عرب بینک الراجحی و دیگر کمپنیوں کے مالک معروف بزنس مین سلیمان راجحی کی گفتگو میری ولادت 1340ء کوبکیریہ شہرمیں ہوئی۔ یہ شہر قصیم کے مضافات میںہے۔ میرانسبی رشتہ نجدکے قبیلہ بنوزیدسے جاملتاہے۔ میرے والدروزگارکی تلاش میں بکیریہ سے ریاض منتقل ہوئے اوروہیں کے ہوکررہے۔ بدقسمتی سے میں دوسرے بھائیوں کی طرح تعلیم مکمل نہ کرسکا، کیونکہ سکول سے غیرحاضررہنامیراہمیشہ کامعمول تھا۔ اللہ نے میرے اندرکاروباری صلاحیتیں ودیعت کررکھی تھیں۔ تعلیم سے میرادل اچاٹ ہوا، لہذامڈل

تک جوکچھ سیکھ سکااسی پراکتفا کرتے ہوئے اپنی عملی زندگی کاآغازکردیا۔
میں نے کیروسین کی تجارت سے کاروبارشروع کیا۔اس وقت میری عمردس کے لگ بھگ تھی۔ اُس زمانے میں بجلی توہوتی نہیں تھی۔ لوگ کیروسین ہی کوبطورِ ایندھن استعمال کرتے تھے۔ بیرون ملک سے کیروسین کے بڑے بڑے کنستر آتے تھے۔ ہم یہ کنسترخریدکرچھوٹی چھوٹی بو تلوں میں ڈالتے، پھروہ بوتلیں فروخت کرتے۔ اس تجارت سے دودن میں ایک یاڈیڑھ قرش کانفع کمالیتا۔ جب بطورِایندھن کیروسین کااستعمال نہ رہا،توقلی کاپیشہ اختیارکیا۔اس زمانے میں جب ایک ریال تقریباً22قرش کاہوتاتھا، دن بھرکی محنت مزدوری کے بعدنصف قرش تھمادیاجاتا۔کچھ عرصے بعدحکومتی پراجیکٹ پرکام کرنے والی ایک کمپنی میں باورچی لگ گیا، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیرجاری نہ رہ سکا، کیونکہ جب کمپنی نے مجھے میرے دیگرشرکائے کارکے برابرتنخواہ دینے سے معذرت کرلی تومیں نے بھی اس کمپنی کوچھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔
اپناذاتی کاروبارشروع کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی سبزی کی دکان کھول لی۔ اس وقت میرے پاس تقریباً 400ریال کاسرمایہ تھا۔ پانچ سال تک منی چینجنگ کے پیشے سے بھی وابستہ رہا۔ لیکن صحیح معنوں میں میری قسمت اُس وقت جاگ اُٹھی، جب میرے بھائی صالح راجحی نے اپنے ساتھ مجھے ملازم رکھوایا۔ اس کمپنی سے مجھے 1000 ہزارریال کامشاہرہ ملتا تھا۔ میں ایک بات عموماًکہتارہتاہوں کہ انسان کادماغ ہی کمپیوٹرہے بشرطیکہ اس کووہ سنجیدہ سوچ وفکراورتخلیقی کاموں کے لیے استعمال کرے۔ ہرانسان کے سامنے کام کے بے شمارراستے کھلے ہوئے ہیں۔ بس اُن راستوں پرصرف انسان کے چلنے کی دیرہے۔ میں خوداسی منطق کواپناکر کامیابیوں سے ہمکنارہوا۔ باوجویکہ میں اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکا، مگراپنے کمپنی کے تجربہ کاراوربڑے بڑے اقتصادی ڈگریوں والے ملازمین کے تعاون سے انتظام وانصرام کوبحسن وخوبی نبھایا۔
میرے زیرِ انتظام بینک مصرف الراجحی جسے میں نے 1957ء میں قائم کیاتھا، دنیاکے بڑے اسلامی بینکوں میں شمارہوتاہے۔ اس بینک کاکل سرمایہ 124ارب سعودی ریال ہے جو33ارب امریکی ڈالربنتاہے۔ اس میں میراذاتی سرمایہ 15ارب سعودی ریال( 4ارب امریکی ڈالر)ہے ۔ اس بینک میں8ہزارملازمین کام کرتے ہیں۔
1978ء میں راجحی کے نام سے چلنے والی مختلف کمپنیوں کو’’شرکۃ الراجحی المصرفیۃ للتجارۃ‘‘ کے نام سے ایک چھتری تلے جمع کردیا۔ اس بینک نے جدید بینکنگ ضروریات اور شرعی اصولوں کے درمیان پائے جانے والے خلاکوپُرکرنے میں بنیادی اورمرکزی کرداراداکیا۔
