جمعیت العلماء سری لنکا کے فتوی ڈدیژن کے سیکرٹری جنرل شیخ ہاشم ابراہیم صوری سے شریعہ اینڈ بزنس کی گفتگو


شریعہ اینڈ بزنس:
ہم سب سے پہلے آپ کا تعارف جاننا چاہیں گے پھر جمعیت العلماء اور اس کے شعبہ جات کی تفصیل بھی ضرور بتائیے گا۔

شیخ ہاشم ابراہیم:
سب سے پہلے تو میں آپ حضرات کا شکر گزار ہوں کہ مجھے شریعہ اینڈ بزنس کی ٹیم سے ملاقات کا موقع ملا۔ کوئی ایسا قابل ذکر تعارف نہیں ہے جو آپ حضرات کے سامنے رکھوں۔ میرا نام ہاشم ابراہیم صوری ہے۔ سری لنکا کے ایک دینی ادارے سے فارغ التحصیل ہوں۔ پھر مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ چار سالہ کلیہ کا کورس کیا۔ اس کے بعد شاہ سعود یونیورسٹی میں زبان عربی کا ڈپلومہ کیا۔ اس وقت سری لنکا میں ’’کلیۃ الصحوۃ العربیہ‘‘ کے نام سے میرا ادارہ ہے۔ ایک ’’جمعیت الصحوۃ‘‘ بھی ہے۔ جس کے تحت مختلف رفاہی کام انجام دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح میں ’’جمعیت العلماء سری لنکا‘‘ کا بھی حصہ ہوں۔ یہ تنظیم دینی حوالے سے وہاں کے مسلمانوں کے لیے ایک مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔


٭… نوجوان بے دھڑک ہوٹل میں داخل ہوکر پسند کی چیز کا انتخاب کر کے کھانا شروع کر دیتے ہیں،حلال یا حرام کی تصدیق نہیں کرتے ٭…علمائے کرام کا فرض یہ کہہ کر پورا نہیں ہو جاتا کہ فلاں چیز حلال یا حرام ہے، ان پر لازم ہے کمپنیوں کے اندر جا کر پوری تحقیق کر یں ٭…مسلمانوں میں عملی حوالے سے دین سے دوری کے باعث ان میں حلال و حرام کی اہمیت نہایت کمزور ہوتی جا رہی ہے ٭


شریعہ اینڈ بزنس:
’’جمعیت العلماء سری لنکا‘‘ کا کیا دائرہ کار ہے؟ یہ کن کن میدانوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے؟

شیخ ہاشم ابراہیم:
70 سال قبل اس کا قیام عمل میں آیا۔ سری لنکا کے تمام صوبوں میں اس کی شاخیں ہیں۔ پھر ہر صوبے کی شاخ کے تحت مزید کئی شاخیں ہیں۔ یوں اس کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔ اس جمعیت کی تقریبا 12شاخیں ہیں جو ’’تعلیم‘‘ ،’’دعوت و ارشاد‘‘ ’’میڈیا‘‘ اور ’’افتائ‘‘ وغیرہ کے شعبے میں کام کررہی ہیں۔جمعیت کی تمام شاخوں کا ہر ماہ اجلاس ضرورہوتا ہے۔ اسے ’’مجلس تنفیذی کا اجلاس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جہاں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مختلف مسائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ ہر شعبے کے لوگ الگ سے بھی ماہانہ اجلاس منعقد کر کے اپنے انفرادی نوعیت کے مسائل حل کرتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:
جمعیت العلماء کے قیام کی طرف سے پیش رفت کیسے ممکن ہوئی؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
دراصل ایک طویل مدت سے مختلف دینی جماعتیں، مثلاً: جماعت تبلیغ، جماعۃ الاسلام، انصار سنن المحمدیہ وغیرہ اپنے اپنے طور پر خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ پھر انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے دینی مسائل کے حوالے سے کوئی متفقہ رائے اور لائحہ عمل طے ہوا کرے۔ مختلف چھوٹی چھوٹی جماعتیں تو تمام اجتماعی مسائل پر اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکتی تھیں۔ اس لیے جمعیت العلماء کے نام پر اتفاق ہوا۔ یوں اللہ کے خصوصی فضل و کرم سے سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔


شریعہ اینڈ بزنس:
سری لنکا میں مسلمانوں کے حالات پر بھی روشنی ڈالیں؟

 

شیخ ہاشم ابراہیم:
الحمد للہ وہاں کے حالات مجموعی طور پر اطمینان بخش ہیں۔ امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جب سے باغیوں کا خاتمہ ہوا ہے حالات پرامن اور اطمینان بخش ہیں۔ معاشی طور پر بھی مسلمانوں کے حالات برے نہیں۔ حکومت کی طرف سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ سری لنکن گورنمنٹ بنیادی طور پر جمہوری ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کا خیال رکھتی ہے۔ کچھ گروہوں کی جانب سے مزاحمتی کارروائیاں سامنے آتی ہے، جن کا عام طور پر حکومت توڑ کر لیتی ہے۔کچھ تشدد پسند گروہ مسلمانوں کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہیں مگر جمعیت العلماء اور حکومت مل کر ایسے تمام مسائل کو حل کرلیتی ہے۔ اس لیے بلاشبہ حکومت کی طرف سے ہمیں کبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوا، بلکہ حکومت جمہوری روایت کے مطابق مسلمانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھتی ہے۔


شریعہ اینڈ بزنس:
وہاں کے مسلمانوں کے سیاسی حالات کیا ہیں؟ کیا حکومت میں ان کی شمولیت ہے؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
الحمد للہ! مسلمانوں کی خاصی تعداد حکومت کا حصہ ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی مسلمانوں کی کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اسی طرح کچھ مسلمان وزیر بننے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر مسلمان سیاست کا حصہ بنتے ہیں، تاہم ان کی شنوائی ایک حد تک ہی ہوتی ہے۔


شریعہ اینڈ بزنس:
کچھ عرصہ قبل یہ خبریں آتی تھیں کہ سری لنکن حکومت نے اپنے ملک میں حلال و حرام کھانوں کی تفریق کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
یہ کوئی حکومت کی طرف سے حکم نہ تھا۔ حکومت کبھی بھی مسلمانوں کے حلال کھانے پینے کے بارے میں پابندی عائد کرنے کایک طرفہ فیصلہ نہیں کرتی۔ بلکہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ یہ تو وہاں کی ایک اسلام مخالف جماعت کا مطالبہ تھا۔ انہوں نے اس کا پُرزور مطالبہ کیا تھا۔ شدید مزاحمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حلال مسلمانوں کی ایک پہچان کے طور پر ہمیں ہرگز قبول نہیں۔ اس موقع پر جمعیت العلماء نے خصوصی کوشش کی۔ وزرائے حکومت کے سامنے اس مسئلے کو خوب کھول کر واضح کیا۔اس کے نتیجے میں جمعیت العلماء اور حکومتی اداروں میں مذاکرات ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے میں یہ مسئلہ حل ہوگیا اور اللہ کا شکر ہے کہ آج وہاں پر مسلمان پہلے کی طرح حلال مصنوعات استعمال کررہے ہیں۔


شریعہ اینڈ بزنس:
مسلمان حلال اور حرام اشیاء کے درمیان کیسے فرق کرتے ہیں؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
’’جمعیت العلمائ‘‘ کے تحت ایک اور’’ تنظیم برائے حلال و حرام‘‘ ہے۔ پیکنگ پر مخصوص نمبر اور علامات چسپاں کی ہیں۔ اس سے مدد ملتی ہے۔ ان نمبرات کے اشتہارات اور بورڈ بنا کر تمام مساجد میں آویزاں کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نمبرز لکھے گئے ہیں۔ کسی شخص کو شک ہو تو وہ رابطہ کر کے جمعیت العلماء کے حلال و حرام مصنوعات کے شعبے سے پوچھ سکتاہے۔ہمارے حلال مصنوعات کے ماہرین 24گھنٹے فون کال کا جواب دیتے ہیں اور پوچھنے والوں کو حلال یا حرام اجزاء سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جمعیت العلماء کے تحت حلال و حرام کے اس شعبے میں 40 افراد کام کرتے ہیں۔ اس شعبے کو ایک مستقل آرگنائزیشن کی حیثیت دے دی گئی ہے۔اب بدھسٹوںکے احتجاج کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ حلال کا شعبہ باقاعدہ طورپر جمعیت العلماء کے براہ راست ماتحت نہیں ہوگا، بلکہ ایک آزاد کاروباری کمپنی اس کا انتظام سنبھالے گی ، صرف شرعی رہنمائی کے لیے یہ ادارہ جمعیت العلماء سے رابطہ کرے گا۔

