شریعہ اینڈ بزنس:
آپ نے اس پر لٹریچر کا بھی بہت مطالعہ کیا ہے ،دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفتوں کو بھی آپ نے دیکھا ہے ، اس حوالے سے ایسے لوگوں کی چند مثالیں، جنہوں نے اسی طرح کام شروع کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بے مثال ترقی دی ہو، جو حیران کُن ہو؟


ڈاکٹر شاہد قریشی:
کافی ساری مثالیں ہیں۔ انڈیا میں بھی، پاکستان میں بھی۔ پاکستان میں خالد اعوان صاحب ہیں TCS کے بانی، PIA انجینئر تھے جب Job ختم ہونے لگی تو انہیں خیال آیا کہ کوریئر کمپنی کھولتے ہیں۔ کورئیر کمپنی کھولنے کے لیے کروڑوں ڈالرز چاہییں، جہاز چاہیے، ان کے پاس یہ وسائل نہ تھے۔ وہ ایک بڑی کمپنی DHL کے پاس گئے۔ ان سے بات کی۔ وہ انہیں اپنا نمائندہ بنانے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے ڈیڑھ دو سال وہاں پر کام سیکھا، جان کھپائی اور انتہائی تواضع اختیار کرتے ہوئے کام کیا۔ وہ اپنے آپ کو ان کا خادم اور نوکر کہتے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ان کی کمپنی نے ترقی کی۔ انٹرپرینور شپ والے عام طور پر بینک کے پاس رقم لینے جاتے ہی نہیں، چاہے امریکی ہوں یا یہودی۔ وجہ اس کی یہ ہے جو آدمی بینک کے پاس جاتا ہے وہ اپنی آزادی سے ہاتھ دھونے جاتا ہے۔ انٹرپرینور شپ کا اصول تو یہ ہے کہ آپ باغی آدمی ہیں، آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ بینک کے پاس گئے تو پیسے ملنے کا مطلب آپ غلام بن گئے، جو پیسے وہ دیں گے ،اس پیسے کو خرچ ان کی مرضی سے کرنا پڑتا ہے۔ جب آپ کوکوئی بھی پوچھنے والا ہو گا، آپ کی آزادی کم ہو جائے گی۔ جب آزادی کم ہو تو آپ مرضی سے فیصلے نہیں کر پاتے۔ پیسے واپس ادا کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔ یہ تو گھٹن کی فضا ہے۔ یہی اسباب ہیں جن کی وجہ سے خالد اعوان صاحب نے بینک سے قرض نہیں لیا۔ انہوں نے اس کی ایک اور شکل نکالی،جس نے اپنے لیے راہ ہموار کر لی۔ خدمت کا اصول، اپنے کارکنوں ، اپنے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کی خدمت پھر اپنے معاشرے کی خدمت کا اصول اپنایا، جس نے انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ اس طر ح کامیاب رہے۔ یہ ایک کہانی ہے، اس کے علاوہ بھی بے شمار کہانیاں ہیں۔


٭…بینک سے قرض لینے کا مطلب ہے آپ غلام بن گئے، خرچ انہی کی مرضی سے کرنا پڑتا ہے ٭…انٹرپرینور شپ کے ذریعے جھاڑو دینے والی ماسی ایک ارب روپے کی کمپنی کی مالک بن گئی ٭… اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارا مقصود بن جائے، پھر کامیابی ناکامی کے پیمانے بدل جائیں


انڈیا میں انیتا صاحبہ ہیں۔ انہوں نے ایم اے کیا ہوا تھا۔ شادی کے بعدکسی وجہ سے طلاق ہو گئی۔ اس کی ایک بچی ہے اور ان کی والدہ بیمار ہوگئیں۔ Hotel Manegment کا ڈپلومہ کیا ہوا۔ ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ 18 ہزار روپے ان کو تنخواہ ملتی تھی۔ والدہ کی بیماری کی وجہ سے ان کے پا س پیسے کم پڑ گئے۔ یہ اپنے ایک جاننے والے کو ملنے جاتی ہیں ، تاکہ اس سے کوئی مدد لے۔ وہ دفتر میں مصروف ہیں۔یہ باہر بیٹھی ان کا انتظار کرنے لگی۔ اتنے میں وہاں کا جو منیجر ہے، وہ اپنے صفائی کرنے والے سے جھگڑ رہا ہے۔ صفائی کرنے والے کو کہتا ہے تجھے کام کی فکر نہیں، ہمیشہ دیر سے آتے ہو۔ دس، گیارہ بج گئے ہیں، ابھی تک صفائی نہیں ہوئی۔ وہ بہانے بنا رہا ہے، سر! بارش ہو گئی تھی، وغیرہ۔ بار بار ملاقاتوں میں دو تین مرتبہ وہ یہ صورت حال دیکھتی ہیں۔ ایک دن ہمت پکڑ کر کہتی ہیں کہ سر! یہ صفائی کا کام آپ مجھے دے دیں۔ وہ کہتا ہے، ٹھیک ہے۔ وہ جاتی ہے فینائل، بکٹ خریدتی ہیں۔ ایک ہفتہ تک فلور کی صفائی کرتی ہیں۔ پھر ایک صفائی کرنے والارکھ لیتی ہیں۔ آہستہ آہستہ کمپنی بنا لیتی ہیں، پھر پورے فلور کا ٹھیکہ لے لیتی ہے۔ اپنے کا م میں کوالٹی پیدا کرتی ہیں۔جو بھی ان کی صفائی اور سروس دیکھتا وہ ان کی طرف کھنچا چلا آتا۔

