چوکھٹا
سرگودھا کے دوست مولانا زین العابدین نے مجھے تفصیلی تعارف کے بعد جس شخصیت کے سامنے لا بٹھایا، وہ کسی طرح بھی میرے تخیل پر پورے نہ اترتے تھے۔ وہ چائے فروش کم اور گوشہ نشین ولی اللہ زیادہ دکھائی پڑے۔ ’’الطیبات‘‘ چائے برانڈ کے مالک محمد عزیز الرحمن ممتاز خانقاہی شخصیت حضرت مولانا مفتی عصمت اللہ، خلیفہ مجاز حضرت مولانا صوفی محمد سرور مدظلہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں۔ 12سال سے چائے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ملک

کے تمام اہم شہروں میں ان کے تیار کردہ برانڈ کی چائے پی جاتی ہے۔ ان سے کی گئی گفتگو ایک ایسی داستان سناتی ہے جو مالی پریشانی میں مبتلا ہر شخص کو کامیابی کا واضح راستہ دکھاتی ہے۔ یہ کہانی اگلی قسط میں پیش کی جائے گی، پہلی نشست میں 80فیصد پاکستانیوں کے مشروب ’’چائے‘‘ کے بارے میں خصوصی معلومات شامل اشاعت ہیں۔
’’چائے کیسے تیار ہوتی ہے؟‘‘ گفتگو کی شروعات چائے کے تعارف سے کرتے ہوئے محمد عزیز الرحمن کہنے لگے: ’’چائے پودوں کی شکل میں اُگتی ہے۔ اس پودے کے پتے بعد میں ’’پتی‘‘ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پتے ہر 2، 3 مہینے بعد توڑے جاتے ہیں۔ پھر مشینوں اور پلانٹس کے ذریعے اسے قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ چائے پوری دنیا میں صرف چند ہی ممالک کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ وہی پھر پوری دنیا میں سپلائی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے انہوں نے خاص نیٹ ورک بنایا ہوا ہے۔ اصل میں چائے کینیا میں ہی تیار ہوتی ہے۔ کینیا ہر روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ بوری فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک میں اس کی پیداوار محدود سطح کی ہے۔ پاکستان میں چائے کراچی کے ذریعے پہنچتی ہے۔ سارے تاجر وہاں کے بروکرز سے حاصل کرتے ہیں۔


٭…پاکستان میںچائے 5 ممالک سے آتی ہے: کینیا، انڈیا، ویت نام، بنگلہ دیش اور یوگنڈا ٭… اگر کوئی شخص بے اعتدالی سے کام لے کر بے تحاشا چائے پیتا ہے تو اس کی بھوک ختم ہو جاتی ہے ٭…خالص چائے وہ ہے جس کا رنگ سیاہ ہو، خوشبو بھیچائے والی ہو، ٹھنڈے پانی میں رنگ نہ چھوڑے ٭…ہماری اصل ایڈورٹائزنگ ہمارا معیار ہے، معیار اپنا تعارف خود کرواتا ہے ٭٭٭

چائے کے معیار کے لحاظ سے 3 گریڈ بنائے گئے ہیں۔ اے، بی اور سی۔ چائے کے بزنس مین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گاہک کو بی اور سی گریڈ چائے، اے گریڈ بتا کر فروخت کرتا ہے۔ ہم نے اس کا حل یہ نکالا کہ مختلف ممالک سے اچھے معیار اور ذائقے کی چائے منگوا کر اپنا ایک برانڈ تیار کیا۔ اس برانڈ کے ذریعے بی اور سی گریڈ کی تقسیم سے ہم بے نیاز ہو گئے۔ اب ’’الطیبات‘‘ بذات خود ایک معیار کا نام ہے۔ پاکستان کے تمام اہم شہروں میں پہنچتی ہے۔ہم نے یہ برانڈ تیار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ اس چائے کو آپ چیک کریں۔ اگر یہ ذائقے اور چاہت کے مطابق ہے تو بتائیں۔ الحمد للہ! عوام نے اسے پسند کیا ہے۔ ’’الطیبات‘‘ میں ہم نے کوشش کی ہے کہ چائے کی تمام مطلوبہ صفات موجود ہوں۔ خالص چائے لوگوں تک پہنچے۔ نیز اس کے معیار پر ہم نے کبھی سمجھوتہ گوارہ نہیں کیا۔ہمارے پوچھنے پر چائے کے حوالے سے لوگوں نے شکایت بھی کی۔ کسی نے کہا کالی ہو گئی تھی، کچھ نے بتایا کڑوی بنی۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کی اپنی کسی وجہ سے اچھی نہیں بنی تھی۔ مثلاً: وہاں کا پانی کڑوا ہے۔ اب ظاہر ہے ایسی پانی سے بنی چائے کب میٹھی ہو گی۔ یوں جب ہمارے کہنے پر انہوں نے متبادل پانی استعمال کیا تو ان کی شکایت نہ رہی۔‘‘ ’’چائے کن کن ممالک سے آتی ہے‘‘، اس کا جواب دیتے ہوئے وہ کہنے لگے:
