محترم جناب ثاقب سلیم صاحب جوڑیا بازار کے معروف اور سنجیدہ تاجر ہیں۔ تجارت ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ بنیادی طور پر پلاسٹک دانے کی مختلف اقسام اور ریفریجریٹر کے پارٹس دنیا کے مختلف ممالک سے امپورٹ کرتے ہیں۔ تجارتی نقطئہ نظر سے ان کی  علومات بڑی متاثر کن ہیں۔علاقائی اور بیرونی تجارتی رسائل پر ان کی بڑی گہری نظر ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف ایک تاجر ہی نہیں، بہترین تجارتی تجزیہ نگار بھی ہیں۔

مختلف بازاروں کی قیمتوں کے اتار چڑھائو، عالمی منڈیوں کی رسد اور طلب کی پوزیشن، نئے تجارتی مواقع وغیرہ پر ان کے تجزیے بے لاگ اور بڑی حد تک درست ہوتے ہیں۔ ثاقب صاحب کی تجارت کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کی تجارت سود کی آمیزش سے بالکل پاک ہے۔ وہ تمام تجارت اپنے کیپیٹل سے پر کرتے ہیں۔ ہم ان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے نہ صرف ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا بلکہ انتہائی مفید معلومات بھی فراہم کیں۔

 شریعہ اینڈ بزنس: 

اپنے کاروبار کے آغاز کے بارے میں بتائیے گا؟
ثاقب سلیم:
 عبدالغفور اینڈ کمپنی میرے والد صاحب نے بنائی تھی۔ انہی کی بنائی ہوئی کمپنی کو میں نے آگے بڑھایا ہے۔ اب ہم پاکستان کے باہر سے مال درآمد کرتے ہیںاور یہ مال پاکستان بھر میں سپلائی کرتے ہیں۔ ہمارے گاہک پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم مختلف خام مال منگواتے ہیں جو کنٹینروں کے ذریعے آتا ہے اور اسے ہم اپنے گاہکوں کو سپلائی کرتے ہیں۔


باہر کی کمپنیاں جب ہمارے ہاں آتی ہیں تو وہ بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ باہر کی کمپنیاں صرف اور صرف اس وجہ سے ہائر کی جاتی ہیں کہ وہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ نہیں کرتیں۔ وہ ٹھیکہ لے کر ہمارے ہی ملک کے مزدور اور مستری بھرتی کرتی ہیں۔ دراصل ہمارے ہاں کرپشن نے سارا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس: 

