شریعہ اینڈ بزنس کے محمد عزیز الرحمن تک پہنچنے کی دوسری بڑی وجہ آپ کاملازمت سے تجارت اور مزدوری سے مشہوری تک کا وہ سفر ہے جو ہر غریب کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن کر دیتا ہے۔ آئیے! انہی کی زبانی وہ
کہانی سنتے ہیں۔ کہا:
’’اچھی زندگی، وسیع رزق کی خواہش کس کے دل میں نہیں ہوتی۔ بہت سے خوبصورت خواب آنکھوں میں سجا کر میں نے تجارت کی طرف قدم بڑھائے

۔ مگر مجھے شاید ابھی اس راستے کے لیے کئی ایک قربانیاں دینی تھیں۔ میں نے اپنے انتخاب کے مطابق چائے سے کاروبار کا آغاز کرنا چاہا۔ چائے کی ایک بوری خریدی اور کسی کی دوکان کے سامنے جا کر ٹھیہ لگا دیا۔ دو ماہ گزر گئے، مگر ایک پاؤ بھی چائے نہ بِک سکی۔ شدید مایوسی ہوئی اور قریب تھا کہ دوکان چھوڑ کے بھاگ کھڑا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ نے ہمت عطا کی۔ پھر ایک شخص میرے پاس آیا اور مشورہ دیا کہ آپ اس کے پیکٹ بنا کر دوکانوں پر لے جا کر فروخت کرو۔ میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا۔ اس سے بہت ہمت بڑھی اور آگے بڑھنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اس وقت بازار سے عام لفافے خرید کر ان میں پیک کرتے اور فروخت کر دیتے۔پھر کسی نے مشورہ دیاآپ کا مال ماشاء اللہ ’’نمبر وَن‘‘ ہے۔ آپ اپنا مخصوص پیکٹ تیار کروائیں، تاکہ منفرد پہچان بنا سکیں۔ اگر آپ بھی عمومی پیکٹ میں فروخت کرتے رہے، کوئی الگ ممتاز حیثیت حاصل نہ کر سکیں گے۔ اسی طرح ہم دھیرے دھیرے برانڈ بنا کر اسے مقبول بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اللہ کے فضل سے کاروبار اچھا جا رہا ہے۔ ہم نے کوشش کر کے اپنے بزنس کو ہر قسم کے دھوکے، ملاوٹ اور جھوٹ سے پاک رکھا ہوا ہے۔یہ کاروبار ہم نے ایک بوری چائے سے شروع کیا تھا۔ پھر اللہ نے برکت عطا کی۔ ’’الطیبات‘‘ برانڈ بنا کر ہم لوگوں کے دروازوں پر گئے۔ اپنا برانڈ بنا لیا تو گھریلو محنت سے شروعات کیں۔ روزانہ دس دس گھروں تک جاتے، انہیں اپنے برانڈ کی چائے پیش کرتے اور اس کے بارے میں اپنے تجربے سے آگاہ کرنے کا کہتے۔ یہ کاوش مسلسل کی گئی۔ جب لوگوں کا اطمینان حاصل کر لیا تو پھر اس چیز کو مزید پھیلایا۔ ‘‘
انہوں نے مختصرا اپنی داستان سنائی۔ عزم، محنت اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہونا۔ یہ تین لفظ ان کی 12سالہ تجربات کا نچوڑ ہیں۔ مزدور ی سے شہرت تک کا سفر بس ان تین ہی الفاظ کا مرہون منت ہے۔ افلاس، ناداری اور غربت کے احساس میں مبتلا ایک بار ضرور اس مرد میدان کے رستے پہ چل کر دیکھیں۔ اپنے رب سے کوئی شکوہ رہے گا نہ ہی مخلوق سے کوئی شکایت۔


٭…وہ ٹھیہ لگانے والوں سے لے کر سپر اسٹور مالکان تک ہر ایک کے لیے بہترین آئیڈیل ہیں ٭… محنت کا آغاز اپنے علاقے اور شہر سے کیا جائے، پھر بتدریج آگے بڑھتے جائیں ٭…گاہک ایسے دکاندار پر اعتماد کرتا ہے جو خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑے، زیادہ باتیں نہ بنائے ٭…محنت کا ایک پہلو یہ بھی ہے ہم ملازمین پر انحصار کرنے کے بجائے بذات خود اہم کاموں میں حصہ لیں ٭

