اس میں شک نہیں کہ میراتعلق شاہی خاندان سے ہے۔ میری ولادت جس گھرانے میں ہوئی وہاں دولت وثروت کی بہتات ہی دیکھی۔ مگرمیں نے خودکوخاندانی اثرورسوخ اورجاہ ودولت سے دوررکھتے ہوئے کام اورمحنت کواپناشعاربنایا اوریہی میری کامیابی کاراز ہے۔ میں نے اپنی محنت کاصلہ بہت جلدپالیا۔ میں تھوڑے ہی عرصے میں اکیس ارب ڈالرکے سرمایے کے ساتھ عرب مالداروں کی فہرست میں سب سے پہلے نمبرپر، جب

کہ 2008ء میں فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق دنیاکے امیرترین آدمیوں میں 19ویں نمبرپر شمار کیا گیا۔ میری ولادت 1957 ء کوریاض میں ہوئی۔ میں نے شاہی خاندان کے دیگربچوں کی طرح حصول ِ تعلیم کے لیے امریکا کاسفرکیا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال سے بھی کم تھی۔ میں نے امریکی ریاست کیلی فورنیاکے میلانو نامی کالج سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ مزیدتعلیم کی تکمیل کے لیے میں نے نیویارک کی سیراکوس نامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1985ء میں یہاں سے عمرانیات میں ماسٹرمکمل کرکے سندِفراغ پائی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعدمستقبل کے حوالے سے دل میں اُمیدوں کی بارات لیے واپس سعودی عرب لوٹا۔


امیرولیدسعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعودکے پوتے اورامیرطلال بن عبدالعزیزکے فرزندِارجمندہیں۔ آپ کی والدہ لبنانی نژاداورلبنان کے سب سے پہلے وزیراعظم ریاض الصلح کی بیٹی ہیں۔امیر ولیداس وقت نہ صرف عالمِ عرب ، بلکہ دنیاکے چندگنے چنے امیرترین آدمیوں میں سے ایک ہیں۔آپ دنیائے عرب کے عظیم سرمایہ کاراورخلیج کی ایک بڑی کمپنی شَرِکۃ المملکۃ القابضۃ کے مالک ہیں۔امریکی اقتصادی جریدے فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق امیرولیدسرمایہ کاری اورکاروباری دنیاکی ایک اچھوتی اور منفرد شخصیت ہیں۔ میگزین نے اپنی رپورٹ میں آپ کو عالمی سطح پر مائیکروسافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس کے بعد دوسرے نمبرپراختراعی سوچ رکھنے والاقراردیاہے۔ امیر ولید بن طلال نے بلندیوں کایہ سفرکیسے طے کیا؟ کیامحض اس وجہ سے کامیابی نے آپ کے قدم چومے کہ آپ ایک ایسے شاہی گھرانے میں پیداہوئے،جن کااوڑھنابچھونادولت ہے؟ جی نہیں! شاہی خاندان کے کتنے ہی شہزادے اپنے منہ میں سونے کے چمچ لے کرپیداہوئے، مگروہ ان رفعتوں کونہیں پہنچ پائے جہاں یہ طائرِبلند پرواز اپناآشیانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ امیرولیدنے تن آسانی اورراحت پسندی کے ساتھ یہ اعزازاپنے نام نہیں کیا، بلکہ پیشے سے لگن،انتھک محنت، شبانہ روز تگ ودواورمضبوط منصوبہ بندی ہی آپ کی کامیابی کے رازہائے سربستہ ہیں۔ قدرت نے امیر کوتجارتی سوجھ بوجھ، دولت کی ریل پیل کے ساتھ ساتھ دلِ دردمنداوردستِ فیاض سے بھی نوازاہے۔ خداکی دی ہوئی دولت راہِ خدامیں لٹاناآپ کامحبوب مشغلہ ہے۔آپ رفاہی اورفلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔ آپ نہ صرف اسرائیل کے تیغ ِ ستم کانشانہ بننے والے مظلوم فلسطینیوں پر ابرِ کرم بن کربرستے ہیں، بلکہ اطرافِ عالم میں بسنے والے کتنے ہی غریبوں اورمحتاجوں کے لیے سائباں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ذیل میں امیر موصوف سے ان کی ذاتی زندگی، کاروباری تجربات اور کامیابیوں کے اسباب کے حوالے سے کی گئی گفتگو اردو ترجمے کے ساتھ ہدیۂِ قارئین ہے۔

