شریعہ اینڈ بزنس:
امپورٹر سمجھتا ہے حکومت کی طرف سے کڑی شرائط کاروباری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ واقعی ایسا ہے؟چیمبر کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟
شمیم احمد فرپو:
آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ’’مسائلستان‘‘ بنا ہوا ہے۔ چاہے امپورٹر ہو یا ایکسپورٹر، چھوٹا تاجر ہو یا بڑا، ہر ایک یکساں طور پر پریشانی سے دوچار ہے۔

چیمبر کا اس حوالے سے کردار یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی جینئین خرابی ہے تو ہم مل بیٹھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا جس کسی سے رابطہ ہوتا ہے،اس ذریعے سے مسئلہ حل کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔ بعض شکایات نئی ہوتی ہیں اور بعض وہی دوبارہ دہرائی جاتی ہیں، جن کا حل پہلے پیش کیا جا چکا ہوتا ہے۔ تاجر چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اگر وہ چیمبر کا ممبر ہے، جب وہ ہمیں بتاتا ہے، ہم اس کی مدد کرتے ہیں۔
آپ جانتے ہیں لاء اینڈ آرڈر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ انرجی کرائسس کا ہے۔ تیسرا مسئلہ گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ عطا کرے کہ وقت گزرنے کے بعد مسئلے کو سمجھتے ہیں۔ اگر گیس کم تھی تو CNGاسٹیشن کیوں کھولنے دیے گئے؟؟ گاڑیوں میں کٹیں لگیں وغیرہ۔ اس میں لوگوں کااربوں کا سرمایہ لگا۔ اب اس سے پریشان ہیں کہ ہمارے پاس گیس نہیں ہے۔ ان سب کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ بجلی چوری ہو رہی ہے تو اسے کیسے قابو کیا جائے؟ اس کا نقصان بھی عوام برداشت کر رہے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ جو بل اور ٹیکس وغیرہ دے رہے ہیں ان پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جو نہیں دے رہے ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
نئی حکومت کا ٹیکس کے بارے میں رویہ کیسا ہے؟
شمیم احمد فرپو:
ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں، ٹیکس بیس کو نہ بڑھائیں۔ جو دے رہے ہیں ان کی گردن کو مزید دبایا جا رہا ہے۔ جو بھی ادارے اور شعبے اپنی محنت سے کچھ کما رہے ہیں ان پر ٹیکس لاگو کیا جائے۔ جہاں سے بھی آمدنی ہو رہی ہے، چاہے زراعت سے ہو، سروسز سے ہو یا اپنی مہارت سے ہو، اس پر ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
نئی حکومت کے بارے میں مشہور ہے کہ بزنس فرینڈلی ہے؟
شمیم احمد فرپو:
ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی۔ جو کچھ انہوں نے اب تک کیا ہے اس میں تو ’’فرینڈلی‘‘ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔امید یہی تھی کہ کچھ عوام کو فائدہ ہوگا لیکن انہوں نے آتے ہی بجلی اور تیل کو مہنگا کرنا شروع کر دیا اور متواتر مہنگائی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی تمام چیزوں پر ڈسٹری بیوٹ ہوتی ہے۔ اس طرح گویا انہوں نے مہنگائی کے جن کو تباہی مچانے کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
ابھی کراچی کے حوالے سے انہوں نے کچھ اقدامات کیے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کے کچھ نتائج سامنے آئیں گے؟
شمیم احمد فرپو:
دنیا امید پر قائم ہے۔ جو کچھ نتائج سامنے آنے چاہییے تھے، ابھی تک نہیں آ پائے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ آزاد ہیں،دوسروں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کا مسئلہ آیا تو فورا اسے واپس لے لیا گیا۔ اس خبر کی تردید کرنے لگے۔ آج کا میڈیا بہت آزاد ہے، خبر فوراً ہر کسی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں سوئی بھی گرتی ہے تو امریکا میں اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔حکومت کے ہر قسم کے رویے عوام کے سامنے ہیں، کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
آپریشن کی مانیٹرنگ کمیٹی میں تاجروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے یا نہیں؟
شمیم احمد فرپو:
