منزل مقصودکی طرف…

’’…اور پھر میں میدان جنگ میں زخمی ہو کر گر پڑا۔ چاروں طرف ہر چیز گھومتی نظر آئی اور پھر مجھے ہوش نہ رہا اس کے بعد کیا ہوا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو ایک ہسپتال میں پایا۔ میں نے حرکت کرنے کی کوشش کی، لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے ہل نہ سکا۔ علاج ہونے سے رفتہ رفتہ افاقہ ہونے لگا اور ایک دن میں اپنے پاؤں پر چلنے لگا۔ ایک دن ڈاکٹروں کی آپس میں ہونے والی کھسر پسر سے میں چونک گیا۔ ان کے مطابق میں کسی کام کا نہ رہا تھا۔‘‘ یہ گفتگو ہے ’’ٹارگٹ‘‘ کے بانی ڈوگلس کی۔ وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہتا ہے:

مزید پڑھیے۔۔۔

جب قدرت مہرباں ہوتی ہے

ایلی بروڈ (Eli Broad) ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت ہے۔ 2011ء تک یہ واحد آدمی تھا جو بیک وقت Fortune 500 کمپنیوں میں سے دو کمپنیوں کا مالک تھا جو دو مختلف انڈسٹریز سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایلی کی کہانی اسی کی زبانی سنتے ہیں۔ اگر مجھے میرے بچپن میں کوئیکہتا کہ میں بڑا ہوکر دو بڑی کمپنیوں کا مالک بنوں گا تو میں اس پیشن گوئی کو مذاق گردانتا اور یہ حقیقت تھی، کیونکہ بظاہر ایسے اسباب نہیں تھے جو اس مقام پر مجھے لا کھڑا کرتے، لیکن قدرت کی مہربانی سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تانگے سے مرسڈیز سازی تک

کارل بنز 25 نومبر 1844 ء کو جرمنی میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ریلوے انجینئر تھا۔ جو نمونیا سے مر گیا اور اس وقت کارل کی عمر صرف دو سال تھی۔ کارل کی ماں نے اپنے خاوند کی جمع پونجی کو استعمال کرنا شروع کیا جو جلد ہی ختم ہو گئی۔ اب فاقوں پر نوبت کی آ چکی تھی۔ کارل نے بھی عمر کے بڑھنے کے ساتھ اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے لگا اور تعلیم پر بھر پور توجہ دیتا، اسے معلوم تھا کہ اس کی ماں کن حالات میں اپنے پیارے لال کو تعلیم کے زیور سے آراستہ دیکھنا چاہتی ہے۔ کارل کی دلچسپی ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بلندیوں کا راہی

SONY کا بانی ’’مسارو‘‘ جو اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا گیا اور پھر… ٭… مسارو کے مطابق اگر آپ مارکیٹ میں آنا چاہتے ہیں تو ایسی اچھوتی اور منفرد پروڈکٹ مارکیٹ میں لائیں جو پہلے نہ ہو۔ اگر آپ نئی چیز نہیں بنا سکتے تو پہلے بنی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کریں

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک کام ایسا

’’اگر آپ پیسے کمانے کے لیے بزنس کرتے ہیں تو پیسے کے لالچ میں آ کر بزنس ختم کر بیٹھیں گے اور اگر خدمتِ خلق کے لیے کاروبار کرتے ہیں تو اس نیکی کی وجہ سے بزنس کو عروج پر لاکھڑا کرتے ہیں۔‘‘ یہ بات ہنری کی زندگی کا تجربہ اور نچوڑ ہے، جس نے ایک حقیقت کو آشکار کیا ہے۔ اب ہم ہنری ہینز کی کہانی اس کی زبانی سنتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اگلی نسل

فائزر جس نے خوبیاں اپنا کر کمپنی کو کامیاب بنایا لیکن اولاد نے اسے مشکل میں ڈال دیا چارلس فائزر (Charles Pfizer) ایک جرمن بزنس مین اور کیمیا گر تھا۔ جس نے جرمن سے امریکا ہجرت کر کے ایک کیمیکل کمپنی فائزر (Pfizer) کی بنیاد 1849ء میں رکھی ۔ آج اس کمپنی کو 165 سال ہو چکے ہیں۔ چارلس کا لگایا ہوا پودا آج بھی سرسبز لیکن انتظامیہ کی غلطیوں کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔ اس طویل عرصے میں کمپنی نے مختلف اتار چڑھاؤ اور تین نسلیں دیکھ لیں جو اسے یکے بعد دیگر چلاتی آرہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