنچا رہاہے۔ دنیا میں جو محنت کرتا ہے، وہ مقصد تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ تجارت سے وابستہ ہیں۔ مگر پاکستان اب تک ملٹی نیشنل کمپنی بنانے میں ناکام رہا۔ کیا پاکستان میں صلاحیت کی کمی ہے؟ کیا ہمارے تاجر کے آگے بڑھنے میں رکارٹ ہے؟ کیا یہاں سرمایہ کاری کے مواقع نہیں ہیں؟ کیا ہمیں سامان کی ترسیل کے لےے سمندر دستیاب نہیں؟ ان میں سے کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں کوئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی وجود میں نہیں آئی۔
ذرا اندازہ لگائےے کہ پاکستان کا جی ڈی پی 210 ارب ڈالر ہے۔ عالم اسلام کے تمام ممالک کا جی ڈی پی)مساوی قوت خریدPPP) 77کھرب ڈالر ہے جبکہ صرف امریکا کا جی ڈی پی 150کھرب ڈالر ہے۔ دنیا کا مجموعی جی ڈی پی ہے 691کھرب ڈالر، اس کا مطلب ہوا کہ اکیلا امریکا اس وقت دنیا کی 20فیصد سے زیادہ دولت کا مالک ہے۔ امریکا نے یہ ہدف صرف اور صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے حاصل کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی ضرورت نہیں؟ کیا پاکستان میں معیار ی اشیا نہیں بن رہیں؟ کیا یہ ہر ہر پاکستانی تاجر کا ملی و قومی فرض نہیں کہ ملکی معیشت کو عروج پر پہنچائے؟ کیا یہ دینی و قومی غیرت کا تقاضا نہیں کہ ہر ہر مسلمان تاجر اپنے کاروبارکو پھیلائے اور ملٹی نیشنل کمپنی بنائے؟