فی الحال تو انہوں نے یہی کہا ہے کہ ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو اس کی نگرانی کرے گی۔ اس میں ہم سویلین کو بھی لیں گے۔ اب یہ اعلان تو ہوا۔ لیکن ابھی تک کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔
شریعہ اینڈ بزنس:
کراچی چیمبر سود کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
شمیم احمد فرپو:
معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے تدابیر ہو رہی ہیں۔ تا ہم ابھی تک یہ انفرادی سطح کی ہیں۔ لوگوں کا رجحان اسلامی بینکاری کی طرف ہو رہا ہے،یہ بھی اسی جذبے کے تحت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ اسلامی بینکاری کو مثالی بننے میں ابھی وقت لگے گا۔ اسی سبب ہم سمجھتے ہیں کہ علمائے کرام سود کی روک تھام میں کسی حد تک اپنے ذمے سے بری ہیں۔ ہم ذاتی طور پر لوگوں کو اسی بینکاری سے منسلک ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارے خیال کے مطابق اسلامی بینکاری دن بدن ترقی کی طرف گامزن ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
عام تاجر کہتے ہیں کہ کراچی چیمبر تک ہماری آواز نہیں پہنچ پاتی؟
شمیم احمد فرپو:
یہ غلط تصور ہے۔ اس کی مثال موجود ہے۔ بولٹن مارکیٹ میں آگ لگی۔ اس میں چھوٹے تاجر ہی متاثر ہوئے تھے۔ بڑا تاجر شاید کوئی ایک بھی نہیں تھا۔اس موقع پر ان چھوٹے تاجروں کی مدد کس نے کی؟ اسی چیمبر کی مدد سے یہ دوبارہ آباد ہو پائے ہیں۔27دسمبر بینظیر بھٹو صاحبہ کی رحلت کے دن تمام تر نقصان بڑے تاجروں کا ہوا تھا۔ ان کے کنٹینر اور فیکٹریاں جلی تھیں۔ تب کسی نے کی کوئی مدد نہ کی تھی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
پاکستان میں کرنسی کی قدر میںکمی اور مہنگائی کے بارے میں آپ کیا کہیں گئے؟
شمیم احمد فرپو:
کرنسی کی قدر میں کمی بھی مہنگائی کے نتائج میں سے ہے۔ افراط زر کی شرح کو دوگنا کرنے سے پاکستان اب مہنگائی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ افراط زر کے نتیجے میں حقیقی رقم کا توازن برقرار رہنے کے بجائے انحطاط پذیر ہے۔ ہمیں کرنسی کو بحال کرنے کے لیے اتنی مقدار میں اشیا اور سروسز بڑھانی ہوں گی۔ افراط زر ہی ضروریات پوری کرنے کے لیے نوٹ چھاپنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اضافی اخراجات ہیں جو افراط زر کے ساتھ منسلک ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
پرائیویٹ سیکٹر کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ فرمائیے؟
شمیم احمد فرپو:
پرائیویٹ سکیٹر میں محدود اور کم مقدار میں سرمایہ کاری مستقبل میں پاکستان کے لیے مختلف مسائل پیدا کرے گی۔ مسلسل قرضہ بڑھتا رہے گا۔ پاور سیکٹر کے مسائل کھڑے ہوں گے اور لاء اینڈ آرڈر کی غیر یقینی صورت حال پیش آئے گی، وغیرہ۔ ہمارے ملک پاکستان میں مناسب سرمایہ کاری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں فریم ورک کی ضرورت ہے، لیکن ابھی تک اس میں موزوں چیزوں کا فقدان ہے۔ یہ چیز پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ شکنی کا ذریعہ بنتی ہے۔اسی طرح گردشی قرضوں کے بڑھنے، پاور سیکٹر کے مسائل، لاء اینڈ آرڈر کی غیر یقینی صورت حال جیسی چیزیں پرائیویٹ سیکٹر کی کم پیمانے پر سرمایہ کاری کا سبب بنتی ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
کیا اقدامات کیے جائیں کہ پرائیویٹ سیکٹر کی کارکردگی بہتر ہو جائے؟
شمیم احمد فرپو:
ہمیں بنیادی نظام میں ترقی لانی ہو گی۔ انفرااسٹرکچر میں بہتری لانی ہو گی۔ خاص طور پر انرجی سیکٹر میں کام کرنا ہو گا۔ تعلیم کو معیاری بنانا ہو گا۔ حفظان صحت کے اصولوں کے تحت نظام بنانا ہو گا۔ پرائیویٹ سیکٹر کو بہتر اور تیز ترین ٹیکنالوجی کی رہنمائی کی ضرورت ہے، مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹر میں، اسی طرح ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ کے انتظامی معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے محنت کرنا ہو گی۔ اسی طرح مقابلے کے میدان میں آنے کے لیے بزنس کے عمدہ عمدہ طریقوں پر مشق کرنے کی شدیدضرورت ہے۔