ملازمین کی بہتر کارکردگی کا ضامن

’’ایورسٹ گیلوا‘‘ فرانس کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔ بچپن سے ہی ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون بن گیا۔ ابھی عمر کی 20 بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ اس کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ دوسرے شخص نے دو بدو لڑائی کا چیلنج کر دیا۔ گیلوا معاشرتی رواج کے باعث چیلنج قبول کرنے پر مجبور تھا۔ کشتی کا دن طے ہو گیا۔ گیلوا کو یقین ہو گیا کہ لڑائی میں زندہ بچنا مشکل ہو گا۔ لڑائی سے ایک رات پہلے وہ اپنی میز پر بیٹھا۔ الجبرے کی تمام مساواتوں (equations) سے متعلق اپنی تحقیق لکھنے لگا۔ وہ رات بھر جوش و جذبے سے الجبرے کی گرہیں کھولتے رہا۔ ایک جگہ اس نے لکھا: وقت بہت کم ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ وطن تمہارا ہے!

’’جم اونیل‘‘ کو معیشت کا جادوگر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے 2001 ء میں ایک لفظ استعمال کیا تھا: BRIC۔ آج یہ لفظ دنیا کا ہر معیشت دان جانتا ہے اور جم اونیل کو داد دیتا ہے۔ بَرک کا مطلب ہے: برازیل، روس، انڈیا اور چین اب دنیا کے ترقی یافتہ ملک بن جائیں گے۔ آج ہر شخص جانتا ہے کہ چاروں ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، مگر 14 سال پہلے یہ دعوی کرنا صرف ’’جم اونیل‘‘ کا کمال تھا۔ جم او نیل کی انہی خصوصیات نے اسے معروف مالیاتی کمپنی ’’گولڈ مین سکس‘‘ کا چیئرمین بنا دیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کوئی شارٹ کٹ نہیں !

ایک شخص نے دولت مندوںکے حالات زندگی پڑھنا شروع کیے۔ ایک سو ایک دولت مندوں کے حالات پڑھ کر وہ حیران کن نتیجے تک پہنچا۔ یہ عجیب بات سامنے آئی کہ دنیا کے تمام امیر ترین آدمیوں نے کاروباری کامیابی کے لیے کم و بیش ایک ہی جیسا طریقہ اپنایا ہے۔ فیس بک کا مالک مارک زکر برگ ہو، مائیکروسوفٹ کا بانی بل گیٹس،ایپل کمپیوٹر کا روح رواں اسٹیو جابس، اسٹاک مارکیٹ کا بے تاج بادشاہ وارن بفیٹ، ٹیلی کام کا شہنشاہ کارلوس سلم یا بھارتی امیر ترین شخص مکیش انبانی ، ان تمام کے تمام افراد نے ایک ہی طریقہ اپنایا ہے۔ اس ایک طریقے پر عمل کرکے یہ تمام لوگ دنیا کے سو امیر ترین لوگوں کی فہرست میں کئی سالوں سے مستقل براجمان ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کام اور گھریلو زندگی میں توازن

یہ پاکستان کے ایک گھرانے کا واقعہ ہے۔ میاں بیوی دونوں نوکری پر جاتے ہیں۔ گھر چلانا اتنا آسان تو نہیں ہے نا۔ دونوں کی ڈیوٹی شام گئے تک ہے۔ بیٹا اسکول سے جلدی واپس آ جاتا ہے مگر والدین کو تو دفتر میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ اس مشکل کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ روزانہ بچے کو اسکول سے واپس آتے ہی ’’کیل پول‘‘ پلا کر سلا دیا جائے۔ بچہ گہری نیند سو جاتا ہے اور میاں بیوی شام ڈھلے دفتر میں کام کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باز پرس

مولانا قاسم نانوتوی لکھتے ہیں: ’’سرزمین ہند میں اگر صرف شاہ ولی اللہ ہی پیدا ہوتے تو ہندوستان کے لیے یہ فخر کافی تھا۔‘‘ آپ اٹھارویں صدی میں ایک مجدد کی حیثیت سے ابھرے۔ ایک جید عالم دین، باکمال فقیہ اور دانش مند سیاسی مدبر تھے۔ صرف 17 سال کی عمر میں عالم دین بن گئے، بلکہ تصوف کے تمام درجات بھی طے کرلیے۔ آپ کی درخواست پر احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو تاریخی شکست دی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرتبہ، خواہش اور اسٹیٹس

آپ پاکستان کے کسی بھی شخص سے ملیں، اس کا سب سے بڑا مسئلہ مرتبہ، خواہش اور اسٹیٹس ہے۔ ہم اس اسٹیٹس اور مرتبے کی خاطر ہر کام کر گزرتے ہیں۔ سالوں پرانے تعلقات اور خون کے رشتے تک توڑ دیتے ہیں۔ مگر اسٹیٹس، خواہش اور مرتبہ کی منزل آج تک کسی کو نہیں ملی۔ رومی تہذیب نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کی۔ رومن امپائر کو ناقابل شکست کہا جاتا تھا۔ مگر پھر گیہوں کو گھن لگ گیا۔ دولت، مرتبے اور خواہش کا گھن۔ دولت کے ڈھیر لگ گئے مگر خواہشات بے لگام ہوتی چلی گئیں۔ سر کا تاج ایک لاکھ درہم سے کم مالیت کا نہیں پہنتے تھے۔ عالی شان محلات بنانے میں مقابلے شروع ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