اپناتعارف کراتے ہوئے یہ بتایئے کہ آپ نے یہ کاروبار کب شروع کیا ،کن مراحل سے گزرااور ان دنوں حالات کیسے ہیں؟سب سے پہلے میں نے ایک جنرل اسٹور خریدا۔ اسے میں نے تیرہ سال تک چلایا۔ اس وقت اس کی قیمت سولہ لاکھ تھی۔تیرہ سال کے بعد53 لاکھ میں فروخت کردیا۔ امن وامان اور مین پاور نہ ہونے کی وجہ سے ،نیز بار بار کی ہڑتالوں اورآئے روز حکومتی اہلکاروں کے تنگ کرنے کی وجہ سے میں نے اسے بیچنے کا فیصلہ کرلیا۔

 شریعہ اینڈ بزنس:اس کے بعد آپ نے کیا کیا؟

طیب کھجور والا:بیچ میں تقریباً چھ سال تک ایکسپورٹ امپورٹ کے کچھ چھوٹے موٹے کا م کرتا رہا۔پھر ابھی تین سال ہوئے،کھجور کا کام شروع کیا ہے۔

 

شریعہ اینڈ بزنس:کھجورکا کام کس نوعیت کا ہے؟کہاں سے برآمد کرتے ہیں آپ؟

طیب کھجور والا:ایران اور عراق سے منگواتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:کاروبار انفرادی ہے یا پارٹنر شپ کی صورت میں ؟

طیب کھجور والا:اس کاروبار میں ہم تین پارٹنر ہیں۔ لی مارکیٹ میں بیٹھتے ہیں۔ سردست دو ممالک عراق وایران سے کھجور امپورٹ کررہے ہیں۔عراق سے ہماری کھجور دبئی کے راستے سے آتی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:اس کے علاوہ ایکسپورٹ کا بھی کوئی سلسلہ ہے؟

طیب کھجور والا:جی ہاں !کچھ عرصہ ہوا شروع کیا ہے۔جس میں سویاں ،اخروٹ،فیکٹری کا سامان،چھوارے اور شہد باہر بھیجتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:ایکسپورٹ اور امپورٹ کے اس وسیع سلسلے میں آپ کو حکومت کی طرف سے کچھ’’فیسلٹیز‘‘بھی حاصل ہیں؟

طیب کھجور والا:ایکسپورٹ میں کسی قدر آسانی ہوتی ہے۔حکومتی ٹیکس،کسٹم کا ذاتی ٹیکس اور کھانچہ وغیرہ سب ملاکر ہمیں بتادیتے ہیں ،ہم ادا کردیتے ہیں۔ کام چلتا رہتا ہے۔مگر امپورٹ میںبے انتہامشکلات پیش آتی ہیں۔خاص طور پر کہیں سے مشین منگوائی ہے تو اس میں بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منہ مانگی رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:آپ نے رکاوٹوں اور پریشانیوں کا ذکر کیا،تو کیا اس میں خود حکومت نے مسائل کھڑے کررکھے ہیں یا یہ رکاوٹیںحکومتی عملے کی پیدا کردہ ہیں؟

طیب کھجور والا:حکومتی عملے کی پیدا کردہ ہیںیہ مشکلات !مگر ظاہر ہے کہ ایسا ،مضبوط کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اگر حکومت ایسے لوگوں کو نکیل ڈالے تو یہ کب ایسی کارستانیاں کریں ؟یہ خود بخود سیدھے ہوجائیں گے۔رشوت لینے والوں کی پوری ایک ’’چین‘‘ ہوتی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:سننے میں آتا رہتا ہے کہ لوگوں کو مسلمان تاجروں سے بہت شکایا ت ہوتی ہیں،ان کے ہاں ملاوٹ کا تناسب زیادہ ہے ،نیز خریدی ہوئی چیز کے واپس کرنے میں بھی بہت زیادہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ،کیا یہ سچ ہے؟

