شریعہ اینڈ بزنس:

 کیا یہ درست ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہر قسم کے کاروبار کو dominate کیا ہوا ہے اور سارے شعبوں میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آ رہی ہیں؟
ڈاکٹر شاہد قریشی:
ان کی صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنی صرف اس جگہ جائے گی جہاں پرسٹینڈرڈ پروڈکٹ ہوں، جیسے: صابن اور کھاد وغیرہ

     جن کو ہم commody products کہتے ہیں، لیکن یہاں جدت اور نئی وارئٹی ہوتی ہے۔ اس جگہ عام طور پر یہ لوگ بہت کم جاتے ہیں۔ جدت ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جدت والی چیزیں پوری دنیا میں چھوٹی کمپنیاں بناتی ہیں۔ ہمارے ہاں کے چھوٹے اداروں اورکمپنیوںکے لیے جدت والی چیزیں بنانا آسان ہے، لیکن جو بڑی بڑی کمپنیاں ہوتی ہیں، ان کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ان چیزوں کو نہیں کر پاتے۔ جیسے ایک بڑے جانور، مثلا: بیل کے لیے فوری مڑنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کی باڈی اور اس کا وزن ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔


٭…IT کے بزنس کے لیے 7،8 کمروں سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے، مگر اس کا منافع لاکھوں میں ہو گا ٭…Entrepreneurshipمیںآدمی ہر وقت سیکھتا ہے، اس کی skills میں اضافہ ہوتا ہے ٭…انٹرپرینور شپ تعاون اور عاجزی کے اصول پر ہی چل سکتی ہے ٭

  ایک وجہ یہ بھی ہے انہوں نے عملہ ایم بی اے اور منیجرز وغیرہ کا رکھا ہوا ہے، وہ ان کی جدت اور flexibility کے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں۔ یہ Nestle وغیرہ کمپنیاں وہی چیزیں چلا رہی ہیں، جو پہلے چلا رہی تھیں۔ ان کے منیجرز بھی اس طرح کی نوکری کے لیے suitable ہیں۔جو ایم بی اے پیدا ہو رہے ہیں ، ان کا ایک مخصوص خول ہے جس سے وہ باہر نہیں جاتے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
پاکستان میں انٹرپرینور شپ کے کیا مواقع ہیں؟
ڈاکٹر شاہد قریشی:
      ’’مائیکرو انٹرپرینور شپ‘‘ ہر گھر میں شروع ہو سکتی ہے۔ یعنی انسان ہر اس ایریا میں کام کر سکتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے اور اس میں اس کے لیے آسانی ہے۔ امریکا میں یہ مہم چلائی گئی کہ ہر آدمی دو مرغیاں پالے۔ اب پاکستان میں 70 فیصد دیہاتی علاقہ ہے اور ہر آدمی کو اگر ٹریننگ دے دی جائے بلکہ امریکا وغیرہ میں شہریوں کو بھی دو مرغیاں پالنے کا کہا گیا ہے۔ جس گھر میں چار، پانچ افراد ہیں۔ ہر فرد دو دو مرغیاں رکھے تو دس مرغیاں ہو جائیں، انڈے اور گوشت اپنے گھر کا ہو جائے گا۔ اس سے تھوڑی بہت آمدنی بھی ہو گی جس سے خرچہ نکل آئے گا۔ اسی طرح ہمارے دیہاتوں میں بکریاں رکھی جا سکتی ہیں۔ عوام الناس کو تھوڑی ٹریننگ دے دی جائے۔ یہ باتیں بتا اور سکھا دی جائیںتو انہیں بآسانی اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ بہت سارے چھوٹے چھوٹے بزنس ہیں جن کو ہم اپنے گھروں اور کھیتوں میں چلا سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو اس سے متعلق سکھا اور کوالٹی کے بارے میں بتا دیا جائے کہ اپنی پروڈکٹ میں یہ خوبیاں لے آئیں تو اچھا گوشت کسے نہیں چاہیے، اچھے انڈے کس کی ضرورت نہیں ہیں۔ چارپائی کا بان ہوتا ہے، اچھی کوالٹی کا کس کو نہیں چاہیے۔ بس! لوگوں میں شعور نہیں پایا جاتا، اس وجہ سے وہ اچھی کوالٹی کے چکر میں نہیں پڑتے۔ growth کرنے کی awareness ان کو نہیں ہوتی۔ پاکستان میں یہ صورت Entreprenuership کی بہت کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگر علمائے کرام بھی کوشش کریں تو یہ سب کام سستے داموں میں ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے چھوٹا سا فارم بنا کر اس طرح کے اور کام چھوٹے ایریے میں کیے جا سکتے ہیں۔
اس میں ایک اہم ایریا انٹرنیٹ کا ہے۔ انٹرنیٹ کو استعمال کر کے کاروبار کیا جا سکتا ہے۔ میں امریکا میں گیا وہاں ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ اندر سے بہت خوبصورت لہجے میں قرآن مجید کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے کہا کہ آپ کے بچے بہت اچھے انداز میں قرآن پڑھ رہے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ لاہور کے ایک قاری صاحب Skype کے ذریعے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں۔ ہر ماہ کے تیسں ڈالر دیتے ہیں۔ یہ بزنس اپارچونٹی بھی ہے اور دین کی ترویج و اشاعت بھی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کو مسائل سکھائے جا رہے ہیں اور دعائیں یاد کروائی جا رہی ہیں۔ اس طرح کی بے شمار بزنس اپرچونٹی ہیں، جو آئی ٹی کی وجہ سے سامنے آ رہی ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹرز ہیں۔ ہمارے ایگری کلچر سیکٹرز ہیں۔ اس میں ملٹی نیشنل کمپنیاں کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ ہر بندے کے اندر جو صلاحیت اور ability ہے وہ اس کو لے کر نکلے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
Business startup کے حوالے سے بہت کام ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے تجربات کیے جاتے ہیں، وہ دنوں میں ترقی کر جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں اس کا کوئی رجحان نہیں ہے؟
ڈاکٹر شاہد قریشی:
   ہم وہاں بھی دیکھتے ہیں تو دس میں سے کوئی ایک کامیاب ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ کامیابی کیا ہے؟ Entrepreneurshipمیں ہر وقت بندہ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کی skills میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر ایک محنت کر رہا ہے دس میں سے ایک تو کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن مسلسل محنت کرتے ہوئے وہ کئی گُر اور طریقے سیکھ جاتا ہے اور سوسائٹی بھی ان کو Support کرنے لگ جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسی کو گرانٹ مل گئی، اسکالر شپ مل گیا تو یہ ڈوبنے سے بچ جاتا ہے۔ اس کو ایکوسسٹم کہتے ہیں۔ ماحول ان کی حوصلہ افزائی کر تا ہے۔ اس میں میڈیا، یونیورسٹیاں، لٹریچر اور سوسائٹی وغیرہ بھی ان کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو صاحب استطاعت ہوں وہ کچھ پیسہ ان نوجوانوں میں لگا دیتے ہیں اور اس کا نفع لیتے ہیں۔
