نیکیوں کا موسم

’’یہ کیسی دنیا ہے کہ غریب فاقے سے خود کشی کرلے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، مگر اسٹاک ایکسچینج دو پوائنٹ گر جائے تو اہم ترین خبر بن جاتی ہے۔‘‘ آپ معاشرے کی ناانصافی ملاحظہ کریں، آج بھی کروڑوں بچے اسکول نہیں جاتے، کروڑوں انسان آج بھی رات کو بھوکے سوتے ہیں اور دنیا کے ایک ارب لوگ جب صبح اٹھتے ہیں تو حلق سے اتارنے کے لیے ایک لقمہ بھی نہیں ہوتا۔ ان ایک ارب لوگوں کو سر چھپانے کے لیے چھت دستیاب نہیں، تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے میسر نہیں اور پینے کے لیے صاف پانی مہیا نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

آپ بوسنیا میں اسلامی بینکاری کا نام لیں تو سب سے پہلے ڈاکٹر ’’فکرت ہزک‘‘ کا حوالہ سننے کو ملے گا۔ ڈاکٹر فکرت کی زندگی کے بارہ سال اسلامی بینکاری پڑھتے پڑھاتے گزرے ہیں۔ انہیں بوسنیا میں اسلامی بینکاری کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ جب انہوں نے اسلامی بینکاری پر اپنا مقالہ پیش کیا تو انٹرویو کرنے والے ایک پروفیسر نے تبصرہ کیا تھا: ’’خواب تو اچھا ہے مگر تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا‘‘۔ مگر ڈاکٹر ہزک نے ان تھک محنت اور شبانہ روز کوشش کے بعد خواب کو سچا ثابت کردیا۔ آج بوسنیا کی تاریخ پڑھے بغیر آپ اسلامی بینکاری کی اثر انگیزی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔بوسنیا کو براعظم یورپ کا گمنام ملک کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رہے نام اللہ کا!

ویٹی کن سٹی کے روزنامے میں اسلامک بینکنگ کی تعریف کسی ایٹمی دھماکے سے کم تباہ کن نہیں تھی۔ جس نے سنا، ششدر رہ گیا۔ دنیا بھر میں پھیلے سوا ارب سے زائد کیتھولک عیسائیوں کا مرکز کس طرح اسلامی معاشی نظام کی تعریف کرسکتا ہے؟؟؟ ویٹی کن کے روزنامےL'Osservatore Romano نے ایک مضمون میں یہ کہا: ’’ The ethical principles on which Islamic finance is based may bring banks closer to their clients‘‘ ( اسلامی معاشی نظام کے اخلاقی اصول بینکوں کو اپنے گاہکوں کے مزید قریب کردیں گے) تعصب پسند مغربی مفکرین کہنے لگے: اگر ہمارے بحرانوں کا حل اسلامی بینکنگ میں ہے.

مزید پڑھیے۔۔۔

مفتی محمد تقی عثمانی

کہانی کا آغاز 1998ء سے ہوتا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مگر یہ اسلامی ملک 1998ء میں سودی چکر میں پھنس گیا۔ اقتصادی بحران اتنا شدید تھا کہ ایک کے بعد دوسرا بینک دیوالیہ ہوتا چلا گیا۔ انڈونیشی روپے میں اتنی کمی ہوئی کہ دنوںمیں بے شمار بینک زمیں بوس ہوگئے۔ اقتصادی بحران کے اس دور میں کوئی محفوظ رہا تو وہ ’’اسلامی بینک ‘‘ تھے۔ اسلامی بینکوں نے اپنا سرمایہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں لگا کر معیشت کی گرتی دیوار کو سہارا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی معاشی نظام کے خلاف محاذ گرم

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی محی الدین نے کہا تھا: اشتراکیت زوال سے شکار ہوئی تو سرمایہ داریت کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا۔ پھر سرمایہ پرستی کا سفینہ بھنور میں پھنس گیا۔ سرمایہ داریت کے ڈھانچے پر اعتراضات شروع ہوئے، پھر تجارتی بحران شروع ہو گیا، اس کے بعد قرضوں کے بحران نے گرفت میں لے لیا۔ سرمایہ داریت کو ’’بحرانوں کی معیشت‘‘ کہا جانے لگا۔ اب دنیا کو انتظار ہے ایک نئے اقتصادی نظام کا جو انہیں ترقی کے راستے پر ڈال سکے اور تمام بحرانوں سے نمٹ سکے۔ اس نظام کا نام ہے: ’’اسلامی معیشت۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

غیر سودی بینکاری نئے دور میں داخل

یہ 1975ء کی ایک یخ بستہ شام تھی۔ دنیا کے دل ’’جزیرہ نمائے عرب‘‘ اور شہروں کے شہنشاہ ’’جدہ‘‘ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ شاہ فیصل مرحوم اس کی سربراہی کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں ایک ایسا فیصلہ ہو اجس نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ اسلامی ترقیاتی بینک جدہ قائم ہوگیا اور دنیا اسلامی نظام معیشت سے متعارف ہونے لگی۔ فرانسیسی اخبارات نے لکھا: ’’اگر اسلامی بینک اپنی صحیح شکل میں قائم ہوگیا تو یہ مغرب کے لئے ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا‘‘۔ اسلامی بینکنگ شروع ہوئی اور اس نے ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