طیب کھجور والا:جی ہاں !صورت حال ایسی ہی ہے،ہمارے ہاں چیز واپس نہیں کی جاتی۔جیسی تیسی بیچ دی،اب نفع نقصان اسی کا۔ ایران والے تو بعد میں پہنچاننے تک سے انکار کردیتے ہیں۔ ان سے معاملہ کرنے کے بعد واپسی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ 

شریعہ اینڈ بزنس:کیا خریدنے سے پہلے خریدار اسے چیک نہیں کرتے؟

طیب کھجور والا:باقاعدگی سے کرتے ہیں۔سودا معیاری چیز پر ہی طے پاتا ہے ،مگر جب لوڈنگ کا مرحلہ آتا ہے تو اس دوران گڑبڑ کی جاتی ہے۔ اسی سے بچنے کے لیے اب لوگوں نے بہت سے بندوبست کیے ہیں،اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی زیر نگرانی سارے مراحل طے کروانے کی کوشش کرتے ہیں،مگر پھر بھی کہیں کہیں ڈنڈی مارلی جاتی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ تاجر تنظیموں میں اتحاد واتفاق نہیں ہے۔ڈکیتی کا مسئلہ یا بھتے کا یا کوئی اجتماعی نفع یا نقصان کی بات تو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں،لیکن آپس کے کاروبار وں کے حوالوں سے ان میں کوئی اتفاق نہیں۔ ایک چنیوٹی فیملی ہے جوچوزوں کا کاروبار کرتی ہے۔ ان کا اتحاد واتفاق مثالی ہے۔پوری مارکیٹ میں اپنے خاندان کے علاوہ کسی کو گھسنے نہیں دیتے۔جونہی کوئی پارٹی وہاں آجاتی ہے یہ لوگ فوراًریٹ گرا کر بہت ہی نیچے لے آتے ہیں۔ بالاخر وہ وہاں سے جانے پرمجبور ہوجاتا ہے۔ اس فوری نقصان کو وہ اپنے اس مقصد کے لیے برداشت کرلیتے ہیں ،پھر جونہی وہ نکل جاتا ہے ،یہ اپنانقصان پورا کرلیتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:عراق میں بھی ایسا ہوتا ہے؟

 طیب کھجور والا:وہاں بھی یہی حال ہے۔ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ عراقی اور ایرانی کے معاملات میںذرہ برابر فرق نہیں ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:پچھلے دنوں ہماری ایک تاجر سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں یورپ سے خریدوفروخت کرتا ہوں۔ بتانے لگے کہ میں نے ان سے پلاسٹک کا دانہ منگوایا۔ یہاں پہنچا تو ناقص نکلا۔میں نے ان کو صرف ایک ’’ای میل ‘‘کی۔ اس پر انہوں نے نہ صرف یہ کہ وہ مال واپس منگوالیا،بلکہ ساتھ معذرت کا بھی خط لکھا۔ انہوں نے کہا:برائے کرم آپ مال ہمیں واپس بھجوادیںاور ’’شپنگ‘‘وغیرہ کاخرچ بھی ہم خودادا کریں گے۔مذکورہ تاجر کہنے لگے کہ اسی وجہ سے ہم سارے معاملات یورپ کے ساتھ کرتے ہیں۔ ایشیائ،جزیرہ عرب اور افریقہ کے ممالک سے معاملات نہیں کرتے۔

طیب کھجور والا:اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یورپین یا اس جیسے ممالک نے ہمارے مذہب کے اصولوں کو اپنا لیا ہے ،جبکہ ہم مسلمان ان پر عمل نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے یورپین وغیرہ کا ’’پرافٹ مارجن‘‘بھی بہت زیادہ ہے۔ بے انتہا نفع اٹھا رہے ہیں۔ اعتماد کے بنانے اور برقرار رکھنے میں وہ پیسے کی پروا نہیں کرتے ،جب ساکھ بنالیتے ہیں اور کاروبار خوب سنور جاتا ہے تو اب خرچ کی کمی بیشی کا ازالہ بھی ہوجاتا ہے اور یہ جو کچھ مال واپس وغیرہ کرنے کی بات ہم نے کی تو،اس پر کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں آتا۔شاید ایک پرسنٹ بھی نہ ہو۔

