بزنس ’’اسٹارٹ اپ‘‘ کی حیرت انگیز دنیا

اگر آپ بزنس اسٹارٹ اپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ’’برین مارگن‘‘ کی زندگی پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ اس کی پیدائش امریکا میں ہوئی تھی۔ مگر قسمت نے اسے ملازم بنا دیا۔ دفتری ملازم کی طرح ہی ہر لمحہ اچھی تنخواہ کی فکر، اچھی کمپنی کی تلاش اور زندگی سے ہر لمحہ نبرد آزما۔ اپنے گھر سے بہت دور جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور میں ملازمت کرتا تھا۔ پردیس کی زندگی سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ گھر واپس آ بیٹھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا۔ اپنی فائلیں سمیٹتا اور دفتروں کے چکر لگانا شروع کر دیتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی ٹی کی جادوئی دنیا

واٹس ایپ کی کہانی حیرت انگیز بھی ہے اور انکشاف خیز بھی۔ اس کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب وہ اور اس کی غربت زدہ ماں لقمے لقمے کو ترستے تھے۔ اس کی ماں لوگوں کے بچوں کی دیکھ بھال کرتی اور جان کوم دن بھر گھر گھر صفائی کرتا۔ کبھی پھلوں کی ریڑھی لگاتا اور کبھی مزدوری شروع کردیتا۔ عمر اٹھارہ سال ہوئی تو وہ اس زندگی سے تنگ آگیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے ایک پروگرامر بننا ہے۔ وہ ایک یونیورسٹی میں جانے لگا۔ محنت مزدوری سے گزر بسر کرتا اور یونیورسٹی کی فیس ادا کرتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جدید ٹیکنالوجی استعمال کیجیے!

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کو دنیا بھر میں معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا۔ اس انسائیکلوپیڈیا کو لکھنے میں ڈھائی سوسال کا عرصہ لگا۔ روزانہ کم ازکم سو محقیقین بیٹھتے اور دنیا بھر کی معلومات لکھنا شروع کردیتے۔ اب تک اسے لکھنے والے افراد کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ ان مصنفین میں سے 110 افراد ایسے بھی ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ڈھائی سوسال میں اربوں ڈالر اس منصوبے پر خرچ ہوئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری

مضاربہ اسکینڈل نے نجانے کتنے گھروں کو ماتم کدہ بنا دیا۔ لاکھوں لوگ آج بھی دن پھرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ سیکڑوں گھرانے آج بھی امیدوں، آسروں اور افواہوں کے کچے دھاگے سے بندھے بیٹھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا صبر اور شکر ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ مگر مضاربہ اسکینڈل نے معاشرے کی ایک دوسری بڑی کمزوری کو آشکار کردیا ہے۔ پورا پاکستانی معاشرہ چھوٹی چھوٹی بچتیں جمع کرتا ہے۔ پھر سرمایہ کاری کے بااعتماد اور جائز ذرائع تلاش کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری جھگڑے یوں ختم کریں

صحابہ کرامؓ کی محفل سجی تھی۔ آسمان کے ستارے زمیں پر اتر آئے تھے۔ شاید اس لمحے زمین بھی اپنی قسمت پر رشک کررہی ہوگی۔ ہرشخص اپنے من کی بات زباں پر لارہا تھا۔ اتنے میں گفتگو چل نکلی کہ لشکر اسلام کو کیا کرنا چاہیے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں ایسا کرلیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مشورہ تو بالکل غلط ہے۔ یہ بات سنتے ہی حضرت ابوذر کی زبان سے نکلا: اے کالی ماں کے بیٹے! تم بھی میری بات کو غلط کہہ رہے ہو؟

مزید پڑھیے۔۔۔

قرضِ حسن اور مائیکروفائنانس

اس نے اپنی جیب سے 27 ڈالر کا قرض دیا۔ 1976 ء کا تباہ حال، بدحال اور خستہ حال بنگلہ دیش۔ یہ رقم گائوں کی 42خواتین کو دی گئی۔ یہ عورتیں چند مقامی سود خوروں کے جال میں پھنس گئی تھیں۔ دیہاتی عورتوں نے اس تھوڑی سی رقم سے کاروبار شروع کیا۔ اللہ تعالی نے نوے فیصد رزق تجارت میں رکھا ہے۔ خواتین نے نفع کمایا۔ اپنے خاندان کو پائوں پر کھڑا کیا۔ قرض کی رقم واپس کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