آپ   کی ایڈورٹائزمنٹ کیسی ہوتی ہے؟
ہماری ایڈور ٹائزمنٹ میں خاتون وغیرہ کا کوئی تصویر نہیں ہوتا۔پھر بھی اے بی سی والوں کی طرف سے ایوارڈ ملے ہیں۔ ایڈورٹائزمنٹ، کسی جاندار کی تصویر نہ ہونے کے باوجود جاذب نظر ہوتی ہے۔ اصل میں ہماری پروڈکٹ ایڈ ہوتی ہے۔ ہماری ماڈل پروڈکٹ ہے۔شنگریلا ایڈ میں پہلے پروڈکٹ ہوتی ہے بعد میں دوسری چیزیں۔ہمارا اپنا میڈیا ہاؤس ہے۔ ہمارا اپنا کری ایٹو ہاؤس ہے۔ ہمارے ہاں اپنا سافٹ ویئر اور آئی ٹی ہاؤس ہے جوان معاملات کو دیکھتے ہیں۔

ہمارا انٹرنیٹ پر رزلٹ اناؤنسمنٹ بھی ہے۔
بطور ادارہ کوئی دیگر خدمت سرانجام دیتے ہیں؟
ہم لوگ پرائیویٹ لیول مینو فکچرنگ ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں،جو پوری دنیا کے اندر دوسرے ممالک کے برانڈز بنانے کا ادارہ ہے۔ ایسوسی ایشن فارڈ ریسنگ امریکا کے ممبر ہیں ۔اسی طرح پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں۔ علاوہ ازیں ہم نے امریکا میں ساسزاور املی پروڈکٹ جنجرز بھیجی تھی جو ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئی تھی، لیکن کسی وجہ سے ایوارڈ نہیں مل سکا۔
ہمارے ہاں تین لیبارٹریاں ہیں۔ تین اور اہداف ہیں جو ہم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے سٹینڈرڈز ہیں۔ ہم اپنے چیک کیے ہوئے سیمپل دوسروں کے پاس بھیجتے ہیں۔ تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ جو ہم نے چیک کیا ہے وہ صحیح ہے۔ آغا خان لیبارٹری میں بھیجتے ہیں ۔ برطانیہ میں بھی بھیجتے ہیں۔ ہمارے پاس زیادہ ترمشینری بھی یورپین ہے۔ جس میں ’’انسان‘‘ کا پروڈکٹ سے تعلق زیرو رہ جاتاہے۔ پروڈکٹ اس وقت ہاتھ میں آتی ہے جب پیک ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارے پاس دو بڑی مشینیں ہیں جو آٹومیٹک ہیں اور ان کی قیمت سات سات کروڑ ہے۔ ہم نے کسی قسم کا سود نہیں لیا، بلکہ اپنی چادر میں رہ کر کام کیاہے ۔ کام کے آغاز سے اس کامیابی تک کی داستان سننا چاہتے ہیں


٭…ہمارے پاس کروڑوں روپے کی مشینیں ہیں جو بغیر کسی سودی قرض کے لی ہیں ٭… ہمارے ورکرز میں سو سے زائدایم بی اے اور فوڈٹیکنالوجسٹس بھی ہیں، مزید تعلیم حاصل کرنے سے بھی نہیں روکتے ٭…ہماری کوشش ہوتی ہے پاکستان کے 280شہروں میں سے ہر ایک میں تین دن کے اندر ہماری پروڈکٹ پہنچ جائے ٭… خوب یاد رکھیں مال تو آپ کا نہیں، آپ کے ورثا کا ہے، آپ تو اس کے صرف چوکیدار ہیں

کام کا آغاز ایسے ہوا کہ ہم نے پاکستان میں پہلی دفعہ سو گرام کیچپ کے پیکٹ بنائے اور پھر ان کو لے کر گھر گھر گئے۔ اس سے پہلے کیچپ بوتل میں ہوتی تھی ۔جو تبرک کے طور پر سائیڈ میں ڈالی جاتی تھی۔ ہم نے گلی گلی گھوم کر تقریبا تیس ہزار گھر وں پر دستک دی اور ان کو بتایا کہ یہ کیچپ ہے اور یہ شنگریلا کی ہے۔ ٹماٹر کی بنی ہوئی ہے۔ یہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بنائی گئی ہے۔ آپ اس کو استعمال کر کے دیکھیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب لوگ دروازے کھولتے ہوئے ڈرتے نہیںتھے۔ اس طرح اسے متعارف کروایا۔ جو ہمارے کمنٹس تھے اس کے بارے میں ان کو بتاتے تھے۔ یہ پیکٹ وزن میں برابر ہے۔ پورا وزن ہے۔ بعض ایسی فیکٹریاں اس وقت بھی ہیںجن کے پیکٹ اسی سائز کے ہوتے ہیں، لیکن وزن پورا نہیں ہوتا۔ کسی پیکٹ میں نو سو گرام ہوتا ہے اور کسی میں نو سو بیس گرام ہوتا ہے۔ وزن پورا نہیں ہوتا ۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں کیچپ بنا رہی ہیں ،پیکٹ کا یہی سائز ہے۔ دھوکا بازار میں بہت چل رہا ہے۔ لیکن میں جو لکھ رہا ہوں کہ ایک کلو گرام ہے تو بیس گرام اوپر توہو گا ،کم نہیں ہو گا۔ یہ ہم ہائی لائٹ کرتے ہیں۔
ہم یہ نہیں بتاتے تھے کہ فلاں کمپنی کے وزن میںکمی ہے بلکہ منفی پہلو کو چھوڑ کر مثبت پہلو اپناتے کہ ہمارا وزن پورا ہے۔ ہمارا عملہ تعلیم یافتہ ہے۔ چارٹر ڈاکاؤنٹنٹ ہیں، ایم بی اے سو سے زائد ہیں۔ فوڈٹیکنالوجسٹ ہیں۔ مزید تعلیم سے ہم اپنے ورکر ر کو نہ صرف یہ کہ روکتے نہیں ، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کاروبارکی بنیاد ’’عہد‘‘ کے گرد گھومتی ہے۔ ہر ایک سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کیا ہوا وعدہ پورا ہو، چاہے وہ کسی سے کیا ہوا ہے۔ ملازمین سے ، ادارے سے یاکسی کنٹریکٹ سے ہو، اصل عہد ہے۔ جب آپ پیمنٹ آرڈرپر یہ لکھ دیتے ہیں کہ پروڈکٹ کو چیک کرنے کے بعد ادائیگی کردوں گا تو عہد پورا نہیں کرتا تو جھوٹ لکھا ور یہ کب تک چلے گا۔ جب آپ عہد پورا نہیں کریں گے آپ سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔ نیند کی گولیاں کھانی پڑیں گے۔
مشکل مرحلوں کو کیسے سر کرتے ہیں؟ آپ سے پوچھتا ہوں آگ لگتی تھی تو صحابہ کرام کیا کرتے تھے؟ ظاہر ہے وہ مصیبت کے وقت اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو تے تھے۔ ہم بھی اعمال کی طرف اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتے اور دعا کرتے ہیں۔ پریشانی کے وقت کے مسنون اعمال کا اہتمام کرتے ہیں۔کوئی مر جائے تو نوحہ اور بین کرنے کی شریعت اجازت نہیں دیتی،اسی سے سمجھنا چاہیے کوئی مشکل پیش آئے تو ہر ایک کو بتاتے نہیں پھرنا چاہیے۔ صرف اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔
ٹیکس کی ادائیگی کا اہتمام کیسا ہے؟ ’’ہمارے ہاں جتنے سوفٹ ویئرز ہیں سب لائسنسڈ ہیں۔ بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں حکومت کی طرف عائد کردہ ٹیکس کی چوری کا تصور بھی نہیں۔ سو فیصد یہ ادارہ ٹیکسیشن پر ہے۔ ہر شعبہ انٹرنیشنل سٹیننڈرڈ کے مطابق ہے۔ نفع یا نقصان ہونا دوسری بات ہے۔ سو گز کی فیکٹری تھی اب چار ایکڑ کی فیکٹری ہے۔ آپ کے سامنے کاروبار ہے بڑھ رہا ہے۔ یہ برکت کی ہوائیں ہیں جو چل رہی ہیں۔
ملازمین کا رویہ آپ سے اور آپ کا ان سے کیسا ہے؟
