بے مثال کارنامہ

آج دنیا کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے۔ دنیا بھر میں اس مذہب کو ماننے والوں کی تعداد دو ارب سے بھی زیادہ ہے۔ پہلی صدی عیسوی سے شروع ہونے والا مذہب آج اکیسویں صدی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس مذہب میں بھی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ آج یہ مذہب ’’رومن کیتھولک، مشرقی آرتھوڈکس اور پروٹسٹنٹ‘‘ نامی تین الگ الگ فرقوں میں بٹ چکا ہے۔ دنیا پر اقتصادی طور پر قابض اکثر بڑے ممالک کا ریاستی مذہب عیسائیت ہی ہے۔ دنیا کے 197 ممالک میں سے 126 ملکوں میں عیسائی آبادی کی اکثریت ہے۔ آج دنیا کے متعدد بڑے کاروباری ادارے عیسائیوں کی ملکیت ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک بھی بہت سے عیسائی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایڈورٹائزنگ کا دوسرا رخ

عراق پر ایٹمی ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا گیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے عراق میں تبدیلی کا راگ الاپنا شروع کیا، امریکا نے پنجے جھاڑے اور اقوام متحدہ نے کارروائی کی منظوری دیدی۔ اتحادی اکٹھے ہوئے اور عراق پر چڑھ دوڑے۔ امریکی صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ قوم کو اربوں ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔ پارلیمنٹ نے اجازت دے دی۔ مگر اسی امریکی کانگریس کے سامنے صحت، تعلیم اور عوامی بہبود کا بجٹ آیا تو اس میں کٹوتی کر دی۔ کہا گیا خزانہ ان شعبوں پر سرمایہ کاری برداشت نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک فیصد لوگوں کی حکمرانی

ایڈم اسمتھ کو جدید معاشیات کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ آج دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں اسکاٹش ماہر معیشت کا فلسفہ پڑھایا جاتا ہے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ اس نے کہا تھا: ’’لوگوں کے درمیان دولت کی منصفانہ تقسیم ایک خفیہ اور نادیدہ ہاتھ سرانجام دیتا ہے جو مالک اور ملازم کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے اور ہر شخص کو اس کی اہلیت کے مطابق رزق مل جاتا ہے۔‘‘ (The Theory of Moral Sentiments)

مزید پڑھیے۔۔۔

چند کمپنیوں کی اجارہ داری

ایک تاجر دوست بتا رہے تھے کہ ہمارے شہر میں انڈوں کے کارباور پر ایک خاندان قابض ہے۔ اس خاندان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی شخص انڈوں کا کام شروع نہیں کرسکتا ہے۔ کوئی بھی شخص آکر انڈے کا کاروبار شروع کرتا ہے تو یہ خاندان فوراً اپنے انڈوں کی قیمتیں اس حد تک گرادیتا ہے کہ نیا کاروبار ضرور ٹھپ ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال اور حرام کا فرق

پچاس لاکھ کی لاٹری کیا نکلی، شب و روز ہی بدل گئے۔ پیسہ جیب میں آیا تو عمربھر کے ارمان پورے کرنا شروع کردیے۔ اللے تللے شروع ہوگئے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ بڑے شہر منتقل ہوجائو، وہاں کاروبار شروع کردو۔ لاہور میں جاکر قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا۔ حرام کا پیسہ جیب میں آتے ہی عقل و خرد رخصت ہوجاتی ہے۔ جو قدم اٹھایا، غلط اٹھایا۔ جس کاروبار میں ہاتھ ڈالا، نقصان کرڈالا۔ حرام کی نحوست نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا تھا۔ دولت بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکلتی گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور اسلامی تعلیمات

ایک منیجر دفتر کو جنت بھی بنا سکتا ہے اور جہنم بھی۔ جو مالک، منیجر یا سی ای او اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو عزت دیتا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،وہ کمپنی اور ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اس حوالے سے کیا رہنمائی کرتی ہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