سری لنکا کے معروف مفتی شیخ ہاشم ابراہیم صوری و شیخ حارث رَشادی سے شریعہ اینڈ بزنس کی گفتگو

شریعہ اینڈ بزنس:

آپ حلال و حرام کے مسئلے کو عالمی تناظر میں کیسا دیکھتے ہیں؟
شیخ ہاشم ابراہیم:
ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ جن ممالک میں اس حوالے سے کارکردگی پائی جاتی ہے، دراصل ان کو اس کی ضرورت ہے اور ضرورت کا احساس بھی۔

جن ممالک میں اس کی ضرورت کا شدت سے احساس نہیں، وہاں پیش رفت میں بھی کمی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، لہذا عوام الناس لین دین میں ایک دوسرے کو مسلمان سمجھ کر اعتماد کرتے ہوئے ہر چیز کے حلال ہونے کا گمان کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں سری لنکا میںہر قسم کی چیزیں درآمد کی جاتی ہیں۔ حلال، حرام، مذبوح، غیر مذبوح وغیرہ کی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے وہاں کے علمائے کرام نے اس کے لیے قدم اٹھایا۔ ہم سمجھتے ہیں اس وقت تمام اسلامی ممالک میں حلال کی تحقیق و تصدیق کے ادارے قائم کرنا ضروری ہو گئے ہیں۔


شریعہ اینڈ بزنس:
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم ممالک سے اشیا در آمد کرتے ہوئے بے حد حساسیت سے کام لینا چاہیے؟


٭…سری لنکا میں حلال تحقیق، تصدیق، آڈٹ، نگرانی اور سرٹیفکیٹ ری نیو کروانے کا فول پروف نظام قائم ہے ٭…حلال تصدیق کے صحت کے حوالے سے کئی فوائد ہیں ٭…حلال کا سرٹیفکیٹ دینے کے بعد ہم مختلف اوقات میں معاینوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں


شیخ ہاشم ابراہیم:
جی! میں عرض کر چکا ہوں۔ دراصل جوں جوں مسلمانوں میں عملی حوالے سے دین سے دوری ہو رہی ہے، ان میں حلال و حرام کی اہمیت نہایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے: ایک وقت آئے گا جب مسلمان کھانے، پینے میں اس کی تحقیق نہیں کریں گے کہ آیا پیٹ میں اترنے والا لقمہ حلال ہے یا حرام؟

سچ تو یہ ہے وہ یہی زمانہ ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں ہمارے نوجوان بے دھڑک کسی ہوٹل میں داخل ہوتے ہیں اور پسند کی چیز کا انتخاب کر کے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے، جو کچھ میں کھا رہا ہوں اس میں کون سے اجزائے ترکیبی شامل ہیں؟ جیلاٹن تو نہیں پائی جا رہی؟ اس کا سبب فقط دینداری میں کمزوری کا آ جانا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں اس وقت علمائے کرام کا فرض صرف یہ کہہ کر پورا نہیں ہو جاتا کہ فلاں کمپنی یا فلاں چیز حلال یا حرام ہے۔ علمائے کرام پر لازم ہے ایسی کمپنیوں کے اندر جائیں، پوری تحقیق کر یں۔ دیکھیں کون سی چیز کس طرح تیار کی جا رہی ہے؟ تب کمپنیاں اعتماد کریں گی اور لوگوں کا رجوع تحقیق و تصدیق کے حوالے سے ان کی طرف ہو گا۔ ہمارے ہاں جیسے ہی اب جمعیت کسی چیز کے حرام ہونے کا فتوی دیتی ہے، کمپنیاں فوراً یوٹرن لے لیتی ہیں۔ فوراً متبادل کے لیے کوشش کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں اسی وقت علمائے کرام سے رجوع کر کے پوچھتی ہیں: آپ بتائیے اب ہم کیا کریں؟ فلاں چیز کا حلال متبادل کیا ہے؟ ہمارے ہاں ایسے ہی کردار کے باعث علماء کا ایک اعتماد اور رعب کاروباری اور درآمد و برآمد کے شعبوں پر قائم ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
حلال و حرام اجزائے ترکیبی کی تحقیق کے لیے آپ حضرات کا کیا طریق کار ہے؟