شریعہ اینڈ بزنس:کیا وجہ ہے ہر سال رمضان میں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ اشیاکی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوجاتا ہے؟

طیب کھجور والا:میں اپنی کھجور کے حوالے سے ہی بات کرتا ہوں۔عام طور پر تو اس کے مہنگا ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ حکومت ِاس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے دیتی۔تاہم اس مرتبہ کا معاملہ کچھ جدا ہے۔ اس سے سے پہلے میں بتادوں کہ پاکستا ن میں ساڑھے پانچ لاکھ ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ اس کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے اور لوگ اپنے گھوڑوں اور گدھوں کو کھلا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے شدید عدم تعاون کا مظاہرہ ہے۔گاؤں کو شہروں سے ملانے والی سڑکیں نہیں ہیں۔ کولڈ سٹوریج کا بندوبست نہیں ہے۔حکومت ذرا سی توجہ کرکے اربوں روپے کما سکتی ہے۔ پاکستانی کھجور طاقت،لذّت اور پروٹین میں دنیا بھر کی ٹاپ کلاس کھجورہے۔سوائے سعودی عرب کی چند ان اقسام۔۔۔ عجوہ وغیرہ۔۔۔ کے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آرہی ہیں۔ باہر کے لوگ بھی پاکستانی کھجور کی یہ خصوصیت تسلیم کرتے ہیں۔ایک بات آپ کو بتاؤں !کافی سال پہلے یورپ نے ایک کھجور نکالی تھی۔لوگ بہت شوق سے کھاتے تھے۔’’ٹری ٹاپ‘‘اس کا نام تھا۔دراصل انہوں نے خیر پور میں کمپنی قائم کی۔ہمارے یہاں کے سیاسی لوگوں نے،یہاں کی لیبر نے جھگڑے وغیرہ کرکے اسے ختم ہی کردیا۔

اس میں بتانے کی خاص بات یہ ہے کہ یورپین نے فیکٹری لگانے سے پہلے پاکستانی کھجور کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا۔ اس کے نتیجے میں پتہ چلا کہ دنیا کی سب سے اچھی کھجور یہاں کی ہے۔ یہ سارے تجربات بیرون ملک کیے گئے تھے۔تب انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ کھجور بہت عمدہ ہے۔ یہ سستی بھی ہوگی اور ہم اس سے خوب پیسہ کماسکیں گے۔وہ اپنے ممالک سے مشینیں لے کر آئے۔فیکٹری پورا سیٹ اپ یہاں لگایا۔سارے پاکستان کا تو پتہ نہیں ہمارے معلومات کے حد تک کراچی میں بہت زیادہ بِکی تھی۔ہم لوگ پوری پوری کھجور کی گاڑی کیش پر خرید لیتے تھے۔ہمارے ہاںملک کا معاملہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے کھجور کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ بلکہ کسی بھی قسم کی تجارت کے لیے نہیں۔مثلاً ماربل درآمد کرنا ہوتا ہے،ہمارے کوئی سڑک نہیں بنی ہوئی۔سارا مال کچے راستے سے آتا ہے۔ اگر پختہ سڑک موجود ہو تو جوچیز دن میں ایک بار منگوائی جارہی ہے،گاڑی والا دن میں دو چکر لگا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کو مال بھی اچھا ملے گا اور گاڑیاں بھی محفوظ رہیں گی۔ہمیں رپورٹ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے پانچ لاکھ ٹن کھجور پیداہوتی ہے مگر ایک بڑی مقدار صرف ضروری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔

