آگے بڑھیے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازار میں داخل ہوئے۔ دیکھا کہ غیر ملکی افراد اور غلاموں کے خاندان ہی تجارت کررہے ہیں۔ آپ کو بہت حیرت ہوئی کہ قریش اور عرب کہاں گئے؟ آپ نے سب صحابہ کرام کو جمع فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ’’اللہ تعالی نے اس قدر فتوحات کرد ی ہیں کہ ہمیں تجارت کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ مال غنیمت سے اچھی گزر بسر ہوجاتی ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! اگر تم نے تجارت نہ کی تو تمہارے مرد اور عورتیں ان کے غلام بن جائیں گے۔‘‘ (التراتیب الاداریہ: 17)

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ اپنے گھر پر کتنا وقت گزارتے ہیں؟

’’آپ اپنے گھر پر روزانہ کتنا وقت گزارتے ہیں؟‘‘ سوال بہت آسان اور مختصر تھا۔ مگر اس معمولی سوال کا جواب بھیانک، الم ناک اور تہلکہ خیز تھا۔ بزنس مینجمنٹ کے طلبہ کو ہدف دیا گیا تھا کہ کراچی کے پوش علاقے ’’ڈیفنس‘‘ کے 10ایسے عالی شان گھروں کا انتخاب کریں جن کی قیمت کم از کم 50کروڑ روپے ہو۔ ان 10گھروں کے مالکان سے یہی چھوٹا سا سوال کرنا تھا: ’’ آپ اپنے گھر پر روزانہ کتنا وقت گزارتے ہیں؟‘‘اس سروے پر کئی دن لگ گئے۔ مالکان سے ملاقات اتنی آسان تو نہیں تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دھوکے کا کاروبار

’’کولڈ ڈرنک کی بوتل کی تیاری پر تین روپے خرچ آتا ہے، مگر مارکیٹنگ اور اشتہار بازی اس کی قیمت 18روپے تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی لیے ہماری کمپنی نے مارکیٹنگ بالکل ختم کردی، خریدار ہی مارکیٹنگ کرتا ہے اور اسی کے ذریعے اپنا کمیشن لیتا ہے، صاحب! اس میں ناجائز کی کیا بات؟‘‘ ایسی کہانیاں سنا کر نئے گاہکوں کو پھانسنے والی بے شمار نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنیاں کاروبار کررہی ہیں۔ آپ کے بہت سے دوستوں نے قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ ایک نیا خریدار بنائیں اور اتنے ڈالر کمائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

…کہ آگے پیش ہونا ہے

وہ مسلمان تاجر سعودی عرب سے ہجرت کرکے امریکا گیا تھا۔ایک بہت بڑی مارکیٹ کا مالک بن گیا۔ ڈالروں کے انبار لگ گئے۔ مگر دل اور دماغ بھی انہی ڈالروں کے اسیر بن گئے۔ دولت کی ہوس میں تمام حدیں پار کرگیا۔ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی دوڑ میں شراب اور خنزیر کا گوشت بیچنا شروع کردیا۔ دولت بڑھتی گئی اور نیکیاں کم ہوتی گئی۔ دیار غیر میں بسنے والے مسلمان جب مارکیٹ میں شراب اور خنزیر بکتا دیکھتے تو شرمندگی سے سر جھک جاتے۔ انہی دنوں معروف عرب عالم شیخ حسان بھی امریکا گئے۔ کسی مسلمان نے عرض کیا کہ آپ اس مسلمان کو سمجھائیں۔ اگلے دن شیخ نے اس مسلمان تاجر سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت بھی اور دعوت بھی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم کہتے ہیں: مدینہ میں تاجروں کا ایک وفد آیا۔وفد نے مسجد میں ڈیرے ڈال دیے۔ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا: ’’کیا ہم دونوں آج کی رات اس وفد پر پہرہ دیں؟‘‘وہ رضامند ہوگئے۔ یہ دونوں عظیم صحابہ کرام ساری رات تاجروں کا پہرہ دیتے رہے۔ (فصل الخطاب، دکتور علی محمد الصلابی، ص: 197)

مزید پڑھیے۔۔۔

برکت کا حصول۔ مگر کیسے؟

جو نوجوان شادی کرنا چاہتا ہے، وہ اپنے اخراجات بیت المال سے لے۔ جس پر قرض ہو تو ادائیگی کے لیے بیت المال سے پیسے لے۔ جو شخص حج کرنا چاہتا ہے، وہ بیت المال سے رابطہ کرے۔ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کا ایک منظر تھا۔ انہوں نے صرف ڈھائی سال حکومت کی مگر دنیا کو امن کا گہوارا بنا دیا۔ بیت المال میں اتنی دولت ہوتی، لوگوں میں اعلان کرنا پڑتا کہ لے جائو۔ مال و دولت کی اتنی فراوانی کہ مانگنے والا ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا۔ زکوۃ کی رقم ہاتھ میں ہوتی اور وصول کرنے والا ہی کوئی نہیں۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق، حرف العین فی آبائہم، عمر بن عبدالعزیر، رقم الحدیث: 47994)

مزید پڑھیے۔۔۔