یونیورسٹی سے فراغت کے ساتھ ہی میرے دل میں آزادانہ کاروبار کے شوق نے انگڑائی لی۔ یہی شوق میرے میدانِ تجارت میں قدم رکھنے کاسبب بنا۔اقتصادی کامیابی کے خوابوں کوعملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے والدطلال بن عبدالعزیزآل سعودکے دیے ہوئے ایک لاکھ ریال سے کاروبارکاآغازکیااور ’’مؤسسۃ المملکۃ للتجارۃ والمقاولات‘‘ کے نام سے ایک ادارے کی بنیادرکھی۔ اس ادارے نے جنوری 1980ء میں اپنی سرگرمیوں کاآغازکیا۔ چھ سال بعدمیں نے اس ادارے کو’’شرکۃ قابضۃ‘‘کے نام سے ایک کمپنی میں تبدیل کردیا جوآج کل ’’شرکۃ المملکۃ القابضۃ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ سرمایے اورصنعتی سرگرمیوں کے حوالے سے میری اس کمپنی کاشمار سعودیہ کی بڑی کمپنیوں میں ہوتاہے۔اس کمپنی کے زیرِانتظام کئی ذیلی کمپنیاں چلتی ہیں۔ میں اس کمپنی کے توسط سے دنیابھرمیں پھیلی ہوئی مختلف قسم کی تجارتی سرگرمیوں کوکنٹرول کرتاہوں۔اس کے لیے میرے پاس اقتصادی ماہرین کی ایک پوری جماعت ہے جومجھے اپنی پیشہ وارانہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ہماری کمپنی گہرے غوروخوض اورتحقیقاتی رپورٹ کی بنیادپرہی کسی جگہ سرمایہ کاری کاری کرتی ہے۔عموماًایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے جو اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہو۔ اس کانتیجہ ہے کہ آج تقریباًتمام اہم شعبوں اوردنیاکے مختلف ملکوں میں ہماری اس کمپنی کاسرمایہ لگاہواہے۔ متعدّدعالمی کمپنیوں کے ساتھ ہم شیئرز اوربانڈز کے ذریعے شراکت دارہیں۔ جن اہم شعبوں میں شرکۃ قابضۃنے سرمایہ کاری کی ہے، اُن میں ٹیلی کام، میڈیا، ٹی وی چینلز، بینک، ٹیکنالوجی، ہوٹلز، اراضی اورکپڑاوغیرہ خاص طور پرقابلِ ذکرہے۔ 1991ء میں790 ملین ڈالرمالیت سیسٹی گروپ کے شیئرز خریدکرایک اہم تجارتی معاہدات میں کامیابی ملی۔ یہ سودا میری ابتدائی کامیابیوں میں ایک بڑی کامیابی تھی۔ اگراسے میں اپنی زندگی کااہم سودا شمار کروں توکچھ بے جانہ ہوگا۔ ان حصص کی موجودہ قیمت تقریباً8.6ارب ڈالر ہے۔
میں سفرمیں بھی جدیدترین مواصلاتی آلات سے ہم آہنگ ماہررفقائے کارکی پوری ٹیم ساتھ رکھتاہوں، جن کے تعاون سے میں ریاض اورریاض سے باہردنیاکے کسی بھی گوشے میں بیٹھ کرمسلسل اورمنظم طریقے سے کاروباری سرگرمیوں کو مانیٹر کرتا رہتاہوں۔ میں کاروبار کی بہتر مینجمنٹ کے نت نئے طریقوںکوبروئے کار لاتاہوں۔ انتظامی حوالے سے میں شرکۃ قابضۃ کی ذیلی کمپنیوں کے منتظمین کی آراء کو بھی پیشِ نظررکھتا ہوں۔ میرے ماہرین کی ایک جماعت دنیابھر سرمایہ کاری کے اہم مواقع پرنظررکھتی ہیں۔ یہ ماہرین آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے وقفے وقفے سے اپنی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں، جن کی روشنی میں آگے کوئی قدم اُٹھایا جاتا ہے۔ آج شرکۃ قابضۃدنیاکی کئی مشہورذرائع ابلاغ کی مالکانہ حقوق رکھتی ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں ٹائم نامی امریکی میگزین ، وارنر برادرز کا اسٹوڈیو، سی این این بھی شامل ہے۔
ہم نے مذکورہ امریکی ذرائع ابلاغ کے حصول پراکتفا نہیں کیا، بلکہ یورپین ذرائع ابلاغ میں بھی خطیرسرمایہ کاری کی۔ میڈیائی دنیاپرراج کرنے والے اٹلی کے وزیراعظم سیلفیوبر لسکونی اور آسٹریلین میڈیاکے بادشاہ رابرٹ مردوخ کے ساتھ مل کریورپی ابلاغی میدان میں اپنے پیرجمائے۔ اس وقت میرے نیوزکوب میں ایک ارب مالیت کے، میڈیا سکس (Media Six)میں نصف ارب ڈالرمالیت کے اورجرمنی کے کیرش میڈیا میں 100ملین ڈالرکے حصص ہیں۔ یہ جرمنی کا وہ خبری ذریعہ ہے جو جرمنی، آسٹریلیا اور یورپی ممالک کے اکثر میڈیائی ذرائع پر قابض ہے۔
