کہانی کا آغاز 1998ء سے ہوتا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مگر یہ اسلامی ملک 1998ء میں سودی چکر میں پھنس گیا۔ اقتصادی بحران اتنا شدید تھا کہ ایک کے بعد دوسرا بینک دیوالیہ ہوتا چلا گیا۔ انڈونیشی روپے میں اتنی کمی ہوئی کہ دنوںمیں بے شمار بینک زمیں بوس ہوگئے۔ اقتصادی بحران کے اس دور میں کوئی محفوظ رہا تو وہ ’’اسلامی بینک ‘‘ تھے۔ اسلامی بینکوں نے اپنا سرمایہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں لگا کر معیشت کی گرتی دیوار کو سہارا دیا۔

پہلی بار حکومت کو اندازہ ہوا کہ اسلامی بینکاری کسی بھی تباہ حال معیشت کو بہتر بنا سکتی ہے۔اسلامی بینکاری کی کارکردگی اتنی حیران کن تھی کہ صدر سوسیلوبیم بینگ نے انڈونیشیا کو اسلامی بینکنگ کا مرکز بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ انسانوں کے بنائے معاشی نظام کے ناکام ہونے کے بعد اب دنیا بھر میں اسلامی اقتصاد کا مطالعہ شروع ہوچکا ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ اسلامی بینکاری میں سب سے زیادہ دلچسپی یورپی یونین لے رہی ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اسلامی معاشی نظام کی تمام علمی بنیادیں اسلامی ممالک میں ہیں، مگر دنیا کا پہلا اسلامی بانڈز جاری کرنے والا ملک برطانیہ ہے۔ اندازہ کیجیے کہ برطانیہ میں 5بینک مکمل اسلامی بینکنگ کے نظام کے مطابق خدمات سرانجام دیتے ہیں جبکہ عالم اسلام کے سرخیل پاکستان میںمکمل اسلامی بینکوں کی تعداد 6ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ رواں سال اسلامی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے کھینچا تانی متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے درمیان ہورہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ اسلامی حکومتوں کی اقتصادیات سے لاپروائی اور طویل مدتی حکمت عملیوں کا فقدان ہے۔ مسلمانوں کی دولت ہتھیانے کے لیے یورپ اسلامی بینکاری کو اپنا رہا ہے۔ مگر کتنا بڑا المیہ ہے کہ اسلامی ممالک ابھی تک سودی نظام کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔حکومت پاکستان نے رواں سال پہلی بار اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی بنائی ہے۔اسٹیٹ بینک نے معروف بینکار، لندن اسکول آف اکنامکس اور ہارورڈ کے تعلیم یافتہ سعید احمد کو ڈپٹی گورنر مقرر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مفتی محمد تقی عثمانی کو اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ کا چیئرمین بھی مقرر کیا۔ مفتی محمد تقی عثمانی کو دنیا بھر میں اسلامی بینکاری پر سند کا درجہ حاصل ہے۔ اسلامی اقتصاد اور معیشت کے حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والا کوئی بھی پروگرام آپ کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ اکائونٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فائنانشل انسٹی ٹیوشنز (AAOIFI) کو دنیابھر میں اسلامی بینکوں اور معاشی اداروں کے لیے سب سے بڑا رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی اسلامی بینکاری یا اسلامی اقتصادی ادارے کام شروع کرتے ہیں، وہ اسی ادارے کے معیارات پر عمل کرتے ہیں۔ اس ادارے کی شریعہ کونسل کے چیئرمین مفتی محمد تقی عثمانی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامک مارکیٹ انڈیکس ’’ڈائو جونز‘‘ کے دس سال تک چیئرمین رہے۔ پاکستان کا یہ اعزاز ہے کہ آپ عالم اسلام کی سب سے بڑی فقہی مجلس ’’اسلامک فقہ اکیڈمی،جدہ‘‘ کے نائب صدر ہیں۔ پاکستان اور بیرون پاکستان بے شمار اسلامی مالیاتی ادارے ایسے ہیں جن میں مفتی محمد تقی عثمانی یا ان کے شاگرد شرعی رہنمائی کا فرض ادا کررہے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی لکھی گئی کتابوں کو دنیا بھر کے مختلف نصاب ہائے تعلیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آپ کی ہمہ جہت خدمات پر ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت پاکستان ایوارڈ کا اعلان کرتی مگر اسلامی ترقیاتی بینک جدہ نے آپ کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی بلاشبہ عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر اور مسلم مفکرین کے سرخیل ہیں۔