اس وقت دنیا کی تجارت پر 50بڑی کمپنیاں قابض ہیں۔ یہ اگر چاہیں تو پوری دنیا کی بجلی بند کر دیں، ٹیلی فون کا نظام جام کر دیں، دنیا بھر کی ٹریفک کھڑی رہ جائے، خوراک بند کر دیں اور جب چاہیں بینکوں کو دیوالیہ کر دیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے ان میں سے ایک کمپنی بھی مسلمانوں کی نہیں ہے۔ ان میں سے 43کا تعلق امریکا سے ہے،3 کمپنیاں جاپان، ایک ہالینڈ، ایک سوئزر لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک کا تعلق سنگاپور سے ہے۔

یہ کمپنیاں اس وقت دنیا کی70 سے 75 فیصد دولت کی مالک ہیں۔ ان میں سے سب سے غریب کمپنی ’’سوئی ٹومو لائف‘‘ ہے جو 37ہزار5 سو 35ملین ڈالر کے اثاثہ جات کی مالک ہے۔ یہ اثاثے پاکستان کے بجٹ سے 3 گنا زیادہ ہیں۔ دنیا کی دس بڑی منافع کمانے والی کمپنیوں میں 8 امریکی ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ منافع کمانے والی ہالینڈ کی کمپنی ’’شیل‘‘ ہے۔ یہ سالانہ 10اعشاریہ 8 بلین ڈالر کماتی ہے۔
آپ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک پر نظر دوڑائیے۔ پھر یہ دیکھیے کہ ان ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیاں کتنی ہیں؟ آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بدولت ہی معاشی جن بنے ہوئے ہیں۔ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں۔ اس وقت دنیا میں تیل پیدا کرنے والے 11بڑے ممالک ہیں۔ ان میں سے دس ممالک مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل بلکہ تقریبا سارا تیل ہی مسلمانوں کے پاس ہے۔ مگر یہ اسلامی ممالک تیل جیسی دولت کے باوجود بھی غریب، بدحال اور مغرب کے دست نگر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی نہیں ہے۔ 58اسلامی ممالک کے پاس کوئی ایک بھی تیل نکالنے والی کمپنی نہیں۔ اس وقت صرف امریکا کی 20سے زائد ایسی کمپنیاں ہیں جو اسلامی ممالک سے تیل نکال رہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عالم اسلام معاشی تنگ دستی سے کیسے نکلے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو معاشی دیو بنانے میں ایک تاجر کا کردار کیا ہو؟ اس کا جواب عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابوالحسن علی ندوی دیتے ہیں: ’’جب تک عالم اسلام علم و سیاست صنعت و تجارت میں مغرب کا مختاج رہے گا، مغرب اس کا خون چوستا رہے گا، اسی کی زمین کا آبِ حیات نکالے گا اس کا سامان تجارت اور مصنوعات لوٹے گا، ہرروز اس کی منڈیوں، بازاروں اور جیبوں پر چھاپہ مارے گا اور اس کی ہر چیز پر ہاتھ صاف کرتا رہے گا۔ جب تک عالم اسلامی مغرب سے قرض لیتا رہے گا اور اپنی حکومت کا انتظام کرنے، اہم اور کلیدی عہدوں کو پُر کرنے، اپنی فوج کو ٹریننگ دینے کے لیے مغرب کے آدمیوں کا رہین منت رہے گا، وہاں کا سامان تجارت و صنعت منگوائے گا، اور اس کو اپنا اتالیق، استاد، مربی اور سرپرست حاکم اور سردار سمجھے گا، اس کے حکم اور اس کی رائے کے بغیر کوئی کام نہیں کرے گا، اس وقت تک مغرب خود کو حاکم اور سردار سمجھے گا، اس وقت تکعالم اسلام، مغرب سے مقابلہ کرنا تو درکنار اس سے آنکھیں بھی نہیں ملا سکتا۔
یہ علمی اور صنعتی زندگی کا وہ شعبہ تھا جس کے بارے میں عالم اسلامی نے عہد ماضی میں کوتاہی سے کام لیا اور جس کی تعزیر میں اس کو طویل اور ذلیل زندگی کا مزہ چکھنا پڑا اور اس پر مغربی قیادت اور سرداری مسلط کی گئی جس نے دنیا میں تباہی و غارت گری، قتل و خوں ریزی اور خودکشی برپا کی۔ اب اگر اس موقع پر بھی عالم اسلام نے علمی و صنعتی تیاری اور اپنی زندگی کے معاملات میں آزادی کے بارے میں غفلت برتی اور اس مرتبہ بھی اس سے یہ چوک ہو گئی تو دنیا کی تقدیر میں بد نصیبی اور شقاوت لکھ دی جائے گی اور انسانیت کے ابتلا کی مدت اور طویل ہو جائے گی۔‘‘ (دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر)
سو، مسلمان تاجر ملک، ملت اور عالم اسلام کی خیرخواہی کا جذبہ لے کر آگے بڑھے۔ اپنی تدبیر سے مسلم امہ کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرے۔ وہ دن دور نہیں جب مسلمان پھر سے سپر طاقت کے روپ میں ابھر یں گے۔ اسلام کا معاشی غلبہ وجود میں آجائے گا۔