20،25 لوگ مل کر اچھے آئیڈیاز پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں اس طرف متوجہ ہوتی ہیں وہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرتی ہیں بدلے میں بھاری نفع لیتی ہیں۔ اہم بات وہاں کی یونیورسٹیوں میں ریسرچ اچھی کوالٹی کی ہوتی ہے وہ ریسرچ کو کمرشلائز کر دیتے ہیں یہ وہ وجوہات ہیں کہ وہاں بہت ترقی ہے۔ پاکستان میں بھی اس کی شروعات ہو چکی ہیں۔ IBA بھی اس پر کام کر رہا ہے۔ اس کی مثال ہمارے بچوں نے گھر میں پرندے پالے ہوتے ہیں، طوطے، چڑیاں وغیرہ۔ پچاس ساٹھ ہزار، لاکھ تک ان کی بچت چلی جاتی ہے۔ یہ آپ بھی کر سکتے ہیں بس گھر میں چار پنجرے رکھنے ہیں۔ یہ تو ایک آئیڈیا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار آئیڈیاز ہیں۔
ایک اور ایریا ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن کا ہے۔ اس کے لیے Skills چاہییں۔ دیکھیں پرندوں کا بزنس کر کے آپ عام طور پر کروڑوں میں نہیں جا سکتے ہیں، اس میں آپ فارم بنائیں تو جا بھی سکتے ہیں، وسائل کا زیادہ استعمال کرنا ہو گا، جبکہ IT کے بزنس میں 7،8 کمروں میں بزنس لانچ کریں،آپ نے اس میں کارخانہ نہیں لگانا، مگر یہ ٹیکنالوجی کا کام آپ کو آتا ہے تو آپ کر پاتے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
   تاجروں کے احوال جان کر معلوم ہوا کہ چھوٹی سطح کے تاجر، دکان دار طبقہ وہ ایک خاص حد سے آگے ترقی نہیں کر پاتے، اپنے کاروبار کو کمپنی کی شکل نہیں دے پاتے، اس میں بزنس ایجوکشن کانہ ہونا بھی ایک وجہ ہے۔ 90 فیصد بزنس اسی طرح رہتا ہے، بہت کم یہ سوچ ہے کہ اس کو کمپنی کی شکل دیں اور آگے جائیں، تو کیا Entrepreneurship میں اس کی بھی کچھ گنجائش ہے؟
ڈاکٹر شاہد قریشی:
  Entrepreneurship کا مطلب ہی grow کرنا ہے۔ Entrepreneurship کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ بزنس کو بڑھاتے رہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو بھی گورا ہے یا غیر مسلم، وہ حیران کُن طور پر ان آفاقی اصولوں کے قریب رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کائنات کا کوئی خدا ہے، ان میں ایک عاجزی کی کیفیت رہتی ہے، ہندو بھی نہ چاہتے ہوئے اور نہ کہتے ہوئے بھی وہ خدا کے قریب ہوتے ہیں۔ ممکن ہے جو صحیح تعریف اللہ تعالی کی ہے، اس کو نہ سمجھتے ہوئے بھی وہ اس کو ایک سپر پاور کے طور پر لیتے ہیں، کیونکہ بزنس میں اتنی غیر یقینی اورسمجھ نہ آنے والی صورتیں واقع ہوتی رہتی ہیں کہ جو آدمی گذرا ہوتا ہے، اسے پتہ ہوتا ہے کہ کچھ عجیب کام ہوا ہے۔ میں یہ کرنا چاہ رہا تھا، ہو کچھ اور گیا ہے۔ میری توقع سے بہتر اور زیادہ بھی ہوگیا ہے۔ ایک اصول یہ ہے۔
دوسرا تعاون کا اصول ہے۔ تیسرا سوسائٹی کو واپس کر نا یعنی خدمت کا اصول ہے۔ یہ چند اصول ہیں۔ جب ہم پڑھاتے ہیں میں تو دیکھتے ہیں کہ جتنے بھی کامیاب Entrepreneurs ہیں وہ ان اصولوں پر چلتے ہیں۔ عاجزی کا اصول، خدا سے بندگی یا مانگنے کا اصول، تعاون کا اصول اور خدمت کا اصول۔ جن میں یہ چیزیں ہوتی ہیں، ان میں ڈر اور خوف کم ہو جاتا ہے۔ تعاون کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے کام میں حصہ دار بنانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ جب حصہ دار بناتے ہیں تو آدمی کا بزنس grow کرنا شروع ہوتا ہے۔ اکیلا اکیلا ہی ہوتا ہے۔جب دو چار پارٹنرز بنتے ہیں، وہ اتنے سمجھ دار اور سنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ دیکھا گیا ہے بڑی لڑائیاں اور جھگڑے کم ہوتے ہیں۔ اس طرح بڑھوتری اور ترقی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
(جاری ہے)