اب دیکھیے !پنجگور کے پاس جو ایران کی سرحدہے وہاں ایرانیوں نے زیروپوائنٹ سے ہی سڑک بنا رکھی ہے،جبکہ ہمارے ہاں پنجگور میں سڑک نہیں ہے ،لہذا سارا مال کچے راستے سے آتا ہے۔پھر ایران شروع ہوتے ہی سڑک کے ساتھ انہوں نے جگہ جگہ کولڈ اسٹور بنا رکھے ہیں۔ ایران کے ایک علاقے’’بم‘‘میں تقریباًتین ہزار کولڈ اسٹور ہیں۔ ایک کولڈ اسٹور کا بجلی بل پاکستانی پانچ ہزار روپے ہے۔ہمارے ہاں وہی دو ڈھائی لاکھ روپے آتا ہے۔ اسی سے اندازہ کریں کہ ایران اپنی قوم کو اشیائے صرف سستی فراہم کرتے ہیں۔ اپنی سہولیات کی وجہ سے وہاں کی ایکسپورٹراور امپورٹر بڑی بے فکری کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی کھجور وہاں رکھیں تو ہمیں فی ٹن ایک یا ڈیڑھ روپیہ خرچ آتا ہے ،اپنے ہاں پاکستان میں کولڈ اسٹور میں رکھیں تو سولہ ،سترہ روپے فی کاٹن خرچ آتا ہے۔ اگرحکومت ہمیں سہولیات دے اور امن وامان قائم کرے تو حکومت صرف کھجور سے ہی اربوں روپے کماسکتی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:آپ ذکر کرہے تھے کہ اس مرتبہ کا مسئلہ کچھ جدا ہے؟

طیب کھجور والا:اس کا دفعہ کا مسئلہ یہ ہے قدرتی طور پر رمضان کے آغاز میں پاکستانی کھجور تیار نہیں ہوگی۔ یہ تقریباً رمضان المبارک کی 10 یا 15تاریخ کو مارکیٹ میں پہنچے گی۔ اس مرتبہ چھوٹے بڑے سب تاجروں نے باہر سے کنٹینر منگوا کر اسٹاک کر لیے ہیں۔ اس لیے لامحالہ کھجور کے دام اس دفعہ بڑھیں گے۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ پاکستانی کھجور سستی ملتی تھی،اس دفعہ باہر کی کھجور مارکیٹ میںموجود ہی نہیںہے۔ویسے تو ہمارے ہاں سارا سال کھجور چلتی ہے۔۔۔میں حیران ہوں کہ لوگ ساراسال لگاتار خریدتے رہتے ہیں۔۔۔مگر رمضان میں طلب بہت بڑھ جاتی ہے اس لیے ان دو وجہوں سے اس دفعہ کھجور مہنگی ہوگی۔

مارکیٹ میں کھجور کی 15،20 دکانیں ہیں، سب کی سب چل رہی ہے۔ صرف 2،3 ہی ہیں جو سیزن کے انتظار میں 4،5مہینے کے لیے بند کی جاتی ہیں ورنہ اکثریت کھلی ہوتی ہے اور پھر سارا سال کھجور ہول سیل کے اعتبار سے بکتی ہے۔ بہت سے تاجر ایسے ہیں جن کا کا م پورا سال کھجور بیچنا ہی ہے ،کوئی اور کاروبار نہیں کرتے۔ہم جو پنجگور سے مال نکلواتے ہیں تو وہاں گورنمنٹ کی طرف سے عائد کردہ ایک ’’ڈیوٹی‘‘بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ ڈیوٹی اتنی زیادہ ہے کہ تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ اگر حکومت اتنی ڈیوٹی لگائے جتنی کہ تاجر برداشت کرسکتا ہے تو آرام سے اسے لا کر سستے داموں بیچ سکتے ہیںبلکہ پورے راستے میں ہی کسی نہ کسی عنوان سے کوئی نہ کوئی ٹیکس دینا پڑتا ہے،ان کا پورا ایک پیکج بنا ہوا ہے۔ پنجگور سے چلنے والا ٹرک جب ’’حب‘‘تک پہنچتا ہے تو یہاںبھی ایک فیس دینا پڑتی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:یہ ڈیوٹی وغیرہ تقریبا ًکتنی ہے ؟