بینک راجحی 500شاخوں پرمشتمل ایک وسیع نیٹ ورک رکھتاہے۔گاہکوں (کسٹمرز)کابھی ایک وسیع حلقہ ہے۔ مختلف شعبوں اورمیدانوں میں سرمایہ کاری کرتاہے۔ بینک اپنے ذرائع آمدن کووسعت دینے اور سرمایہ کاری بڑھانے سے ترقی کی شاہراہ پرمسلسل گامزن ہے۔ اسی طرح بینک راجحی اسلامی بینکوں کوجدیدخطوط پر استوار کرنے، اُن کے پروگراموں اورمنصوبوں کوجدیدسے جدیدتربنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ سال کے پہلی چارماہی میںبینک راجحی نے میگزین یورمونیاورایشین بینکرزسے کئی انعامات بھی وصول کیے۔ یہ انعامات توانائی، انفراسٹرکچر، مواصلات اوردیگرمتعدد ترقیاتی منصوبوں میں شرعی اصولوں کے مطابق بہترین سرمایہ کاری کرکے اپنے نام کیے۔اسی طرح بینک راجحی عرب دنیامیں بہترین تجارتی بینک ہونے پر شیخ سالم صباح پرائزسے بھی نوازے گئے۔ بینک نے اپنا نیٹ ورک وسیع کرتے ہوئے 2006ء میں ملائیشین مارکیٹ میں بھی قدم رکھا۔ ملائیشیامیں سرگرمیوں کاآغازجنوب مشرقی ایشیامیں سرگرمیوں کانقطۂ آغازثابت ہوا۔ بینک نے ملائیشیامیں اب تک 19برانچیںکھولی ہیں اورمستقبل میںیہ تعداد مزید بڑھانے کاارادہ ہے۔ سعودیہ میں بینک نے سماجی زندگی میں بھی اہم کرداراداکیاہے۔ حال میں بینک کاسعودی وزارت برائے سماجی امورکے ساتھ ایک معاہدہ بھی طے پایاہے جس کی روسے بینک راجحی بینکنگ کے حوالے سے نوجوانوں کے لیے مختلف تربیتی پروگرام متعارف کرائے گا۔
حفظانِ صحت کے میدان میں بھی بینک قابلِ قدرخدمات پیش کررہاہے۔ بینک نے 4ملین سعودی ریال سے شروع کردہ ایک منصوبے کے تحت نادارمریضوں کے علاج معالجے کے لیے مریض دوست فاؤنڈیشن کو600مشینیں اوردیگرطبی آلات عطیہ کیے۔ اسی طرح بینک نے مدینۃ ملک فھدالطبیۃکے ساتھ سالانہ پانچ لاکھ ریال کے حساب سے ایک معاہدہ کیاہے جس کے نتیجے میں بیرون ملک علاج معالجے کے لیے سفرکرنے والے تقریباً600 سومریضوں کوعلاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔بینک نے شوگرکے سبب بینائی ختم ہونے سے بچاؤکے لیے کئی پروگرام تشکیل دیے ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت احسا نامی علاقے میں منشیات کے خاتمے کے لیے مختلف ڈسپنسریوں کے قیام اوراُن کے تین سال کے اخراجات کے لیے4.5 ملین کی رقم بھی مختص کی ہے۔
بینک نے امیرسلمان کے رہائشی منصوبے کے لیے خرج اورمزاحمۃکے علاقوں میں تقریباً6ملین ریال سے20رہائشی یونٹوں کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا ہے۔
فلاحی کاموں کے میدان میں بینک را جحی کسی سے پیچھے نہیں، بینک نے وزارتِ سماجی امور کے اشتراک سے خاص یتیموں کے لیے سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا، تاکہ یتیموں کواپنا مال سرمایہ کاری میں لگانے اوراس سے نفع حاصل کرنے کاموقع مل سکے۔
نیشنل روبیان کمپنی میری قائم کردہ دیوہیکل کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ رواںسال کے آغازمیں جب دارالحکومت ریاض میں کمپنیوںکے مابین مسابقت (COMPETITON)کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد ہوا۔ اِس میں تیز رفتار ترقی کرنے والے 100مقامی کمپنیوں میں سے میری اس کمپنی کو 25ویں نمبر پر تیز رفتار ترقی کرنے والی کمپنی قراردیاگیا۔یہ اعزازملک بھرمیں پھیلے وسیع اقتصادی ذرائع سے استفادے کے لیے کمپنی کی مضبوط منصوبہ بندی اوردرست طریقہ کارسے ممکن ہوا۔کمپنی کے سرمایہ کاری کے ذرائع میں سے سمندروں کے پانی کوقابل استعمال بنانا، بنجرزمینوں کی آبادکاری ، ساحلی دیہی علاقوں کی ترقی اوروہاں کے نوجوانوں کوروزگارکے مواقع مہیاکرنا، ان علاقوں میں اقتصادی ترقی اورملکی پیداوارمیں ان علاقوں کے حصے کوبڑھانا وغیرہ شامل ہیں۔ روبیان کمپنی پیشہ وارانہ تجربات، تحقیقی مقالوں اوررپورٹوں کی روشنی میں زراعت کے صنعت کوجدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے میں بھی اپنی ایک منفردتاریخ رکھتاہے۔
