Let's not reinvent the wheel

البرٹ آئن اسٹائن نے کہا تھا: Insanity: doing the same thing over and over again and expecting different results.(ایک ہی چیز کو بار بار دہرانا اور مختلف نتیجے کی توقع رکھنا، جنون ہے) اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں امریکا جانا ہوگا۔ شاید آپ کو حیرت ہو کہ دنیا کی سب سے پہلی کار بنانے والی کمپنی امریکا کی تھی۔ Detroit نامی اس کمپنی نے دنیا میں اپنی کار کا تصور پیدا کیا۔ پہلی بارلوگوں کو بسوں کے دھکوں، ٹرین کی کھچ کھچ اور پیدل کے جھنجٹ سے نجات ملی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

Happy Worker

ایک حکیم سے پوچھا گیا: زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ حکیم نے کہا :اس کا جواب لینے کے لیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔ سب دوست رات کو جمع ہوگئے۔ اس نے سوپ کا پیالہ لا کررکھ دیا۔ مگر سوپ پینے کے لیے ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا۔ سب کو کہا کہ آپ نے اسی لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے۔ ہر شخص نے کوشش کی، مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا۔ کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔ سب بھوکے ہی رہے۔ سب ناکام ہوگئے تو حکیم نے کہا: میری طرف دیکھو۔ اس نے چمچ پکڑ ا، سوپ لیا اور چمچ اپنے ساتھ والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔ اب ہر شخص نے اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ کا آئیڈیل

اشتراکیت نے کہا: ’’ہر شخص کام کرے اپنی صلاحیت کے مطابق اور اسے تنخواہ ملے گی ضرورت کے مطابق۔‘‘ نعرہ بہت اچھا تھا۔ لوگ بڑھتے گئے، کاررواں بنتا گیا۔ کارل مارکس، اینگلز اور لینن جیسے مفکرین کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا۔ روس میں انقلاب کروٹیں لینے لگا۔ دیوانے، متوالے اور مستانے جانوں کے نذرانے پیش کرنے لگے۔ اکتوبر 1918ء آنے تک ایک لاکھ پروانے خاک و خوں میں لت پت ہوچکے تھے۔ لوگ منتظر تھے کہ اب ہر شخص کے ساتھ انصاف ہوگا، غریب اور امیر کا فرق مٹ جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امیر یا غریب

وارن بفٹ دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔ وہ امریکی اسٹاک ایکسچینج کے سب سے بڑے بروکر ہیں۔ صرف ایک سال میں ان کی دولت میں دس ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ مگر دنیا کا یہ امیر ترین شخص امریکی شہر اوہاما میں صرف 31ہزار ڈالر کے ایک معمولی سے مکان میں رہتا ہے۔ خود اپنی کار ڈرائیو کرتا ہے اور ایک گلی کے حجام سے 12ڈالر میں بال کٹواتا ہے۔ میکسیکو کا ارب پتی کارلوس سلم بھی ایک پرانے ماڈل کی کار میں سفر کرتا ہے، ایک درمیانے درجے کے مکان میں رہتا ہے۔ سویڈن کا کروڑ پتی انگفیر کامرڈ بھی سادگی سے زندگی گزارتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاجر کی نیت کیا ہو؟

انگریزی کا مشہور مقولہ ہے: "So many financial dreams are thewarted by the failure to act upon good intentions"
ایک آدمی نے کمرہ بنوایا پھر مستری سے کہا کہ اس میں ایک روشن دان رکھ دینا تاکہ تازہ ہوا بھی آتی رہے۔
ایک بزرگ نے سن کر کہا: اگر تم یہ نیت کرتے کہ روشن دان سے آذان کی آواز آتی رہے تو تمہیں ثواب بھی ملتا اور ہوا تو ویسے ہی آتی ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ذخیرہ اندوزی

بجٹ آنے سے چند دن پہلے بہت سی چیزیں بازار سے غائب ہوجاتی ہیں۔ ہر وہ چیز جس کے دام بڑھنے کا امکان ہوبازار میں نظر نہیں آتی۔ تیل، چینی، گھی اور سیگریٹ سمیت متعدد چیزیں ذخیرہ کر لی جاتی ہیں۔ بجٹ میں قیمتیں بڑھتے ہی گوداموں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دھڑا دھڑ مہنگی اجناس فروخت ہونے لگتی ہیں۔ چاول، گندم اور آٹے سے بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