آپ کبھی نہ کبھی شیل (Shell) کمپنی کے پیٹرول پمپ پر تو ضرور گئے ہوں گے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔ جنوری 2013کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس کے 44000سروس اسٹیشن ہیں۔ 90ممالک میں اس کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔ ایکسن دوسری بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔ اس امریکی کمپنی کے دنیا بھر میں 82100ملازم ہیں۔ اس کی صرف آمدن 486ارب ڈالر ہے۔اس کا اندازہ صرفاس سے لگائیے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP)

ہی 210ارب ڈالر ہے۔ تیسری بڑی کمپنی امریکی وال مارٹ ہے۔ جس کے دنیا بھر میں8500اسٹور ہیں، جن میں 22 لاکھ ملازم کام کرتے ہیں۔ اس کی آمدن 446ارب ڈالرہے۔ دنیا میں اس وقت 12ہزار سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔سر فہرست 500میں سے 132کمپنیاں صرف امریکا کی ہیں، چین کی 73اور جاپان کی 68ہیں۔ امریکا کی کوکا کولا کمپنی کا کاروبار 200ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ میکڈونلڈ نے دنیا کے 120ممالک میں 2700ریسٹورنٹ کھول رکھے ہیں۔ ملٹی نیشنل کی اس فہرست میں وطن عزیز پاکستان کا روایتی حریف انڈیا بھی موجود ہے۔ بھارت کی 8کمپنیاں بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے کاروباری ادارے اس فہرست میں کیوں نہیں؟ آخر پاکستانی کمپنی کیوں نہیں دنیا بھر میں اپنا کاروبار پھیلا سکتی؟ پاکستان میں کے اندرونی حالات دگرگوں سہی مگر بیرون ملک تجارت سے کون روکتا ہے؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمارے کاروباری اداروں میں پیشہ ورانہ فنون اور مہارتوں کی کمی ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ہمارے کتنے اداروں میں بین الاقوامی معیار کی مینجمنٹ ہے؟ کتنی کمپنیوں میں عالمی معیار کی اکائونٹنگ اور آڈٹ کا نظام ہے؟ کتنی فیکٹریاں ہیں جن کو تعلیم یافتہ افراد پروفیشنل انداز میں چلارہے ہیں؟ کتنے کاروبار ہیں جن میں فائنانسنگ کے جدید اسلوب کو اختیا ر کیا جاتا ہے؟ کون ہے جو جدید انداز کے مطابق مارکیٹنگ کر رہا ہو؟ کیا یہ تمام اعلی تعلیم اور بہترین معیار صرف غیر مسلم ممالک کے لیے ہیں؟ کیا کوئی مسلمان اور پاکستانی ان کو اختیار نہیںکرسکتا؟


کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا؟ سیاست اور تجارت میں’’ سب جائز‘‘ سمجھا جاتا ہے؟ جو کمپنی ہم سے ایک بار سامان منگواتی ہے، پھر وہ کسی پاکستانی تاجر پر اعتماد کے لیے تیار نہیں ہوتی؟ کون سا ایسا ادارہ ہے جس میں بزنس پلاننگ اور طویل منصوبہ بندی کی گئی ہو؟ کہیں بھی وژن، سسٹم اور پلاننگ نظر نہیںآتی۔ اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

 کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا؟ سیاست اور تجارت میں’’ سب جائز‘‘ سمجھا جاتا ہے؟ جو کمپنی ہم سے ایک بار سامان منگواتی ہے، پھر وہ کسی پاکستانی تاجر پر اعتماد کے لیے تیار نہیں ہوتی؟ کون سا ایسا ادارہ ہے جس میں بزنس پلاننگ اور طویل منصوبہ بندی کی گئی ہو؟ کہیں بھی وژن، سسٹم اور پلاننگ نظر نہیںآتی۔ اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ تجارت میں جدید طریقے استعمال نہیں کیے جاتے۔ دنیا ڈیجیٹل آلات تک پہنچ گئی مگر ہمارے بڑے بڑے کاروباری ادارے ابھی تک قلم، کاغذ اور رسیدوں کے چنگل سے نہیں نکل پائے۔ امریکا میں آٹو میٹک ڈرون سے گھر گھر اشیا پہنچائی جارہی ہیں، چین میں آن لائن خرید و فروخت ہورہی ہے، برطانیہ میں خریدو فروخت کا تمام تر نظام موبائل اور الیکٹرک آلات پر منتقل ہوگیا، فرانس میں فیس بک اور ٹویٹرسے تشہیر اور فروخت کی جارہی ہے، مگر ہمارا تاجر آج بھی 19ویں صدی میں کھڑا ہے۔

 جب تک ہم احتیاط کے ساتھ رسک اور جرات مندانہ اقدامات نہیں لیں گے، تب تک تجارت میں ترقی نہیں کرسکتے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدیوں پہلے فرماگئے: جرات مند تاجر رزق پاتا ہے اور بزدل تاجر محروم رہتاہے،(جامع الصغیر، 3393)۔ تجارت تو نام ہی رسک کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم تن دہی اور جاں فشانی سے کام نہیں کرنا چاہتے۔ ہر شخص اس کوشش میں ہے کہ شارٹ کٹ سے زیادہ پیسہ کمائے۔ محنت نہ کرنی پڑے اور بیٹھے بٹھائے امیر بن جائیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کی یہ شان نہیں ہے۔( إن اللّٰہ یحب إذا عمل أحدکم عملا أن یتقنہ)اللہ تعالی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی شخص کام کرے تو اس کو اچھی طرح سر انجام دے (مجمع الزوائد: 6460)، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اسے بھرپور انداز میں سرانجام دیتے، کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا عمل عملا أثبتہ (مسلم شریف: 1235)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نوجوان کے زہد اور تقوی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ نوجوان ہنرمند ہے تو پھر(ہی وہ کامیاب ہے) (الآداب الشرعیہ للمقدسی: فصل فی فضل التجارۃ)

 اسی طرح حدیث شریف میں ہے : (إن اللہ یحب المؤمن المحترف) بے شک اللہ تعالی ہنرمند مسلمان کو پسند کرتا ہے(المعجم الاوسط للطبرانی 8929) اسلام کسی بھی قسم کی سستی اور بے حوصلگی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان اپنا دینی، اخلاقی، ملی اور قومی فریضہ سمجھ کر تجارت کو پھیلائیں اور مسلمانوں کو عالمی طاقت بنائیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ، جاں فشانی اور تن دہی کے ساتھ کام کرے۔