آپ سامان کہاں سے منگواتے ہیں؟
ثاقب سلیم:
 مختلف ممالک سے ہم چیزیں درآمد کرتے ہیں۔ ان ممالک میں امریکا، برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک ہیں۔ ہم خام مال منگواتے ہیں۔ پلاسٹک کا دانہ وغیرہ منگواتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:
 پاکستان کے قریبی ممالک سے کیوں درآمد نہیں کرتے؟
ثاقب سلیم:
 پولیسٹر پاکستان میں نہیں بنتا۔ پاکستان میں بنتا ضرور ہے مگر اتنا نہیں کہ تمام ملکی ضروریات کو پورا کرسکے۔ اسی طرح پلاسٹک بھی پاکستان میں زیادہ نہیں بنتا۔ اسی طرح کاٹن پاکستان میں بہت زیادہ ہے مگر اس کی اسپیشل برانڈ یہاں نہیں ہوتی۔ اسی طرح ہمارے ہاں امریکی کاٹن، مصری کاٹن کی مانگ ہوتی ہے۔ آج کل انڈیا کی کاٹن بھی آرہی ہے۔ انڈیا والوں نے اپنی کاٹن کو بہت بہتر بنایا ہے۔ یہ تما م چیزیں ہمیں درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ انڈیا سے دھاگہ آرہا ہے۔ اسی طرح ہزاروں کیمیکل ہیں جو ہمارے ملک میں نہیں پائے جاتے۔بہت سے کیمیکلز ہمارے ہاں بن ہی نہیں سکتے۔ کچھ بن سکتے ہیں تو ان کے ساتھ ہماری داخلی مسائل چمٹے ہوئے ہیں۔ حکومت، بیوروکریسی ، رشوت اور انتظامی بے شمار مسائل کی وجہ سے یہ تمام کیمیکلز نہیں بن پاتے۔ ان تمام کیمیکلز کو  باہر سے منگوایا جاتا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس: 
 امریکا اور یورپ کے بجائے آپ ایشیا کے ممالک سے ایسی تجارت کیوں نہیں کرتے؟
ثاقب سلیم:
اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ امریکا ہو یا برطانیہ یہ اپنی کوالٹی اور معیار کو برقرار رکھتے ہیں۔ وہ چیز کے معیار میں کبھی گڑ بڑ نہیں کرتے۔ ان ممالک سے ہزاروں آئٹم منگوالیں، ہزاروں بار منگوالیں، مگر کبھی بھی آپ کو ان کے معیار کے بارے میں شکایت نہیں ہوگی۔ اگر کبھی بھی ہمیں ناقص مال ملتا ہے تو ہم اسے ایک ای میل کردیں تو وہ نہ صرف فوری طور پر مال واپس لے لیتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معذرت بھی کرتا ہے۔ اگر یہی چیز چین، افریقہ یا ایشیا کے ممالک سے منگوائیں توا ن ممالک کا معیار تسلی بخش نہیں ہوتا، اسی طرح واپسی میں بے پناہ مسائل ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان مین ہر طرف سے چیزیں درآمد کی جارہی ہیں، ایشیا سے درآمد شدہ مال ناقص جبکہ یورپ کا مال زبردست ہوتا ہے۔ ملک میں کام کرنے والی کمپنیاں بھی مختلف ہیں۔ کچھ ایسے شعبہ جات ہیں جن کو معیار چاہیے، ان کے لیے صاف ستھری اور معیاری اشیاء یورپ سے درآمد کی جاتی ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:  
درآمد کرنے میں حکومت کی طرف سے کوئی مدد بھی ملتی ہے؟
ثاقب سلیم:
نہیں! حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملتی۔ یہ ضرور ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے بعض ممالک سے درآمد کرنے پر ٹیکس میں چھوٹ یا کمی کردی جاتی ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) بعض ممالک سے ہوتا ہے۔ جیسے سارک کے رکن ممالک کے درمیان معاہدہ ہے۔ پاکستان چائنا اور پاکستان ملائیشیا کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) ہے۔ ان ممالک کے درمیان تجارت کی صورت میں کوئی ڈیوٹی وصول نہیں کی جاتی۔ ہمیں حکومتی اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک ظالمانہ ٹیکسوں کی وجہ سے اسمگلنگ میں اضافہ ہورہاہے۔ ہمارے پانچ بارڈرز ہیں۔ ان کے ذریعے اربوں کی اسمگلنگ کی جاتی ہے۔ ایران اور دیگر بارڈرز سے مال اسمگل ہو کر آتا ہے۔ اس کی واحد وجہ ٹیکس ریٹ کا ہائی ہونا ہے۔ اگر ہمارے ٹیکس کم ہوں تو اس کے نتیجے میں تمام تاجر وں کو فائدہ ہو اور سب کے سب خوشی خوشی ٹیکس دیں ۔ اب یہ ہوتا ہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے چند لوگ ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پکڑنے والے بھی رشوت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسمگلنگ کرنے والے بھی کوئی معمولی افراد نہیں ہوتے۔ کوئی ایم این اے ہے، کسی کی پشت پناہی کوئی وزیر کررہا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ اس میں یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ہزاروں افراد کو ملازم رکھا جاتا ہے۔ ان تمام کی تنخواہیں، خرچے اربوں  میں ہوتے ہیں۔ اس طرح حکومت کو ٹیکس سے حاصل ہونے والے پیسے سارے کے سارے انہی اخراجات میں نکل جاتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس: 