وہ ٹھیہ لگانے والوں سے لے کر سپر اسٹور مالکان تک کے لیے ایک بہترین آئیڈیل ہیں۔ اس لیے ہم نے ان سے پوچھا:’’آپ اپنے کاروباری تجربے کی روشنی میں دکانداروں کو کیا مشورے دیں گے؟‘‘ مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے دکانداروں کے لیے جو 10 رہنما ہدایات بتائیں، نمبروار ذکر کرتے ہیں، انہوں نے کہا:
1 ہم سمجھتے ہیں ہر کام میں بالخصوص کاروباری ترقی پانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر گھر جا کر محنت کا جو انداز ہم نے اپنایا،ہمارا تجربہ ہے اس طرز پر محنت میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ آدمی کاروبار کے نشیب و فراز، اس کی مشکلات اور گاہکوں کی نفسیات وغیرہ سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے اچھے اور برے لوگوں کی پہچان ہو جاتی ہے، جن سے آپ معاملہ کر سکیں، نیز فروخت کے مواقع بھی ہاتھ آتے ہیں۔
جہاں جہاں ہم چائے فروخت کرتے ہیں، وہاں خود جا کر لوگوں سے پوچھتے ہیں: ہماری چائے میں کوئی خامی ہے تو بتائیں۔ اس طریقے سے مسلسل بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پوچھنے پر اگر گاہک کسی کمی کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے دور کر کے دوبارہ جا کر پوچھتے ہیں اب چیک کر کے بتائیں، آپ کا مسئلہ حل ہو گیا یا نہیں؟ یوں ہم اپنے معیار کو برقرار رکھنے اور مسلسل بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
اللہ کا خصوصی فضل ہے کئی لوگوں نے چائے کا کاروبار ہمارے ساتھ شروع کیا تھا، مگر اللہ نے ہمیں عزت اور ترقی عطا فرمائی ہے۔ یہ اس کے دین اور حلال کی برکت ہے۔
سرگودھا شہر میں ایک مشہور ہوٹل ہے۔ جس کی چائے بہت ہی مشہور ہے۔ لوگ لائن لگا کر اس کے پاس چائے پیتے ہیں۔ الحمد للہ! یہ ’’الطیبات‘‘ برانڈ کی چائے ہی استعمال کرتا ہے۔
2 اسی سے یہ بھی ذہن میں آتا ہے محنت کا آغاز اپنے علاقے اور شہر سے کیا جائے، پھر بتدریج آگے بڑھتے جائیں۔ ہم نے چونکہ اسی انداز کی محنت کی تھی، لہذا ہمیں ذاتی طور پر بہت فائدہ ہوا۔ ہر روز اپنی چائے کے خریداروں میں ایک نئی دکان کا اضافہ کر لیتے۔ ساتھ ہی ساتھ دھوکے بازوں کا پتا چلتا رہا۔ ایک خاص مقدار میں اپنے گاہک بنانے کے بعد ہم نے جان لیا کہ کون ایسا آدمی ہے جس کے ساتھ ہم تعلق کو مزید وسعت دے کر کاروبار کو بڑھائیں۔
3 کامیابی کا سب سے بڑا راز محنت ہے۔ محنت اور سخت محنت جب تک نہ کی جائے، کچھ نہیں بن پاتا۔ آج کل سہولیات کا دور ہے۔ لوگ سہولت پسند بن گئے ہیں۔ مگر کاروبار میں کامیابی پھر بھی محنت سے ہی ہو گی۔ محنت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم ملازمین پر انحصار کرنے کے بجائے بذات خود اہم کاموں میں حصہ لیں۔ میرے کاروبار کی داستان اسی انداز کی محنت کے گرد گھومتی ہے۔