نیچے کے فلور والے کہتے ہیں کہ یہ بہترین عملہ ہے، ہمیں بھی انہی سے کام لینا چاہیے۔ رفتہ رفتہ دس بارہ منزلہ پوری بلڈنگ کا ٹھیکہ مل گیا40، 50 ملازم رکھ لیے۔ بڑے اچھے طریقے سے کام کرواتیں۔ اشتہار کے بجائے آپ کا کام آپ کا تعارف بن جاتا ہے۔ ان کے کام کی کوالٹی کی وجہ سے برابر والی بلڈنگ کا ٹھیکہ مل جاتا۔ اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی بلڈنگ۔کام روز بروز بڑھتا گیا۔20 ہزار ملازم، اربوں روپے کی کمپنی، بلڈنگ کی صفائی ، اس کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ کا ٹھیکہ، سیکورٹی کا ٹھیکہ، مختلف سروسز اس کی کمپنی فراہم کر رہی ہے۔ وہ عورت اور بیوہ ہو کر اپنے کام سے عشق اور لگن کے جذبے سے چلی، اس کی ٹیم میں تعاون کا عُنصر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں وہ تمام خوبیاں ہیں، جو ملازمین چاہتے ہیں۔ لوگ اس کی کمپنی سے جانا نہیں چاہتے، زیادہ کی آفر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں جو عزت و احترام یہاں ملتا ہے وہ کہیں نہیں ملے گا۔ یہاں جو 50ہزار مل رہا ہے، وہاں کے 60سے بہتر ہے۔ 10 ہزار کے لیے ہم یہ عزت نہیں چھوڑ سکتے۔

ایک ارب روپے کی کمپنی بن گئی ہے۔ اب دیکھیے! اس میںترقی کس طرح ہوئی۔ اچھے لوگوں کو ٹیم میں لے کر آئی، اچھے لوگوں کو اپنا پارٹنر بھی بنا یا۔ دراصل یہاں پر پارٹنرشپ میں حوصلہ چاہیے۔ ایسے لوگوں کو پارٹنر بنانا چاہیے، جن سے آپ کی طبیعت ملتی ہو، مختلف مہارتیں اور skills رکھتے ہوں۔ آپ انجیئنرنگ میں ہیں، وہ مارکیٹنگ میں۔ اس میں ترقی کے زیادہ مواقع ہیں۔

اللہ تعالی نے ہر ایک کی طبیعت مختلف بنائی ہے۔ ضرو ری نہیں کہ آپ کسی کو اپنا زبردستی پارٹنر بنائیں۔ وہ جیسے ہیں، ویسے رہیں گے، لیکن جب grow کرنا ہے تو جدّت لانی ہو گی۔ پارٹنر شپ کے لیے وہ اچھی اپر چونیٹی ملتی ہے جس میں کوئی آدمی اور چیز لے کر آ رہا ہے اور آپ ایک چیز کے ماہر ہیں۔ دوسرے کی مہارت آپ کی مہارت کے ساتھ شامل ہو گی، بزنس کی ایک اور مارکیٹ میں ہم جا سکیں گے۔ یہ خوبیاں ہیں، یہ آدمی کو حوصلہ دیتی ہیں۔ اس کے اندر سے ڈر اور خوف کم ہو جاتا ہے۔ وہ حوصلے کی بنیاد پر آگے بڑھنے لگتا ہے۔

اس میں ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہمارا ایک اصول bird in the hand is worth two in the bush یعنی ’’ نو نقد نہ تیرہ ادھار‘‘ ہے، جو آپ کے پاس ہے اس کو بہتر بناؤ۔ جو آپ کے پاس نہیں، اس پر خوامخواہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ چھوٹے کاروباری سوچتے ہیں۔ یہ دوسری دکان مل گئی تو کاروبار بڑھائیں گے۔ ’’نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی‘‘ ان کا فوکس دوسروں پر ہوتا ہے۔ وہ توقعات کے سہارے یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کہیں سے کچھ ہو گا۔ اسی امید پر وہ زندگی گزار دیتے ہیں۔