شیخ حارث الرشادی:
جب کوئی کمپنی حلال کی تحقیق و تصدیق چاہتی ہے تو وہ ’’جمعیت‘‘ کے پاس آتی ہے۔ پہلے ابتدائی پروسیجر سے گزرتی ہے۔ درخواست فارم پُر کرنا اور تعارف کروانا وغیرہ۔ وہ ہمیں شفافیت سے بتاتے ہیں کہ ہماری فلاں پروڈکٹ میں یہ اور یہ اجزائے ترکیبی استعمال ہوئے ہیں۔ وہ ہمیں صرف اجزا ہی بتاتے ہیں، پورا فارمولا نہیں۔ کیونکہ یہ راز کی بات ہوتی ہے۔ وہ لسٹ ہماری سائنس لیبارٹری میں آتی ہے۔ اجزائے ترکیبی کی تحقیق کے لیے ہمارا ایک مستقل پینل ہے۔ انہیں تمام اجزا کی آگہی حاصل ہے۔ کون سا حلال ہے، کون سا نہیں۔ مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض اجزا وہ بھی ہوتے ہیں، جو کسی دوسرے ملک سے منگوائے جاتے ہیں۔ ان سے متعلق ہم پتا چلاتے ہیں کہ اُس ملک کے مفتیان کرام اور سائنسدانوں نے اس جزوِ ترکیبی کے بارے میںکیا فیصلہ دیا ہے۔ ہم فوری طور پر فون کر کے معلوم کرتے ہیں۔ اگر ہمیں پتا چلے کہ یہ حلال نہیں تو ہم کمپنی والوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں اس کا جائز متبادل موجود ہے، اسے استعمال میں لے آئیں۔ اگر ان کے بتائے ہوئے اجزائے ترکیبی تحقیق سے حلال ثابت ہو جائیں تو اس کے بعد ہم خود کمپنی میں پہنچتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ بتلائے گئے طریقے کے مطابق ان کا عملاً اور حقیقتاً استعمال بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ کمپنی کا عمل اس کے قول کے مطابق ہو تو ہم انہیں ایک سال کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں۔

ہمارے پاس اکثر کمپنیوں کے مکمل کوائف اور ان کی پروڈکٹس میں مستعمل ترکیبی اجزا کی تفصیلات موجود ہیں۔ کسی بھی کمپنی کو حلال کا سرٹیفکیٹ دینے کے بعد ہم مختلف اوقات میں معاینوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ہماری آڈٹ ٹیم بتائے بغیر کمپنی پہنچ جاتی ہے اور مصنوعات کو چیک کرتی ہے۔ ہر کمپنی کو ایک سال کے بعد سرٹیفکیٹ ’’ری نیو‘‘ کروانا پڑتا ہے۔’’ری نیو‘‘ کرنے میں پہلے والا طریقہ دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
آپ جس دوسرے ملک کی کمپنی سے تصدیق کے لیے رابطہ کرتے ہیں، وہ کمپنی آپ کا مکمل تعاون کرتی ہے؟

شیخ حارث الرشادی:
دیگر ممالک کی حلال کونسل اور مختلف ممالک کے حلال تصدیق کے اسلامی اداروں، مثلا: ’’SANHA‘‘ (ساؤتھ افریقہ) سے رابطہ کرتے ہیں، ان سے خصوصی تعلقات کی وجہ سے کوئی مشکل نہیں رہتی۔

شریعہ اینڈ بزنس:
جمعیت العلما کا ادارہ برائے حلال کسی اور حلال اتھارٹی کے ادارے سے منسلک ہے؟ مثلاً: SANHA اور آپ کا کسی معاملے میں عملی اشتراک ہو؟