میں سمجھتا ہوں ایک جرات منداورکاروباری خطرات سے کھیلنے والاتاجرہی کامیابیوں کوسمیٹتاہے۔ جہاں تک میری بات ہے تو موقع سے فائدہ اُٹھانامیری ہمیشہ کی پالیسی رہی ہے۔ میں مالیاتی بحران کے شکار کمپنیوں کی تلاش میں رہتاہوں۔ مناسب موقع پاتے ہی ان کمپنیوں کے حصص خریدلیتاہوں۔ میں اس جرات پسندی اورموقع سے فائدہ سے اُٹھانے کی سیاست کے نتیجے میں بڑے بڑے سودے کرنے میںکامیاب ہوا۔ تین عالمی کمپنیوں سٹی گروپ، اے او ایل اورPriceline.comکے حصص کی خریداری بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہے کہ جب مارکیٹ میں اِن کے حصص کے نرخ حیرت انگیز حدتک گرگئے توموقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں نے اِن کی حصص کوخریدلیا۔ میں اس حوالے سے پُرامیدتھا کہ یہ کمپنیاں کاروباری دنیامیں شہرت ا ور شناخت رکھتی ہے اوریہی چیز مستقبل میں اِن کمپنیوں کی کامیابی اورترقی کاسامان بن سکتی ہے۔یہی کچھ میں نے ’’ٹرافیل کمپنی آن لائن ‘‘کے ساتھ کیاکہ جب بازارِحصص میں اس کے فی شیئرکی قیمت دو ڈالر سے بھی کم ہوگئی تومیں نے کمپنی کے کل شیئرزمیں سے 5.4فیصد کے تناسب سے شیئرزخریدے۔

میرے اس وقت کئی عالمی معیار کے ہوٹلوں میں شیئرزہیں،ان ہوٹلوںمیں فورسینرنزورماؤنٹ (Vermont)، Movepick، جارج فائیو اور نیویارک کا پلازہ ہوٹل خاص طوپرقابل ِ ذکرہے۔ الحمدللہ میں فلاحی اورانسانی ہمدردی والے کاموں میں بھی حصہ لیتارہتاہوں۔میں نے نہ صرف حال میں شامی پناہ گزینوں کی امداد میں اپناحصہ ڈالا، بلکہ آڑے وقت میں اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے تعاون میںکوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیا۔ میں فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ والہانہ دلی وابستگی رکھتا ہوں۔ میںگزشتہ سالوں میں خود ایک دوبار فلسطین بھی گیاہوں۔ ماضی میں غزہ پراسرائیلی جارحیت کا شکاربننے والے فلسطینیوں کی امدادوبحالی کے لیے جب خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزنے امدادکی اپیل کی تواُن کی پکارپرلبیک کہتے ہوئے میں نے پانچ ملین ریال کاعطیہ دیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ اورمؤتمرالاسلامی نے جب شرق اردن میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادبحالی اوردنیاکے سب سے بڑی جیل غزہ کے بے کس فلسطینیوں کوایندھن اوراشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے امدادکی اپیل کی تومیں نے ساڑھے سات ملین ریال کاعطیہ دیا۔
علاوہ ازیں جدہ میں فلسطینی قونصل خانے کے قیام کے لیے 3.5ملین عطیہ کیے۔ 2005ء میں اس قونصل خانے کاافتتاح بھی کیا۔1998ء میں 19.2ملین ریال کی مالیت کاایک بوئنگ727طیارہ فلسطینی فضائی ائیرلائن کوبطورِہدیہ دیا۔2000ء میں غزہ جاکربھاری بھرکم مالیت کے متعددفلاحی منصوبوں کااعلان کیا۔شہر غزہ میں واقع تاریخی حیثیت کی حامل مسجدمسجدعمری کی ازسرنوتعمیروتزئین کے لیے 3.5ملین ریال کاچندہ دیا۔ فلسطین کے مزدورفنڈ کے لیے 20ملین کاگرانٹ پیش کیا۔ فلسطینی قوم کی سپورٹ کے لیے 9ملین ریا ل فراہم کیے۔ ایسے ہی 100ملین کی خطیررقم فلسطینی قوم کے لیے فنڈنگ کرنے والے سفیروں کوبھی دیے۔’’ فتا‘‘ ہسپتال کے منصوبے کی تکمیل کے لیے2.4ملین کی رقم چندے میں دی۔ اس ہسپتال میں چلنے پھرنے سے معذورافراد کے علاج معالجے کے ماہرین تیارکیے جاتے ہیں ۔
میری رفاہی سرگرمیاں صرف فلسطینی قوم تک محدودنہیں۔ مملکتِ سعودیہ دنیاکے گوشے گوشے میں رفاہی ادارے بنارہی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے خیراتی کاموں کے لیے مختص کیے ہوئے فنڈ مملکتِ سعودیہ کے قائم کردہ رفاہی اداروں کے ذریعے خرچ ہوں۔ 2006ء میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام عالمی غذائی پروگرام میں بھی میں نے40 ملین ڈالر امدادفراہم کی۔ مذکورہ خشک سالی کا شکار3لاکھ کینیائی باشندوں کے لیے چلاگیاتھا۔ اسی طرح قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کومالی امدادفراہم کی۔