جو Entrepreneur ہوتے ہیں وہ اپنی چیزیں، اپنے جیب کے پیسے دیکھ کر، creativity استعمال کر کے اس کو بڑا کرنے کی فکر کرتے ہیں، اس کو کیسے استعمال کیا جائے، دوکان کوکیسے بڑھائیں۔ انکل ہیں، خالو ہیں اسے شامل کر لیں، خالو کے دوست منڈی میں ہیں، اس سے مجھے شاید سستی چیز مل جائے۔ جو بوجھ اور مشکل ہے اس کو تخلیقی صلاحیت استعمال کر کے کم کرتے ہیں۔ جو ایسے نہیں ہوتے، وہ اس امید میں ہوتے ہیں کہ کہیں سے بینک ملے گا، انکل سعودی عرب سے آتے ہیں وہ اگر ایک لاکھ دے دیں تو ابھی کام شروع کر دوں گا، یا بینک سے قرضہ لے لوں گا۔

دوسرا اصول affordable loss ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا نقصان میں برداشت کر سکتا ہوں اتنے کا Experiment کروں مثلاً آپ کے پاس ایک لاکھ روپے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ ہزار روپیہ اگر ضائع بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑے گا۔ وہ جو رقم ہے وہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ میرا قابل برداشت نقصان کتنا ہے؟ اس کو لے کر آپ تجربہ کرتے ہیں، تھوڑا لے کر، چھوٹے پیمانے پر کرتے ہوئے، تھوڑے چاول، تھوڑا اناج۔ آدمی انتظار کرتا ہے کہ جب 50 ہزار ہوں گے، پھر میں بڑا کام کروں گا۔ تھوڑا لے کر چھوٹے پیمانے پر کر لو، اس کے نتیجے میں جو غلطیاں ہوں گی وہ قابل تلافی ہوں گے، اگر گرے گا، چوٹ لگے گی بھی تو تھوڑی لگے گی۔ یہ آپ کا قابل برداشت نقصان ہو گا۔

تیسرا اصول Lemonade Principle ہے کہ جب قدرت آپ کو سرپرائز دے یعنی آپ نے کام کیا تھا۔ آپ نے کہا آج سبزی لا کر فروخت کریں گے، وہاں پر سبزی خریدی ہی نہیں گئی۔اب جو بھی آیاپھل لایا۔ بجائے اس کے کہ آپ پریشان ہوں آپ کو آگے بڑھنا چاہیے۔ محاورہ ہے کہ قدرت آپ کو لیموں دے تو آپ کو چاہیے کچھ اور کر لیں۔ آپ اس سے اسکنجبین بنا لیں۔ اسے اسلام کی نظر سے دیکھتے ہیں، جب کام شروع کر لیا اب اگر مشکل پیش آتی ہے تو پریشان ہونے کے بجائے اسے دوسرے طریقے سے کر لیں۔ یہ تین چار دیسی اصول ہیں، ان میں کوئی سائنس اور فلسفہ نہیںہے، لیکن عام طور پر لوگ اس کو سمجھتے نہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:
تاجروں کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں۔

ڈاکٹر شاہد قریشی:
موجودہ بزنس ماڈل ہیں، ان میں ایک کمی ہے۔ ان کی بنیاد میں گڑ بڑ ہے۔ Entrepreneurship کا ماڈل ان سے بہتر ہے، لیکن یہ بھی نامکمل ہے۔ وہ پیسے کے ذریعے خوشی حاصل کرنے کو مقصد سمجھتے ہیں ، یہ Creativity کو سمجھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارا مقصود بن جائے، کامیابی ناکامی کے پیمانے بدل جائیں گے۔ بقول حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ؎

قدم ہیں راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عینِ منزل ہے تھکن سے چور ہو جانا

ہمارے کاروباری حضرات اور Entrepreneurship کے جو اسٹوڈنٹ ہیں یا اپنے آپ کو بھی ہم یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ کامیابی یا ناکامی کا نتیجہ صرف پیسے کمانے سے حاصل نہیں ہو گا، اس کے لیے اور بہت سی چیزوں کو دیکھنا ہو گا۔ ہمارے شیخ ہاشم صاحب کہتے ہیں کہ پیسہ کاروبار کی ضرورت ہے مقصد نہیں۔

ہم ان چند آفاقی اصولوں کو اپنے اندر لے آئیں، مقصد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بندگی اور اسے راضی کرنا ہو، عاجزی، تعاون اور خدمت کا اصول، ان تینوں پر عمل پیرا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے کیک کو بڑا بناؤ تو آپ کا حصہ خود بخود بڑا ہو جائے گا۔ یہ چار، پانچ اصول ہیں جنہیں ہم کامیاب لوگوں میں دیکھ رہے ہیں۔ جو ان پر عمل کرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کے کام میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ اصول ہم اپنے بچوں کو LUMS, IBA میں پڑھا سکیں۔ باقی تو ٹیکنیکس ہیں۔ ٹیکنیک کی بنیاد اس پر ہوتی ہے کہ استعمال کرنے والا صحیح ہو۔ اگر وہ ٹھیک نہیں ہے ٹیکنیک بھی صحیح نہیں ہو پاتی۔اگر اس پیغام کو قبول کرلیا جاتا ہے تو ہم ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