’’الشرکۃ الوطنیۃ للدواجن وانتاج البیض‘‘ نامی میرا پولٹری فارم جوریاض سے350کلومیٹرکی مسافت پرقصیم کے علاقے میں واقع ہے، نہ صرف مشرق وسطی میں اپنی نوع کاایک بڑا منصوبہ ہے،بلکہ مرغیوں اورغذائی مواد کی فراہمی کے حوالے سے دنیاکاایک بڑا منصوبہ شمارہوتاہے۔ یہ منصوبہ تقریباً200مربع کلو میٹر کے وسیع رقبے پرپھیلاہواہے۔’’الشرکۃ الوطنیۃ للدواجن وانتاج البیض‘‘خلیج اورمشرقِ وسطی کی پہلی وہ کمپنی ہے جو مذکورہ عالمی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
میں اپنی ذمہ داریوں کے بھاری بھرکم بوجھ کے باوجودرفاہی کاموں کی انجام دہی کواپنے لیے سرمایۂ سعادت اوروطن کی قدردانی سمجھتاہوں۔ میرے رفاہی اقدامات میں سے جامعہ بکیریہ کا منصوبہ بھی ہے، جس کے لیے شاہی اجازت نامہ ملنے کے بعد50کروڑ ریال پہلی قسط کے طور پرفراہم کردیے گئے۔اس یونیورسٹی کے قیام سے میرامقصدمادی منفعت کاحصول نہیں، بلکہ فرزندانِ وطن کی خدمت کرناہے۔جمعیۃ خیریۃ کی طرف سے آنے والے طلبہ کوبالکل مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جائے گی۔کم آمدن والے طلبہ کے لیے فیس بھی اُن کے حسبِ استطاعت ہو گی، تاکہ اعلی تعلیم کاحصول سب کے لیے آسان ہو۔ میری ہرممکن کوشش ہے کہ یہ یونیورسٹی جدیدترین اوربین الاقوامی معیارکی یونیورسٹی ہو۔ تدریس کے لیے دنیاکے بہترین تدریسی عملے کی خدمات لی جائیں گی۔ ان شاء اللہ! یہ مستقبل کی ایک ایسی عالی شان یونیورسٹی ہوگی، جس کی تعریف سے ہرعام وخاص رطب اللسان ہوگا۔ یہ یونیورسٹی نوجوانان وطن کے تعلیمی معیار کو بلندسطح تک لے جائے گی۔میرافلاحی ادارہ ’’مؤسسۃ سلیمان بن عبدالعزیزالراجحی الخیریۃ‘‘ رفاہی میدان میں اہم کرداراداکررہا ہے۔ صرف ریاض میں قائم الجمعیۃ الخیریۃ لتحفیظ القرآن کوپانچ ملین ریال کاعطیہ دیا۔ملک کے دیگرعلاقوں میں قائم تحفیظ قرآن کے مکاتب کوتقریباً17ملین ڈالرکے لگ بھگ کاچندہ دیا۔ جمعیۃ کی کوشش ہے کہ قرآن کریم کویادکرنے، سیکھنے اوراوراُس پرعمل کے حوالے سے امت کے نوخیز بچوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ہو۔
میری لائبریری ’’مکتبۃ سلیمان الرجحی الخیریہ‘‘ ثقافتی میدان میں اہم کردار اداکررہی ہے۔ قصیم کی سطح پریہ سب سے بڑی لائبریری شمار ہوتی ہے۔اپنی اعلی خدمات کی بناپراس لائبریری کا ایک منفردمقام ہے۔ اس لائبریری کے زائرین میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔حتیٰ کہ بسااوقات یومیہ زائرین کی تعداد سوتک بھی پہنچ جاتی ہے جوعلاقے کی دیگرلائبریریوں کی بنسبت ایک بڑی تعدادہے۔ دیگرلائبریریوں کے زائرین کی تعداد توایک ہاتھ کی انگلیوں پرگنی جاسکتی ہے۔جن حضرات نے لائبریری کے اندربیٹھ کرماسٹراورڈاکٹریٹ کے مقالے مکمل کیے اُن کی تعدادتقریباً300سو ہے۔ تحقیقی مقالے لکھنے والوں کے اس لائبریری کی طرف رجحان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اُن کے لیے خصوصی کمرے بنائے گئے ہیں۔ ہرکمرہ تقریباًپانچ کیبنوں پرمشتمل ہے، جس میں مقالہ نگار بیٹھ کر بڑی یکسوئی اورفراغ خاطرکے ساتھ لکھ پڑھ سکتاہے۔