الحمد للہ میں اپنے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میں ان کے لیے دعا کرتا ہوں، وہ میرے لیے دعا کرتے ہیں۔ مجھے والدین کی دعائیں، بزرگوں اور حضرات کی بھی دعائیں حاصل ہیں۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے 280شہروں میں سے ہر ایک میں تین دنوں کے اندر ہماری پروڈکٹ پہنچ جائے۔
مارکیٹنگ میں کیا طریقہ کار ہے؟
مارکیٹنگ میں ہمیں لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے کہ ہم کام کیسے کررہے ہیں۔ کشیدگی کیسے ہوتی ہے۔ اس میں حلال کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے۔ اس کام پر لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ ہم نے چین سے ماہرین بلائے۔ ان ماہرین کی اپنے پاس رہائش کا خرچ بھی برداشت کیا۔انہیں دو دو سال اپنے پاس بٹھائے رکھا کہ کشیدگی کیسے ہو گی۔ تمام تحقیق کے باوجود ذرا سا بھی شک ہوا تو ہم نے تمام منصوبہ روک دیا۔ اپنی پروڈکٹ متعارف کروانے کے لیے صرف اشتہار پر تصویریں لگا دینا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے دماغ لڑانا پڑتاہے۔ سر پھوڑنا پڑتاہے۔ ہر وقت سوچنا پڑتاہے۔ پرنٹ میڈیا بھی ہماری مارکیٹنگ میں شامل ہے۔ ٹی وی سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔ مختلف ممالک میں ایڈ چلاتے رہتے ہیں۔
ایک تاجر کی دینی ذمہ داری کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری کیا ہے؟ ایک تاجر پر دینی ذمہ داریوں کے ساتھ معاشرتی ذمہ داریاںیہ ہیں کہ لوگوں کو نوکری اور روزگار فراہم کریں۔ معاشرے کے مجبور افراد کے تعاون سے لے کر معذور افراد کو روزگار فراہم کرنے تک ایک صاحب ثروت کو خیال رکھنا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں ایسے لوگ ہیں آپ ان سے بات کریں گے وہ جواب نہیں دیں گے۔ یہ ہمارے ادارے کے گونگے بہرے ورکر ہیں۔ دولڑکے ایسے بھی ہیںجو سکون سے کام کر رہے ہیں، ایک کی ٹانگ نہیں ہے ایک کا پاؤں مڑا ہوا ہے ۔ بیساکھیوں پر صبح آتے ہیں۔ ان کو حلال روزی چاہیے۔ ان کو حلال روزی کا موقع مہیا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ کو یہاں بلا کر انہیں کہتے ہیں کہ ہمارے منیجر کے ساتھ تین ہفتے کام کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کاروبار کیسے ہوتا ہے۔ یوں اسے بزنس کے بارے میں معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ پورے پاکستان کے اسکولوں کے درمیان اسپیلنگ کا مقابلہ ہوتا ہے وہ منعقد کرواتے ہیں۔ کشمیر سے لے کر کراچی منوڑہ تک ہوتا ہے۔ ہر سال اس پروگرام کی نگرانی کرتے ہیں۔
تاجر برادری کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں؟
میرے تاجر بھای کہتے ہیں:میرا مال، میرا مال ۔ خوب یاد رکھیں مال تو میرا نہیں، یہ تو ورثا کا ہے، میں تو اس پر صرف چوکیدار ہوں۔ نفع نقصان کی مالک تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ بھی سمجھ لیں مال کی زیادتی بھی ایک امتحان ہے۔ سونے کی پہاڑ جمع کرلیں، جانا تو کفن پہن کرہی ہے۔ ساتھ لے جانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مال کو اللہ کے راہ میں خرچ کریں۔