دنیا کا ہر شخص صارف (consumer) ہے۔ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر دوسروں کی تیار کردہ اشیا استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ ہر ہر مرحلے پر شریعت نے صارف کے حقوق کا خیال کیا ہے۔ سب سے پہلے صارف کے ذاتی حوالے سے کئی حقوق متعین کیے ہیں۔ صارف کو بتایا ہے کہ اسے اللہ تعالی کی پیدا کردہ نعمتوں کو بہر حال استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالی کے پیدا کردہ رزق کو کھانا ہے۔ کوئی بھی شخص اللہ کا رزق کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اس لیے ہر ہر شخص پر فرض ہے کہ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’کلوا من طیبات ما رزقناکم…اللہ تعالی کی

عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔‘‘(بقرہ: 172)
اسلام نے صارفین (consumers) کو یہ بھی بتایا ہے کہ ہر چیز کو بے دریغ کھانا بھی درست نہیں۔ شراب، خنزیر، مردار اور خون اسی لیے حرام کردیے گئے کہ وہ کسی بھی صارف کی صحت کے لیے نقصان دہ بن سکتے ہیں۔ صارف کو یہ بھی بتا یا ہے کہ سب سے پہلے زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیا خریدو۔ وہ مل جائیں تو پھر روزمرہ ضرورت کی چیزیں حاصل کرو۔ ان کے بعد اشیائے تعیش کو حاصل کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ مگر کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لیے فضول خرچی کبھی نہ کرو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’کھائو، پیو اور فضول خرچی مت کرو۔ بے شک اللہ تعالی فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(سورہ اعراف: 31)
پھر صارفین کے حوالے سے (manufacturers) یعنی مصنوعات بنانے والے صانعین کو بھی ہدایات دی ہیں۔ سب سے پہلے نمبر پر تو (manufacturers) یعنی صانعین کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی حرام چیز کو ہر گز نہ بنائیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، شراب میں حصہ لینے والے دس افراد پر، شراب کے لیے رس نچوڑنے والے پر، جس کے لیے رس نچوڑا جائے اس پر، شراب پینے والے پر، اٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لائی جائے اس پر، شراب پلانے والے پر، بیچنے والے پر، شراب کے پیسے کھانے والے پر، شراب خریدنے والے پر، جس کے لیے خریدی جائے اس پر بھی۔ (سنن ترمذی، کتاب البیوع، رقم الحدیث: 1295) اسی طرح (manufacturers) کو ہدایت کی ہے کہ انتہائی عمدہ مصنوعات تیار کریں۔ مصنوعات کی تیاری میں جان کھپائیں۔ بہتر سے بہتر چیز تیار کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ جب کوئی شخص کام کرے تو اسے بھرپور عمدگی سے سرانجام دے۔
(معجم طبرانی: 275/1)اشیا تیار کرنے والے کو ملاوٹ سے بھی منع کیا ہے۔ جو شخص ملاوٹ کرکے چیز بیچتا ہے اسے دنیا میں بھی رسوائی ملتی ہے اور آخرت میں بھی پکڑ ہوگی۔ ملاوٹ کرنے والے کو معاشرے میں عزت ملتی ہے نا ہی ایسا کاروبار زیادہ عرصہ تک چل سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (صحیح ابن حبان: 1107) پھر (manufacturers) صانعین کو اس سے بھی منع کیا ہے کہ وہ ناجائز نفع کمائیں۔ اشیا کو روک کر رکھ لیں، ذخیرہ اندوزی شروع کردیں، یا کسی بھی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے زیادہ نفع کمائیں۔ اگر کوئی بھی شخص ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ ایسے افراد کو سزا دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج بالا احکامات ایک مینو فیکچرر، ایک دکاندار اور ہر لین دین کرنے والے کو یہ پیغام دینے کے لیے کافی ہیں کہ وہ اپنے صارف، کسٹمر اور گاہک کے حوالے سے خصوصی فکر مندی سے کام لے۔