’’ چائے پاکستان میں 5 ممالک سے آتی ہے: کینیا، انڈیا، ویت نام، بنگلہ دیش اور یوگنڈا وغیرہ سے۔ کچھ چائے یہاں پاکستان میں بھی تیار ہو رہی ہے۔ مگر اسے چائے کہنا مشکل ہے۔ وہ صرف برائے نام ہی چائے ہے۔کینیا کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ چائے انڈیا سے آتی ہے۔ انڈیا میں بھی اس کی پیداوار ہے۔ ہر ملک کا اپنا ذائقہ ہے۔ پاکستان میں چائے کی صرف امپورٹ ہی امپورٹ ہے، ایکسپورٹ نہیں ہے۔
’’کینیا سے چل کر آپ تک چائے خالص ہی پہنچتی ہے یا ملاوٹ کا شبہ ہے؟‘‘انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے وضاحت کی :
’’ جی ہاں!خالص ہی پہنچتی ہے۔ اگر کبھی ذائقے وغیرہ میں فرق آتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات ایسے پتے کو توڑ لیا جاتا ہے جو ابھی کچا ہوتا ہے یا بارشیں آنے سے فصل جلدی بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث اس میں قدرتی ذائقہ پیدا نہیں ہو پاتا۔ جب پودا اپنی عمر پوری ہونے پر اور موسمی حالات کے موافق رہنے پر توڑا جاتا ہے تو اس کا ذائقہ حقیقی اور مکمل ہوتا ہے۔ غیر موافق موسمی حالات والی چائے کی بولی لگنے پر ریٹ کم لگتا ہے۔ دوسرے ممالک میں بھی سستی ملتی ہے۔ اس کم معیار والی کا پتا چل جاتا ہے۔ معیاری کمپنیاں اس قسم کی چائے نہیں خریدتیں، ہم بھی گریز کرتے ہیں۔ ‘‘
’’نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چائے میں کیا فرق سمجھتے ہیں؟‘‘ ہمارے اس استفسار کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگے:
’’پاکستان میں نیشنل اور ملٹی نیشنل بہت سے برانڈ چل رہے ہیں۔ چائے تو تقریباً ایک ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا ’’ذریعہ‘‘ ایک ہی ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں تشہیر وغیرہ پر بے تحاشا خرچ کرتی ہیں۔ جس سے وہ قیمت زیادہ رکھ کر عوام سے وصول بھی کرتی ہیں۔‘‘
’’ آپ کے خیال میں کتنے فیصد پاکستانی چائے کا استعمال کرتے ہیں؟‘‘ ان کا حیران کن جواب ملاحظہ فرمائیے: ’’پاکستان میں تقریباً 80فیصد لوگ چائے پیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں صبح ناشتے میں، دفتر میں، مہمان کے ساتھ اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے وقت کئی کئی مرتبہ چائے پینے کا معمول ہے۔ ہمارے ملک کا خاصا سرمایہ صرف چائے کی مد میں باہر جاتا ہے۔ چائے کا کاروبار، بہت بڑا کاروبار ہے۔ اس کا کوئی سیزن بھی نہیں، پورا سال چائے چلتی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ چائے پی جاتی ہے۔ کیونکہ دن لمبا ہوتا ہے، کئی دفعہ نوبت آ جاتی ہے۔ یہ ہمارا تجربہ ہے۔ پوری دنیا کے پیش نظر ایشیا میں چائے سب سے زیادہ پی جاتی ہے۔ افغانستان اور پاکستان سب سے زیادہ چائے خریدنے والے ممالک ہیں۔‘‘
’’چائے کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں؟ ‘‘ ہمارے اس سوال پر وہ مسکرادیے۔ ان کا کہنا تھا: ’’چائے کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ آج کے دور میں لوگوں کی حرکت کم ہو گئی ہے۔ چلنا پھرنا محدود ہوتا جا رہا ہے۔ سہولتیں بے شمار ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے کولیسٹرول کم ہو رہا ہے۔ چائے کے ذریعے اس کی تلافی ہو جاتی ہے۔ دوسرا اہم فائدہ اس کا یہ ہے کہ نشاط کا باعث ہے۔ اسے پی کر آدمی تازہ دم ہو کر پھر سے کام میں لگ جاتا ہے۔ اس کے نقصانات بہت کم ہیں۔ اگر کوئی شخص بے اعتدالی سے کام لے کر بے تحاشا پیتا ہے تو اس کی بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ جس کے بعد کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔‘‘
