’’جو کہیں، وہی کریں‘‘ کے اصول نے کامیاب بنایا

سوال گذشتہ سال سے آپ کی کمپنی کا کوئی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، کیا وجوہات ہیں؟ جواب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گذشتہ کئی سال سے لبنان حالات کی کشیدگی اور سیاسی اضطرابات سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کوئی کمپنی اپنا بیلنس برقرار نہیں رکھ سکتی۔ پلاٹوں کی قیمتیں آئے روز بدلنے کی وجہ سے لوگوں میں خریدنے کی رغبت کم ہو جاتی ہے۔ جس کا اثر براہ راست کمپنی پر پڑتا ہے، اس لیے بڑے پروجیکٹس روک دیے جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ امن عامہ کا ہے۔ جب امن نہیں ہوتا تو کام کرنے میں بڑی مشکلات ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چند سالوں میں اسلامی بینکاری ہر پاکستانی کی اولین ترجیح ہوگی

شریعہ اینڈ بزنس یہ جو آپ نے فرمایا کہ پروسیجرز اور مینوئلز بنا دیتے ہیں اور ان پر کام چلتا رہتا ہے۔ کیا یہ مینوئلز کسی اسٹینڈرڈ پر بنے ہوئے ہیں یا ہر بینک کے اپنے اپنے ہوتے ہیں کہ ہر بینک اپنی پروڈکٹ کے حساب سے اسے تیار کر رہا ہوتا ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ کے خوف، صبر اور خود اعتمادی نے کامیابی سے ہم کنار کیا

سوال آپ کا تعارف جاننا چاہیں گے؟ جوابمیرا نام نغمین بن حامد الاحمدی ہے۔ بنیادی طور پر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ 1926ء میں سعودی عرب کے شہر ینبوع میں پیدا ہوا۔ یہ شہر مدینہ منورہ سے 250کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غربت اور گھریلو مجبوریوں کے باعث کوئی خاطر خواہ تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ بچپن سے ہی والدین نے بازار کا راستہ دکھایا، چنانچہ نو عمری سے ہی محنت اور خود کما کر کھانے کا عادی ہو گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رواجی طریقے نہیں، بزنس تعلیم کامیابی کی ضامن ہے

شریعہ اینڈ بزنس اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں؟ محمود قاسم میں نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اسی وجہ سے بچپن ہی سے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ کتابوں سے لگن اور تعلق غیر معمولی تھا۔ اس مطالعے نے میری ذہنی وسعت میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی ممالک میں حلال و حرام سے متعلق غفلت عام ہے

شریعہ اینڈ بزنس افانکا اور اس کے مقاصد و خدمات کی طرف جانے سے پہلے آنجناب کا تعارف سامنے آ جائے۔ ڈاکٹر محمد منیر چوہدری میں اصلاً پاکستانی ہوں۔ شہر سرگودھا سے تعلق ہے۔ فیصل آباد یونیورسٹی سے فوڈ سائنس میں ایف ایس سی اور ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد دو سال تک فوڈ سائنس میں ہی ریسرچ کا کام کیا۔ بعد ازاں حکومت نے مجھے بیروت جانے کا وظیفہ دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’پلاسٹک‘‘کا بازار مستحکم اور کھپت بے حدہے

شریعہ اینڈ بزنس آپ نے ’’عمیر پیٹروکیمیکلز‘‘ نامی کمپنی قائم کی، اپنے تجربات کی روشنی میں بتائیے اس کا آغاز کیسے کیا؟ کن مراحل سے گزرتے ہوئے کامیابیوں سے ہم کنار ہوئے؟
ابراہیم کسُمبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں کچھ عرصہ ملک سے باہر رہا۔ وہاں میں نے کام کیا، نوکریاں کیں۔ اس طرح میرے پاس کچھ رقم جمع ہو گئی۔ اسے لے کر میں پاکستان آیا۔ میری خواہش تھی کہ کاروبار کروں۔ پھر بہت چھوٹے پیمانے پر میں نے اس کا آغاز کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