اس نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولی۔ چار سال کی عمر میں وہ اسکول جانے لگا۔ وہ ابھی بچہ تھا لیکن اسیپیسے جمع کر نے کا بہت شوق تھا۔ خوشی کے موقع پر کسی سے پیسے ملتے تو وہ ان کو سنبھال کر رکھ لیتا۔ چھ سال کی عمر میں اس نے اپنے دادا کے دیکھا دیکھی کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسکول جاتے ہوئے اپنے ساتھ بیچنے کے لیے چیونگم، کوکا کولا، ٹافیاں اور کھانے کی چھوٹی موٹی چیزیں لے جاتا۔

Telemex کے بانی کار لوس سلم کی کہا نی
وہ چھ بچوں کا باپ تھا۔ اسے ہر وقت ان کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تر بیت کی فکر رہتی۔ اگر اس کے لیے اسے اپنی جنم بھومی کو بادلِ نخواستہ چھوڑنا پڑتا تو وہ اس سے بھی دریغ نہ کرتا۔Lebanonمیں رہتے ہوئے وہ بچوں کی جسمانی دیکھ بھال اچھے طریقے سے انجام دے رہا تھا، لیکن وہاں ان کی تعلیم کے لیے سامان مہیا نہ کرسکتا تھا۔اپنے آبائی وطن کو نم دیدہ آنکھوں ، رنجیدہ دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ چھوڑنا پڑا۔میکسیکو آکر ازسرِنو کاروبار شروع کیا۔

کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ پیسہ، جذبہ، جہد مسلسل یا کچھ اور؟ زیر نظر تحریر میں اس سوال کا جواب کھوجتے ہیں۔
کامیابی کی تڑپ انسانی فطرت میں شامل ہے۔ اسی کی تگ و دو میں وہ اپنی ساری زندگی صرف کر دیتا ہے۔ کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں انسان زندگی سے بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ ناکامی سے سبق اور عبرت حاصل کرتاہے۔ کامیابی سے دولت، شہرت اور عزت حصے میں آتی ہے۔کامیابی اور ناکامی میں سب سے زیادہ اہم سمت کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہی چیز انسان کو بلندی یا پستی میں لے جاتی ہے۔

وہ اسکول سے واپس لوٹتا تو اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا۔ اس کاوالد بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ جب سے اس نے آنکھ کھولی، اپنے گھر میں ہر طرف لکڑیاں ہی لکڑیاں بکھری دیکھیں۔ اس کا باپ ان لکڑیوں کو کام میں لاکر ان سے مختلف چیزیں تیار کرتا۔ لیکن ان سے اتنی آمدنی نہ ہو پا رہی تھی کہ جس سے گھر کا چولہا جلتا رہے۔ گھر کے حالات دیکھ کر اس کا دل کڑھتارہتا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے بھی بڑھئی کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔ تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو اور خوش حال زندگی گزار سکیں۔ محنت اور لگن سے کام کرتا اور مختلف اشیاء بناتا، ایک دل پسند مشغلہ اس کے ہاتھ آ گیا۔ باپ بھی اپنے بیٹے سے بہت خوش تھا۔

’’ہوائی جہاز اوپر کو اٹھا۔ چند لمحوں میں فضاؤں کے سینے میں اتر گیا۔ میرے خیالات مجھ سے بھی بلند اڑان پر محو پرواز تھے۔ ’’شی !!‘‘کی آواز نے مجھے متوجہ کیا۔ میرے متوازی سیٹ والے بابا مجھ سے کچھ کہنا چاہتے تھے۔بڑے میاں شاید اس سرد ماحول سے بیزار ہو چکے تھے۔ میں نے ان کے چہرے کو دیکھا، جہاں مجھے طویل تجربے، زیرک کی انتہا اور فہم کا ایک آبشار بہتا دکھائی دیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میںCatalog Business شروع کرنے ہی والا تھا۔ لیکن نیا کاروبار شروع کرتے وقت جو خیالات آتے ہیں، مجھے بھی انہی سوچوں نے آگھیراتھا۔

اس کا باپ ریلوے ملازم تھا۔ تنخواہ نہایت کم،جس سے گزارا کرنا بھی مشکل تھا۔ اپنے والد کی کمائی اور گھر کے حالات دیکھ کر اس نے بھی محنت مزدوری شروع کر دی۔ وہ کپڑوں کی دکان پر کبھی کام کرنے لگتا تو کبھی کسی فیکٹری میں۔ کہیں بھی اس کا دل نہ لگتا تھا۔ اس کے دل میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ وہ کپڑے کا اپنااسٹور کھولے گا۔ جس کے ذریعے وہ کپڑے کا کاروبار کر ے گا۔ مگر اس کے پاس دکان کھولنے کے لیے سرمایہ نہ تھا۔ اس نے اسی چیز کو اپنا ہدف بنایا اور مسلسل مزدوری کرتا رہا۔ اس دوران اس نے کئی کاروباری گر سیکھ لیے، تا کہ جب وہ اپنا کاروبار شروع کرے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے