یہ 1975ء کی ایک یخ بستہ شام تھی۔ دنیا کے دل ’’جزیرہ نمائے عرب‘‘ اور شہروں کے شہنشاہ ’’جدہ‘‘ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ شاہ فیصل مرحوم اس کی سربراہی کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں ایک ایسا فیصلہ ہو اجس نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ اسلامی ترقیاتی بینک جدہ قائم ہوگیا اور دنیا اسلامی نظام معیشت سے متعارف ہونے لگی۔ فرانسیسی اخبارات نے لکھا: ’’اگر اسلامی بینک اپنی صحیح شکل میں قائم ہوگیا تو یہ مغرب کے لئے ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا‘‘۔ اسلامی بینکنگ شروع ہوئی اور اس نے ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔

اسلامی بینکاری صرف اسلامی ملکوں میں ہی نہیں پھیلی، بلکہ مغربی ممالک بھی اس ہائیڈروجن بم کا شکار ہوتے چلے گئے۔ برطانیہ، جاپان اور انڈیا جیسے ملکوں میں بے شمار اسلامی مالیاتی ادارے شروع ہوچکے ہیں۔ آج یہ صورت آگئی ہے کہ اسلامی بینکاری عالمی سطح پر 20فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے۔ اس کے مقابلے میں سودی بینکاری کی شرح نمو صرف 9فیصد ہے۔ پاکستان عالم اسلام کا سرخیل ہے۔ اسلامی روایات اور اقدار کی حفاظت میں پاکستانی قوم کسی سے پیچھے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا بھر میں اسلامی بینکاری 20فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی، اس وقت پاکستان میں 30فیصد کے اعتبار سے اضافہ ہورہا تھا۔ معیشت دان خوش گوار حیرت میں مبتلا ہیں۔ بینک اور مالیاتی ادارے پریشان ہیں کہ انہیں اسلامی معاشی ماہرین نہیں مل رہے۔


عوام اور تاجر طبقہ بڑی تیزی سے اسلامی مالیاتی نظام کی طرف آرہے ہیں۔ پاکستان میں روز افزوں ترقی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ حال ہی میں تین بڑے بینکوں نے اسلامی بینکاری کے لیے درخواست دے دی۔ مرکزی بینک نے انہیں رفتہ رفتہ تمام شعبے اسلامی بینکاری کے مطابق ڈھالنے کا لائحہ عمل دیا ہے۔ اگلے تین سالوں کے اندر یہ بینک مکمل طور پر اسلامی بینکاری میں ڈھل جائیں گے۔ تجریہ نگاروں کی رائے ہے کہ سمٹ بینک (summit bank) جب مکمل اسلامی بینکاری میں ڈھل جائے گا تو میزان بینک کے بعد دوسرا بڑا اسلامی بینک بن جائے گا۔ summit bank کے بعد ہی فیصل بینک نے اسلامی بینکاری میں تبدیل ہونے کا اعلان کرکے معاشی ماہرین کا حیران کردیا۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ شاید نئے سودی بینکوں کی اب پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔

اسٹیٹ بینک کی تشکیل نو کے بعد تمام تر توجہ اسلامی بینکاری پر مرکوز ہوگئی ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی سے درخواست کی گئی کہ شریعہ بورڈ اسٹیٹ بینک کی سربراہی قبول فرمائیں۔ آپ کی سربراہی میں اسٹیٹ بینک بہت عمدگی سے کام سرانجام دے گا۔ اسی لیے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی بینکوں کی موجودہ 10فیصد مارکیٹ شیئر کو بڑھا کر 20فیصد تک لایا جائے گا۔ اسلامی بینکاری پر تحقیق و ترقی کے لیے بڑے شہروں میں سینٹر قائم کیے جارہے ہیں۔ سب سے پہلا مرکز کراچی میں IBA(انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ) کے اشتراک سے بنایا جارہا ہے۔ اس کے بعد دیگر شہروں تک یہ دائرہ پھیلا دیا جائے گا۔ اس وقت عالمی اسلامی بینکاری کا 91 فیصد حصہ ملائیشیا اور خلیجی ممالک میں ہے جبکہ محض دو فیصد حصہ پاکستان میں۔اسٹیٹ بینک کے ان اقدامات سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی پاکستان بھی دنیا بھر اسلامی بینکنگ کے لحاظ سے سرفہرست ہوگا۔