تاجروں کی طرف سے حکومت سے مطالبات پرزور انداز میں کیوں نہیں منوائے جاتے؟
ثاقب سلیم:
 تاجروں کی مختلف تنظیمیں کام کررہی ہیں مگر مسئلہ ہمارے سیاست دانوں کا ہے۔ اس وقت اکثر سیاست دان جاگیر دار ہیں، ان کو اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والے افراد میں سے ستر فیصد افراد  ’’سیلری کلاس‘‘(تنخواہ دار طبقے) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اصل ٹیکس دینے والے تو ہیں ہی نہیں۔ ان کے علاوہ امپورٹر اور ایکسپورٹر تو ہیں ہی صرف تیس چالیس ہزار۔ ان میں سے بھی ایکسپورٹرز کو بھی ٹیکس میں ایگزمپشن (استثنا) حاصل ہے۔ لے دے کر امپورٹر رہ جاتا ہے یا کمپنیز ۔ اس کے علاوہ دوکان دار پندرہ بیس ہزار روپے ادا کرکے جان چھڑا لیتا ہے۔ یہاں سے بے انصافی کا آغاز ہوتا ہے۔ حکومت کو جب کم ٹیکس ملتا ہے تو وہ پیٹرول کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ ٹیکس دیں گے تو حکومت پیٹرول کی قیمت کم کردے گی۔ اسی طرح بجلی کی قیمت بڑھتی ہے۔ آپ کسی بھی فوڈ شاپ پر جاکر کھڑے ہوجائیں، ان دوکانوں پر روزانہ لاکھوں کا سامان فروخت ہوتا ہے مگر سال کے بعد ٹیکس دیتا ہے صرف پانچ ہزار روپے۔ اس طرح ہر دوکاندار اور تاجر اپنے فائدے کی خاطر ساری قوم کا نقصان کر رہاہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
باہر سے آنے والی کمپنیوں کی وجہ سے کوئی فرق پڑ رہا ہے؟
ثاقب سلیم:
 باہر کی کمپنیاں جب ہمارے ہاں آتی ہیں تو وہ بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ باہر کی کمپنیاں صرف اور صرف اس وجہ سے ہائر کی جاتی ہیں کہ وہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ نہیں کرتیں۔ وہ ٹھیکہ لے کر ہمارے ہی ملک کے مزدور اور مستری بھرتی کرتی ہیں۔ دراصل ہمارے ہاں کرپشن نے سارا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس: 
 تاجروں کے مسائل کیا ہیں؟
ثاقب سلیم:  
کراچی کے تاجر کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں پر امن و امان کی مخدوش صورت حال ہے۔ اس وقت سارے کراچی میں بدامنی کا دور دورہ ہے۔ تاجر اور تجارت کسی بھی طرح محفوظ نہیں رہے۔ ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ان حالا ت میں تجارت پھیلانے کے بجائے تجارت چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھتہ خوری عام ہے۔ کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ آج کس پارٹی نے اچانک دوکانیں بند کروادی ہیں۔ بہت زیادہ حالات خراب ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے حالات اچھے ہوتے تو بیرونی سرمایہ کار آتے۔ اسی جگہ جہاں ہم بیٹھے ہیں یہاں کی ایک دوکان کی قیمت اب بڑھنے کے بجائے گر رہی ہے۔ اس لیے کہ آئے روز شہر کے مرکز میں ہنگامے، فسادات اور قتل و غارت ہورہی ہے۔ جب تک تاجر محفوظ نہیں ہوگا وہ تجارت کیسے کرے گا۔ ہمارے ہاں بھی تاجر محفوظ نہیں اس لیے وہ سرمایہ کاری کے بجائے وقت گزاری کر رہا ہے۔ جب ایک آدمی کو معلوم ہے کہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں مجھے کچھ نہیں ملنے والا، بلکہ زیادہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں بھتہ خوروں کی بھرمار ہوجائے گی تو وہ سرمایہ کاری کیسے کرے گا۔ بلاشبہ اس دور کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ اس قدر بدامنی میں بھی کراچی کا تاجر کاروبار کر رہا ہے۔ وہ اس وقت ٹیکس، اسمگلنگ اور بدامنی سے براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ کراچی میں یہ مسائل ہیں جب کہ پنجاب میں بجلی اور گیس کی چھٹی۔ حکومت کی طرف سے بجلی و گیس نہیں دی جارہی۔ جنریٹر پر چلائیں تو اشیاء کی قیمتیں خود بخود بڑھ جائیں گی۔ ہمارے ہاں اصل فقدان اس چیز کا ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتا۔ ایک عام آدمی سے لے کر وزیر اعظم تک جب کوئی بھی پاکستانی بدعنوانی یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو پوری قوم کو یہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کسی ملک کے دورے پر گئے ہیں اور اپنے ساتھ ضرورت سے زائد افراد کو لے گئے ہیں تو وہ سب قوم کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح یہ سب ادائیگیاں قوم ہی کو کرنا پڑتی ہیں۔