شریعہ اینڈ بزنس:
اس ’’تنظیم برائے حلال و حرام‘‘ کو کوئی مشکلات درپیش ہیں؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
اسے قائم ہوئے 10 سال سے زائد ہو گئے ہیں۔ الحمد للہ! کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ ہم مختلف اداروں کو سرٹیفکیشن کی خدمات بالمعاوضہ پیش کرتے ہیں۔ یہ ہماری مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ وہاں کے کارکنان کے جملہ اخراجات اسی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔


شریعہ اینڈ بزنس:
یہ تنظیم بنانے کی تحریک کیسے پیدا ہوئی؟ جبکہ عام طور پر مسلمان ممالک میں، حتی کہ پاکستان میں بھی ابھی کچھ عرصہ قبل تک اس طرف کوئی توجہ نہ تھی؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
یہ اللہ کا خصوصی فضل ہے، اس کے بعد جمعیت کی قیادت کی اعلی بصیرت کا مظہر ہے۔ انہوں نے دور اندیشی سے کام لے کر مسلمانوں کی اس ضرورت کے لیے یہ کامیاب پروگرام پیش کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سری لنکا جیسے ایک ایسے ملک میں جہاں مسلمان دس فیصد سے زیادہ نہیں، وہاں پر حلال و حرام میں رہنمائی کے لیے ایک شعبے کی اشد ضرورت تھی۔ علمائے کرام اور دیگر حضرات نے اس ضرورت کا ادراک کیا اور اس کے نتیجے میں ایک عمدہ شعبہ قائم ہوگیا۔


شریعہ اینڈ بزنس:
اس کا مطلب ہے ابتدا میں جمعیت صرف دینی حوالے سے مسلمانوں کی خدمت کرتی تھی؟

 

 

شیخ ہاشم ابراہیم:
جی ہاں! تب تک ان کا دائرہ کار بہت محدود تھا۔ اس کی جان پہچان بھی بہت محدود تھی۔ جب انہوں نے عوامی خدمات کا سلسلہ شروع کیا تو ان کی شہرت و مقبولیت میں بے حد اضافہ ہوا۔اس وقت جمعیت العلماء کو مسلمانوں کے مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے۔

 

شریعہ اینڈ بزنس:
سری لنکا کی غیر مسلم کمیونٹی، جمعیت اور اس کی خدمات کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟


شیخ ہاشم ابراہیم:
وہ اس کی خدمات و کرادر پر رشک کرتے ہیں۔ ان کی کوئی ایسی جمعیت نہیں ہے۔صرف حلال کے شعبہ کو دیکھیں کہ وہاں جب یہ شعبہ شروع ہوا تو اپنوں اور غیروں سب نے اس کو سراہا۔ سری لنکا کے ایک جنرل صاحب نے جمعیت کی حلال و حرام کے حوالے سے خدمات پر یوں تبصرہ کیا کہ لوگوں کی صحت کا ایک بڑا مسئلہ جمعیت نے حل کر دیا ہے۔ اس نے بہت تعجب کا اظہار کیا تھا۔ کہا بہت سے حرام اجزا انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہیں۔ میں حیران ہوں آپ لوگوں کو یہ خیال کیسے آیا۔ جو ہمیں بھی نہ آیا تھا۔ تا ہم بعض اوقات جمعیت کی ایسی باتوں کو اعتراض کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جو خالصتاً دینی اور مذہبی معاملے سے تعلق رکھتی ہوں۔ (جاری ہے)