’’چائے میں ملاوٹ کس کس طریقے سے کی جاتی ہے؟‘‘ یہ سوال ان کے لیے ایک طرح سے دیانت کا امتحان تھا، جس میں وہ پورا اترتے ہوئے کہنے لگے:
چائے میں کئی طرح سے ملاوٹ ہوتی ہے:ایک طریقہ یہ ہے کہ لوگ چنے کو باریک پیس کر ہر پیکنگ میں 2،3 کلو ڈال لیتے ہیں۔ بعض لوگ کم معیار کی چائے میں کوئی رنگ ڈال دیتے ہیں، جس سے اس کا رنگ گہرا سرخ ہو جاتا ہے۔ملاوٹ کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ لوگ وہ وزن نہیں دیتے جو پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے۔ ہم الحمد للہ کچھ زیادہ ڈال دیتے ہیں۔ کم کبھی نہیں کرتے۔
ملاوٹ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کینیا کی چائے میں دوسرے ملک کی گھٹیا چائے ملا دیتے ہیں۔ پھر اسے اے گریڈ کہہ کر فروخت کرتے ہیں۔ یہ بھی خیانت ہے۔
کچھ برانڈ ایسے ہیں جو مکسچر چائے بناتے ہیں۔ یہ خیانت کے الزام سے مستثنی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر مقام کی چائے میں کوئی نہ کوئی خاص خصوصیات ہوتی ہے۔ جب مکس چائے تیار ہو گی تو اس میں کئی خصوصیات بیک وقت جمع ہو جائیں گی۔‘‘
’’آپ نے خیانت کی بات کی، یہ بھی بتائیے خالص چائے کی علامات کیا ہیں؟‘‘ انہوں نے تین علامات ذکر کرتے ہوئے کہا:
’’ خالص اور اچھی چائے کی پہچان اس طرح کر سکتے ہیں کہ اس کا رنگ سیاہ ہو، خوشبو بھی چائے والی ہو۔ ٹھنڈے پانی میں ڈالیں تو رنگ نہ چھوڑے۔ اصل چائے صرف گرم پانی میں اور آہستہ آہستہ رنگ چھوڑتی ہے۔ ہم خود بھی اسی طریقے سے اچھی چائے کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جب کئی نمونے سامنے آتے ہیں تو انہیں پکا کر رکھ دیتے ہیں، کچھ دیر پڑا رہنے کے بعد بھی اس کا رنگ ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہو تو یہ اس کے خالص ہونے کی علامت ہے۔فروخت کرنے سے پہلے خود اطمینان کرتے ہیں۔
’’اے، بی اور سی گریڈ چائے کی تقسیم کس لحاظ سے ہے؟‘‘اس کے جواب میں انہوں نے کہا:
’’اے، بی اور سی گریڈ کی تقسیم کینیا والوں نے خود کی ہوئی ہے۔ رنگ، ذائقے اور دانے کے حساب سے انہوں نے اپنے طریقے سے اس کی تقسیم کی ہے۔ ہر ایک گریڈ کی قیمت دوسرے سے مختلف ہے۔ تا ہم بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سی گریڈ کڑک چائے ہوتی ہے۔ اسے مزدور پسند کرتے ہیں۔ پہلے 2 گریڈ میں خوشبو کا فرق ہوتا ہے، بعض سنجیدہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر جس شخص کی زبان جو ذائقہ لگ جاتا ہے، وہ ہمیشہ اسی کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح تمباکو نوشی والوں کے اپنے اپنے پسندیدہ برانڈ ہوتے ہیں۔‘‘
’’تشہیر کے لیے آپ کیا طریق کار اپناتے ہیں؟‘‘ جواب میں ان کا کہنا تھا:
’’ایڈورٹائزنگ کا ایک طریقہ تو ہمارا گھر گھر دستک دے کر تعارف کروانا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی رواج کے مطابق نوٹ پیڈ چھپواتے ہیں۔ ایسے کپ بھی بنوائے ہیں جن پر اپنے برانڈ کا نام لکھ دیا ہے۔ مگرہماری اصل ایڈورٹائزنگ ہمار امعیار ہے۔ معیار اپنا تعارف خود کرواتا ہے۔
’’ہفت روزہ شریعہ اینڈبزنس کے قاری ہونے کے ناتے اپنے تاثرات سے آگاہ فرمائیے۔‘‘گفتگو کے ابتدائی حصے کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے میں نے پوچھا تو سرگودھا کے اس معروف تاجر کا کہنا تھا: شریعہ اینڈ بزنس کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہوں۔ ہر مرتبہ کچھ نئی چیزیں سامنے آتی ہیں، کچھ کا تکرار ہو جاتا ہے۔ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔ اللہ تعالی اسے ترقی سے نوازے۔ آمین۔‘‘ (جاری ہے)