شیخ حارث الرشادی:
نہیں! ایسا نہیں ہے۔ نہ ہی اشتراک عمل ہے اور نہ ہماری تصدیق کا دائرہ کار کسی اور ملک تک وسیع ہے۔ صرف بعض اوقات ان اداروں سے رابطہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ ان کی رائے معلوم کی جا سکے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
آپ نے ذکر کیا کہ ’’حلال‘‘ سے متعلق آپ کا کام عوام الناس کے، صحت کے مسائل کا بھی ایک بڑا حل ہے، مگر اس کے باوجود آپ کو بدھسٹوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کیوں ہے؟

شیخ ہاشم ابراہیم:
صرف صحت نہیں، کئی اور حوالوں سے بھی ملک اور قوم کو اس کے فوائد ہیں۔ ہمارے خیال میں مخالفت کی وجہ سوائے عناد کے کچھ نہیں۔ ہم ان سے کہتے ہیں: کیا آپ لوگوں کو یہ فوائد نظر نہیں آتے؟ کہتے ہیں: ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بڑے فائدے ہیں، لیکن بس! تم یہ سلسلہ ختم کردو۔

شریعہ اینڈ بزنس:
بدھسٹوں کی مداخلت کی روک تھام کے لیے آپ نے کوئی اقدام کیا؟

شیخ ہاشم ابراہیم:
بدھسٹوں کے مسلسل مزاحمتی رویے سے ہم نے یہ سمجھ لیا کہ ’’حلال‘‘ کو ایشو بنا کر اس پر پابندی لگوانے میں کامیاب ہو گئے تو مزید بھی ایسی پابندیوں کا مطالبہ کریں گے۔ پردہ، مساجد اور دیگر اسلامی شعائر وغیرہ۔ اس سلسلے کی پیش بندی کے لیے ہم نے یہ کام ایک کمپنی کو تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نظم کے مطابق یہ کمپنی تمام امور انجام دے گی، تاہم شرعی فیصلہ ’’جمعیت‘‘ سے ہی جاری ہو گا۔ اہل اسلام اور دینی شعائر کی حفاظت کے دوررس مقصد کے پیش نظر ہم نے حلال کا نظام الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
کیا سری لنکا میں کوئی دہشت گرد گروپ ہے؟ اس قسم کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

شیخ ہاشم ابراہیم:
سراسر جھوٹ ہے۔ پوری دنیا کی طرح وہاں کے مسلمانوں پر بھی اسلحے کے استعمال کا الزام لگایا جاتا ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے باقاعدہ چیلنج کیا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی مسلمان کے پاس دہشت گردانہ مواد کی نشاندہی کریں، ہم مان لیں گے۔ ثبوت پیش کیجیے یا پھر باز آئیے۔ یہ بھی واضح رہے کہ تمام بدھسٹ مسلمانوں کے مخالف نہیں۔ یہ ایک خاص گروہ ہے جو پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
بدھسٹ کا وہ مخصوص گروہ کس کس طرح مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے؟

شیخ ہاشم ابراہیم:
تمام ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ گفتگو سے لے کر تحریر، فیس بک،ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا وغیرہ تک۔ ہم محسوس کرتے ہیں یہ حکومت اور مسلمانوں دونوں کی مشترکہ مخالف کوئی تیسری قوت ہے جو ہمارے اور حکومت کے مابین کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔ خود بعض ارکان پارلیمنٹ کو ہم نے یہ کہتے سنا کہ یہ گروہ کوئی جنون زدہ سا لگتا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
کیا آپ اس قسم کی کارروائیوں پر اپنا کوئی ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟

شیخ ہاشم ابراہیم:
بالکل نہیں! ہم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر کار بند ہیں: ’’واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما‘‘ (الفرقان:63) ’’اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن:775) ہماری خاموشی بھی ان کے لیے ایک بڑا جواب ہے۔ (جاری ہے)