حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بازار سے گزر رہے تھے۔ اذان بلند ہوئی۔ آپ نے دیکھا کہ تاجروں نے دوکانیں بند کرنا شروع کردی۔ سب کے سب مسجد کی جانب بڑھنے لگے۔ بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا: یہی وہ لوگ ہیں جن کی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں تعریف بیان کی ہے: ’’ رجال لاتلہیہم تجارۃ و لا بیع عن ذکر اللہ  … ایسے لوگ ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی‘‘… اگر تجارت اللہ سے غافل کردے گی تو وہ عبادت نہیں وبال بن جائے گی۔

  ’لوگ سمجھتے ہیں کہ دین دار بن گئے تو کاروبار ڈوب جائے گا‘‘،ایسا ہرگز نہیںہے۔ اسلام تو کاروبار پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: 

’’فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ …


جب تک دولت کو اللہ تعالی کا کرم اور فضل سمجھا جائے گا، تجارت، عبادت بنی رہے گا۔ جب انسان اسے اپنے ہاتھوں کی کمائی سمجھنے لگے گا۔ دولت کو جہاں دل چاہے گا خرچ کرنے لگے گا۔ جائز ناجائز اور حلال و حرام کی تفریق ختم ہوجائے گی، تو یہی تجارت وبال بن جائے گی۔

"جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ تعالی کا فضل تلاش کرو‘‘

گویا تجارت کے ذریعے سے اللہ تعالی کے فضل کو تلاش کیا جاتاہے۔  جب امانت و دیانت سے تجارت کی جائے گی تو وہ خود بہ خود عبادت بن جائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’التاجر الصدوق الامین مع النبیین و الصدیقین و الشہداء …

سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیائ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘  (ترمذی، کتاب البیوع)

جب تک دولت کو اللہ تعالی کا کرم اور فضل سمجھا جائے گا، تجارت، عبادت بنی رہے گا۔ جب انسان اسے اپنے ہاتھوں کی کمائی سمجھنے لگے گا۔ دولت کو جہاں دل چاہے گا خرچ کرنے لگے گا۔ جائز ناجائز اور حلال و حرام کی تفریق ختم ہوجائے گی، تو یہی تجارت وبال بن جائے گی۔

کتنی ہی فیکٹریوں کو ہم نے بند ہوتے دیکھا، کتنے ہی کاروبار دنوں میں ٹھپ ہوگئے، ہمارے اردگرد کتنے بڑے تاجر تھے جو اب ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔ اس کوئی شک نہیں ان لوگوں نے بھی محنت کی، ان کے پاس بھی ہنر تھا، انہیں بھی کاروباری تجربہ تھا، مگر اس کے باوجود وہ تباہ ہوگئے۔ آج اگر مجھے مال و دولت ملی ہے تو آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ اسے بھی اللہ تعالی کا کرم سمجھنا چاہیے۔ ہمیں دولت کی طرف نہیں، دولت دینے والے کی طرف نظر رکھنا چاہیے۔ اگر دولت دینے والے سے نظر ہٹ گئی تو تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے:ا’’لتجار یحشرون یوم القیامۃ فجارا، الا من اتقی و بر و صدق … تاجر قیامت کے دن بدکاراٹھائے جائیں گے، سوائے اس تاجر کے جو اللہ سے ڈرا، نیک کام کیے اور سچ بولا۔‘‘آئیے! وہ نصیحت پڑھتے ہیں جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے بہت بڑے تاجر قارون کو کی گئی۔ اس تاجر کو اللہ نے بے بہا مال و دولت عطا کیا تھا۔اسے کہاگیا: ’’و ابتغ فیما اتاک اللہ الدار الاخرۃ و لاتنس نصیبک من الدنیا، واحسن کما احسن اللہ الیک…اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصہ کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ تعالی نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے توبھی سلوک کرتا رہ۔‘‘ (سورۃ القصص : 77) مگر اس کے مقابلے میں قارون نے دولت کو اپنے ہاتھ کی کمائی قرار دیا اور اسے اپنے علم و تجربے کا نتیجہ قرار دیا۔ اس لیے اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت بھی۔ قرآن پاک بتاتا ہے ، قارون نے کہا تھا: ’’انما اوتیتہ علی علم عندی… یہ سب کچھ میرے ذاتی علم کی وجہ سے ہے۔

"اگر کوئی تاجر اپنی دولت کو اللہ تعالی کا فضل سمجھتاہے، اسے حاصل کرنے کے لیے سود، جھوٹ، دھوکااور جھوٹی قسم سے گریز اختیارکرتاہے۔ اسی طرح مال خرچ کرتے ہوئے بھی پیسے کے بجائے اللہ تعالی کی طرف نظر رکھتا ہے تو اس کی تجارت بھی عبادت ہے۔ اسی کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے اور اسے راحت ، چین، سکون کی دولت ملے گی۔ اگر کوئی تاجر سود، سٹہ، دغا اور دھوکا کرتاہے، جلد از جلد زیادہ مال کمانا چاہتا ہے تو اسے نہ راحت ملے گی، نہ سکون ملے گا، نہ چین نصیب ہوگا۔ دولت توہوگی ،مگر زندگی جہنم بن جائے گی۔