دنیا کی 50 بڑی کمپنیاں

اس وقت دنیا کی تجارت پر 50بڑی کمپنیاں قابض ہیں۔ یہ اگر چاہیں تو پوری دنیا کی بجلی بند کر دیں، ٹیلی فون کا نظام جام کر دیں، دنیا بھر کی ٹریفک کھڑی رہ جائے، خوراک بند کر دیں اور جب چاہیں بینکوں کو دیوالیہ کر دیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے ان میں سے ایک کمپنی بھی مسلمانوں کی نہیں ہے۔ ان میں سے 43کا تعلق امریکا سے ہے،3 کمپنیاں جاپان، ایک ہالینڈ، ایک سوئزر لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک کا تعلق سنگاپور سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خیانت تاجر کے لیے زہر قاتل کاروبار دین سے سیکھیے

سوچنے کی بات ہے،آخر اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تاجر ہی کیوں تھے؟ صرف یہی نہیں، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی تجارت پیشہ تھے۔ یہ تمام تاجر بھی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین ساتھی بھی۔ عبادت گزار بھی تھے اور بزنس مین بھی۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ کبھی دین نے ان کو تجارت سے روک دیا ہو۔ ایساہرگز نہیں ہو اکہ انہوں نے اسلام قبول کیا ہو اور ان کی تجارت میں خسارہ ہونا شروع ہوگیا ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تنخواہیں کیسے مقرر کی جا تی ہیں؟

تنخواہ (Remuneration)مقرر کرنے میں ہر منتظم اور مالک کی اپنی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ تاہم فنی اور شرعی نکتہ نظر بھی پیش نظر ہو تو شکایات کو کم سے کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ فائنانس اور مینجمنٹ کے اصولوں کے مطابق بہت سے عوامل ہیں جو ملازمین کی تنخواہ مقرر کرنے کے حوالے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ان عناصر کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :بیرونی عناصر اور اندرونی عناصر۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صارفین کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا جائے

دنیا کا ہر شخص صارف (consumer) ہے۔ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر دوسروں کی تیار کردہ اشیا استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ ہر ہر مرحلے پر شریعت نے صارف کے حقوق کا خیال کیا ہے۔ سب سے پہلے صارف کے ذاتی حوالے سے کئی حقوق متعین کیے ہیں۔ صارف کو بتایا ہے کہ اسے اللہ تعالی کی پیدا کردہ نعمتوں کو بہر حال استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالی کے پیدا کردہ رزق کو کھانا ہے۔ کوئی بھی شخص اللہ کا رزق کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اس لیے ہر ہر شخص پر فرض ہے کہ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’کلوا من طیبات ما رزقناکم…اللہ تعالی کی

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارتی اخلاقیات سراسر مفید

باسم یوسف ایک شامی تاجر ہیں۔ وہ اپنا قصہ لکھتے ہیں کہ میں شمالی کوریا سے سامان درآمد کرتا تھا۔ کوریا میں میرا واسطہ دو تاجروں پڑتا۔ ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔ کچھ عرصہ بعد مسلمان تاجر نے مجھے سامان بیچنا بند کردیا اور معاہدہ بھی ختم کردیا۔ یہ معمول کی بات تھی۔ اب میں صرف یہودی سے تجارت کرتا اور کوریا سے سامان منگواتا۔ پانچ سال بعد اچانک وہ مسلمان تاجر دوبارہ مجھے ملا۔ حال احوال اور رسمی تعارف ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہنگائی کا ذمہ دار کون؟

رمضان المبارک آتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوجاتا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر سمیت تمام اسلامی ممالک میں قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ رمضان المبارک میں مہنگائی ہر دور میں ہوئی، مگر تاجر برادری نے عوام کا بھرپور ساتھ دیا۔عباسی خلافت کے آخری دنوں میں تاریخی مہنگائی ہوئی۔ ابھی شعبان کا مہینہ ختم نہیں ہوا تھا کہ لوگ لقمے لقمے کو ترسنے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