طیب کھجور والا:مثال کے طور پرایک لاکھ 60 ہزار ڈیوٹی اگر لگائی جائے تو کھانچے میں مال،30ہزار روپے میں نکلے گا۔لوگ کھانچہ ادا کردیتے ہیں تو سوا لاکھ کی یا ڈیڑھ لاکھ روپے بچ جاتے ہیں۔پھر وہ کاسٹ کو انڈر کاسٹ کرکے بیچ دیتے ہیں۔ اب جس آدمی پہ یہ ڈیوٹی لگی ہے ،وہ کہاں جائے گا ؟آفیسر لوگ حکومت کو دکھانے کے لیے کچھ گاڑیوں پر ڈیوٹی لگاتے بھی ہیں۔ہم جو ڈیوٹی ادا کرتے ہیں ،وہ اس طرح ہے کہ اگر کسٹم ادا کریں تو 70 ہزار ڈیوٹی لگتی ہے ،اور جواس کے بغیر نکل آتے ہیں اس کا ایک لاکھ 20ہزار خرچہ ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:جب حکومت نے اس طرف سڑکیں نہیںبنائیں تو یہ ڈیوٹی کس چیز کی لگاتے ہیں؟

طیب کھجور والا:یہ سوال تو آپ حکومت سے کریں۔ ہم تو صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ حکومت نے اگر ڈیوٹی لگانی بھی ہے تو بس اتنی لگائے کہ تاجر کے لیے قابل برداشت تو ہو۔ ایک مزے کی بات آپ کو بتاؤں !پاکستان اسلامی ملک ہے اور یہاں کھجور پر شعبان،رمضان میں بھی ڈیوٹی عائد ہے۔جبکہ بھارت ہندو ملک ہے ،ان کے ہاں دوماہ کھجور کی ڈیوٹی فری ہوتی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:تاجروں کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں کوئی دور رس فوائد کی حامل پالیسیاں نہیں ہیں۔ ان پر دنیابھی عدم ِاعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کیا تاجر تنظیمیں ،باہم مل جل کر اس کا کوئی حل نہیں سوچ سکتیں؟

طیب کھجور والا:حقیقت یہ ہے کہ تاجر تنظیموں میں اتحاد واتفاق نہیں ہے۔ڈکیتی کا مسئلہ یا بھتے کا یا کوئی اجتماعی نفع یا نقصان کی بات تو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں،لیکن آپس کے کاروبار وں کے حوالوں سے ان میں کوئی اتفاق نہیں۔ ایک چنیوٹی فیملی ہے جوچوزوں کا کاروبار کرتی ہے۔ ان کا اتحاد واتفاق مثالی ہے۔پوری مارکیٹ میں اپنے خاندان کے علاوہ کسی کو گھسنے نہیں دیتے۔جونہی کوئی پارٹی وہاں آجاتی ہے یہ لوگ فوراًریٹ گرا کر بہت ہی نیچے لے آتے ہیں۔ بالاخر وہ وہاں سے جانے پرمجبور ہوجاتا ہے۔ اس فوری نقصان کو وہ اپنے اس مقصد کے لیے برداشت کرلیتے ہیں ،پھر جونہی وہ نکل جاتا ہے ،یہ اپنانقصان پورا کرلیتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:پاکستان سے باہر کھجور کی ایکسپورٹ کی کیا تفصیل ہے؟


طیب کھجور والا:اصل کھجور 20ہزار ٹن باہر جاتی ہے۔ تقریبا 50،60ٹن یہیں کے لوگ کھا جاتے ہیں۔ اب سوچیں کہ اس کے علاوہ کئی لاکھ ٹن کھجور کہاں جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ ضائع ہی ہوتی ہوگی۔صرف سہولتیں اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہے یا جانوروں کو کھلا دی جاتی ہے۔

دے،ملک دنوں میں خوشحال ہوسکتا ہے