4 دکانداروں سے لوگوں کا اعتماد اٹھنے کی وجہ یہ ہے کہ چند بار تو وہ گاہک سے بہت ایمانداری سے پیش آئیں گے۔ مگر پھر مسلسل خیانت سے کام لینے لگتے ہیں۔ آنے والا بیوقوف تو نہیں ہوتا، وہ بالآخر انہیں چھوڑ دیتا ہے۔ یوں ان کا کاروبار کبھی ترقی نہیں کر پاتا۔
5 ہماری اصل ایڈورٹائزنگ ہمارا اعتماد ہے۔ جسے برقرار رکھ کر ہم اس لیے مطمئن ہیں کہ یہ اپنا تعارف خود کروائے گی۔ موبائل اورSMSکا دور ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں کو خود بتاتے ہیں کہ فلاں چائے ہم نے استعمال کی ہے، بہت اچھی ہے۔ آپ بھی وہی خریدا کریں۔ اس کے بعد اب کسی اور ایڈوٹائزنگ اور مارکیٹنگ کی بھلا کیا حاجت ہے؟ معیاری چیز اپنی مشہوری خود کرواتی ہے۔
6 لوگ بہت سارے کام اور بے احتیاطیاں اس وجہ سے بھی کرتے ہیں کہ ’’سبھی کر رہے ہیں تو ہمارے کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔‘‘یہ سوچ کاروباری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
7 یہ کہنا اور سوچنا غلط ہے کہ کاروبار میں جھوٹ بولنا ہی پڑتا ہے۔ آدمی بچنا چاہے تو بآسانی بچ سکتا ہے۔ ترقی آتی ہے۔ اگر آدمی گاہک سے دھوکہ کرے تو وہ بے وقوف تو ہر گز نہیں، دو یا تین بار کے بعد اعتماد جاتا رہتا ہے۔
8 گاہک کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ایسے دوکاندار پر اعتماد کرتا ہے جو خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑے۔ زیادہ باتیں نہ بنائے۔ قسم پر قسم نہ کھا رہا ہو۔ اپنی چیز کاتعارف اور خصوصیت بتا کر خاموش ہو جائے ، پھر گاہک کی چاہت اور پسند کے اظہار کا انتظار کرے۔
9 تاجر برادری کی خدمت میں بطور خاص عرض ہے حلال کھانے کا اہتمام کریں۔ اسی میں ان کی زندگی کا سکون اور آخرت کی بہتری ہے۔
10 اس کے علاوہ بطور خاص عرض کروں گا کہ زکوۃ دینے کا ضرور اہتمام کریں۔ زکوۃ دینے سے آپ کا کاروبار ہر قسم کے نقصان سے ان شاء اللہ محفوظ رہے گا۔ اپنا ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔
ایک مرتبہ ہماری اسی مارکیٹ میں آگ لگ گئی۔ دیر تک لگی رہی۔ میں یہاں موجود نہیں تھا۔ مجھے کسی نے فون کیا، بھائی ’’انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!!‘‘ آپ کی دکان جل چکی ہے۔ یہ سن کر مجھے ہارٹ اٹیک ہوا نہ ہی پاؤں تلے سے زمین نکلی۔ میرا دل نا معلوم وجہ کی بنا پر مطمئن تھا، مطمئن رہا۔ کار میں بیٹھ کر یہاں پہنچے۔ دکان کا دروازہ کھولا۔ الحمد للہ ہر چیز اپنی حالت پر تھی۔ بہت غور کرنے کے بعد ایک سوراخ پر نظر پڑی جہاں سے دھواں اندر آ رہا تھا۔ اس کے بر خلاف دیگر کئی دکانیں جل گئی تھیں۔ الحمد للہ زکوۃ دینے کی برکت سے ہمارا ایک روپے کا نقصان نہیں ہوا تھا۔ اسباب کی دنیا میں ہماری دکان جل اٹھنے کے امکانات زیادہ تھے۔ چائے بذات خود ایک بارود ہے۔ اس کے علاوہ کاغذ کے پیکٹ ہیں۔ کاٹن رکھے ہوئے تھے، مگر حلال کے اہتمام، زکوۃ کے التزام اور کاروباری اخلاقیات کا خیال رکھنے کی برکت سے ہر چیز محفوظ رہی۔ ہر تاجر اس حوالے سے خصوصی فکر مندی سے کام لے، ان شاء اللہ ہر قسم کے نقصان سے بچا رہے گا۔